اہم پاکستانی خبریں

پاک فوج کی عسکریت پسندوں کے خلاف پاک ۔ افغان سرحد پر کارروائیاں تیز

افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے بعد پاک ۔ افغان سرحد پر مزید امن اور استحکام دیکھنے کی امید عسکریت پسندوں کے حملوں کے تازہ سلسلے کے سبب ختم ہونے کے بعد پاکستان کی فوج نے حالیہ ہفتوں میں پاک افغان سرحد پر اپنی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاک فوج کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند گروپوں نے گزشتہ ماہ کے دوران حملوں میں کم از کم 14 پاکستانی فوجیوں کو شہید کیا، جن میں سے 3 حملے افغانستان سے داخل ہونے والے جنگجووں نے کیے۔

سنگین انسانی بحران سے نبرد آزما افغانستان کے نئے حکمران طالبان نے پاکستان کے خلاف کسی بھی حملے میں افغان سرزمین استعمال ہونے کی تردید کرتے ہیں۔

تاہم اس طرح کی یقین دہانیوں کے باوجود سرحد سے متعلق تنازعات دونوں ممالک کے تعلقات کو خراب کرسکتے ہیں جو دہائیوں سے دونوں ہمسایوں کے درمیان اختلافات کی وجہ ہیں۔

پاک فوج نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بدھ کو ہونے والی تازہ ترین جھڑپ میں 6 عسکریت پسند مارے گئے۔

پاک فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ایسے افراد کے خاتمے کے لیے آپریشنز جاری رہیں گے۔

سرحدی کارروائیوں سے واقف ایک اعلیٰ پاکستانی سیکیورٹی عہدیدار نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ‘ہم نے انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے تاکہ عسکریت پسندوں کے داخلے کو روکنا یقینی بنایا جا سکے’۔

سرحد پر پاکستان کے اندر کا وسیع علاقہ کئی دہائیوں سے حکومت کے کنٹرول سے باہر تھا، جن پر آزاد پشتون قبائل کی حکومت تھی جن کی برادریوں کے لیے اس غیر نشان زد سرحد کے دونوں طرف آنا جانا معمول کی بات ہے۔

تاہم پاکستان اس سلسلے کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے جس کا مقصد اس ناہموار علاقے کو مرکزی حکومت کے کنٹرول میں لانا، باڑ کے ساتھ سرحد کی حد بندی کرنا اور سخت بارڈر کنٹرول سسٹم کے مطابق یہاں سے آنے جانے والوں کو پابند کرنا ہے۔

شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اور سیکیورٹی اہلکار نے کہا کہ ‘باغیوں اور عسکریت پسندوں سمیت ہم ان تمام عناصر کو نشانہ بنارہے ہیں جو خطرہ ہیں’۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button