مضامینہفتہ کی اہم خبریں

پاکستان اور سعودی عرب، رفیق کار یا آلہ کار(1)

تحریر: عمران خان

ملائیشیاء کے دارالحکومت کوالالمپور میں اسلامی دنیا کے چنیدہ حکمرانوں کا مشترکہ اجلاس جاری ہے۔ جس میں تقریباً 250 سیاستدان شریک ہیں، جن میں متعدد اسلامی ممالک کے سربراہان بھی شامل ہیں۔ ملائیشیاء کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد، ترک صدر رجب طیب ایردوآن، ایرانی صدر ڈاکٹر سید حسن روحانی، امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اجلاس سے کلیدی خطاب کریں گے۔ چند روز پیشتر ان میں پانچواں نام اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا بھی شامل تھا، مگر اجلاس سے ایک روز قبل دورہ سعودی عرب کے بعد انہوں نے اس اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا، جبکہ پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ پاکستان مسلم امہ کو اکٹھا رکھنے کیلئے اس میں شریک نہیں ہو رہا۔ وزیراعظم مہاتیر محمد نے کوالالمپور کنونشن سنٹر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے سمٹ میں شرکت نہ کرنے کی اپنی وجوہات ہیں، عمران خان کا فیصلہ ان کی مرضی ہے اور ہم انہیں شرکت کے لیے مجبور نہیں کرسکتے۔ اسلام میں کوئی زور زبردستی نہیں، وہ شرکت نہیں کرسکے، شاید انہیں کچھ اور مسائل کا سامنا ہو، اجلاس میں عالم اسلام کو درپیش مسائل پر بات چیت کی جائے گی، کانفرنس میں 50 سے زیادہ ممالک کو مدعو کیا گیا، جن میں سربراہان مملکت بھی شامل ہیں۔ اس اجلاس میں مذہب اسلام پر بحث نہیں کی جائے گی بلکہ امت مسلمہ پر بات ہوگی، جو آج زیادہ سے زیادہ دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔

پاکستان اسلامی ممالک کے اس اہم اور خصوصی اجلاس میں کیوں شریک نہیں ہوا۔؟ کیا آزاد پاکستان اپنی آزاد خارجہ پالیسی ترتیب دینے پہ قادر نہیں۔؟ پاکستان نے سعودی خواہش کو مقدم رکھا ہے یا امریکی خوشنودی کو۔؟ کیا مذکورہ اجلاس او آئی سی کا نعم البدل ہوسکتا ہے؟ اگر ہاں تو کیا یہ نعم البدل مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل میں معاون و مدد گار ثابت ہوگا۔؟ او آئی سی کی مثال مردہ گھوڑے کی سی ہے یا غلط ہاتھوں میں موجود خطرناک ہتھیار کی کہ جس کے استعمال سے مسلم امہ کو تنہا کرکے مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ پاکستان اس اجلاس کے تجویز کنندہ ممالک میں شامل تھا، بیرونی دباؤ آنے پہ بھی اصولی طور پر پاکستان کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیئے تھا؟ یہ وہ سوالات ہیں کہ جن پہ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میں بحث جاری ہے۔

پاکستان اس اہم اجلاس میں کیوں شریک نہیں ہوا؟
تلخ ہی سہی مگر حقیقت یہی ہے کہ پاکستان خارجی اور اقتصادی، تجارتی یا معاشی پالیسیاں ترتیب دینے میں کبھی بھی آزاد نہیں رہا۔ حکمران ہمیشہ ہی کسی نہ کسی بیرونی قوت کے زیر اثر رہے ہیں۔ مشرف حکومت کے دوران ہی پاکستان خارجہ اور معیشت کے ساتھ ساتھ داخلہ اور تعلیمی پالیسی میں بھی بیرونی ڈکٹیشن کو مقدم رکھنے پہ مجبور ہوگیا۔ یہ اسی پالیسی کا ہی نتیجہ تھا کہ امریکہ کے کرائے کے قاتل اور دہشتگرد بلیک واٹر، ژی وغیرہ کے ایجنٹس ملک میں داخل ہوئے اور انہوں نے ٹارگٹ کلنگ، دہشتگردی کے سلیپر سیل اس طرح تشکیل دیئے کہ آج بھی وطن عزیز کے عوام گلی چوراہوں سے آئے روز لاشیں اٹھا رہے ہیں۔ کئی طرح کے سرچ، اسٹرائیکس اور کومبنگ آپریشنز کے باوجود بھی دہشتگردی کی کارروائیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ پرائمری سکولز اور مدارس سے لیکر کالجز کے نصاب میں بتدریج تبدیلی کا عمل جاری ہے۔ اسلام امن پسندی اور انسانیت کا درس دیتا ہے، کی تاکید مسلسل جبکہ جہاد اور ظلم کے خلاف جہاد بالسیف کا درس مسلسل ختم کیا جا رہا ہے۔ مشرف دور میں ہی پاکستان امریکہ کی زیردستی سے سعودی عرب کے اثر میں آیا۔

اس معاملے کو پاکستانی وزارت خارجہ کے سابق سیکرٹری جنرل و سینیٹر محمد اکرم ذکی مرحوم نے اپنی ایک تقریر اور ایک تحریر میں کچھ یوں بیان کیا ہے۔ امریکہ نے مشرق وسطیٰ اور ایشیاء میں اپنی خارجہ پالیسی مرتب کرنے کا تکلف ہی چھوڑ دیا ہے۔ وہاں اس نے اسرائیل کے ساتھ ایسے تعلقات پروان چڑھائے ہیں کہ اسرائیل کی پالیسی کو ہی امریکی پالیسی قرار دیا گیا ہے، امریکہ کے زیر اثر ممالک کو سمجھا دیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کی پالیسی کو ہی فالو کریں، یہی امریکی پالیسی ہے جبکہ ایشیاء میں یہی تعلقات امریکہ نے بھارت کے ساتھ پروان چڑھائے۔ پاکستان کو بھی کہا گیا کہ جو گائیڈ لائن آپ کو امریکہ سے ملتی تھی، وہ اب آپ بھارت سے لیں گے، مگر پاکستان اس کیلئے تیار نہیں ہوا۔ پاکستان نے امریکی بالادستی تو قبول کی تھی، مگر وہ امریکہ والا کردار بھارت کو دینے پہ رضامند نہیں تھا اور اس مسئلہ پہ امریکہ پاکستان کے مابین تلخی بھی ہوئی، مگر بہرحال پاکستان اپنی یہ بات منوانے میں کامیاب ہوا کہ وہ بھارت کو امریکہ والا درجہ نہیں دیگا، جس کے بعد سعودی اثر زیادہ تیزی سے غالب آنا شروع ہواباالفاظ دیگر امریکہ پاکستان کو جو ڈکٹیشن بھارت کے ذریعے دینا چاہتا تھا، وہی ڈکٹیشن وہ اب سعودی عرب کے ذریعے دے رہا ہے۔

سعودی عرب اور پاکستان میں مضبوط تعلق اسلام نہیں بلکہ امریکہ ہے، وگرنہ اسلام والا تعلق تو افغانستان کے ساتھ بھی تھا، مگر اس کے خلاف پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیا۔ اسلام والا تعلق ایران کے ساتھ بھی ہے، مگر محض امریکی ناراضگی کے پیش نظر پاکستان نے آج تک پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل کے بارے میں سوچا تک نہیں، حالانکہ ایک مرتبہ برادر اسلامی ملک اپنے معاشی مسائل کے باوجود پاکستان کو تمام تر جرمانہ معاف بھی کرچکا ہے۔ اسی طرح اسلامی ملک یمن پہ چڑھائی کیلئے سعودی عرب کی سربراہی میں جو کثیر الملکی اتحاد تشکیل دیا گیا، اس کی کمانڈ پاکستان کے آن ڈیوٹی آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو آفر کی گئی اور ان کی ریٹائرمنٹ کے فوری بعد ہی انہیں بیرون ملک نوکری کیلئے خصوصی این او سی جاری کیا گیا۔ پھر ایک طرف یمن پہ چڑھائی کیلئے تکنیکی اور تربیتی معاونت کی گئی تو دوسری جانب حملہ آور سعودی عرب کے دفاع کے نام پہ باقاعدہ فوج بھی دی گئی، حالانکہ یمن ایک اسلامی ملک ہے۔ افغانستان، ایران، یمن جہاں جہاں پاکستان نے اپنے حصے کا کردار ادا کیا، وہ امریکی مفادات کے تحفظ پہ مبنی ہے نہ کہ اسلام یا عالم اسلام کی ترویج و ترقی کیلئے۔ سعودی عرب اور پاکستان کے مابین مراتب کے فرق کا پیمانہ بھی امریکی قربت ہی ہے۔ چھوٹے اور بڑے رفیق کار یا آلہ کار کا فرق۔ جو امریکہ کا جتنا بڑا خدمتگار، وہی اتنا معتبر و معزز۔

پاکستان اپنی کمزور معیشت، خائن لیڈر شپ، جمہوری عدم تسلسل اور اداروں میں بیرونی بالخصوص (امریکی) اثر و نفوذ کے باعث چاہ کر بھی امریکہ یا سعودی عرب کے اثر سے آزاد کوئی بھی پالیسی اختیار کرنے پہ قادر نہیں۔ معیشت کو سنبھالنے کیلئے عارضی طور پر ملنے والے قرضہ جات، جو کہ امداد کے نام پہ ملتے ہیں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے ذریعے ملکی معیشت کو وقتی سنبھالا دیتے ہیں، دراصل یہ امداد، بیل آؤٹ پیکج وفاداری، مفادات کی محافظت کی قیمت ہوتے ہیں یا انہیں خدمات کا معاوضہ کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔ یہ خارجہ پالیسی بیرونی ڈکٹیشن کے تابع رہنے کا ہی اظہار ہے کہ سعودی عرب نے جب یمن پہ حملہ کیلئے کثیر ملکی اتحاد تشکیل دیا تو پاکستان کو اطلاع دیئے بغیر اور اس کی مرضی و منشاء معلوم کئے بغیر ہی اس کا جھنڈا اس کثیر الملکی اتحاد میں شامل رکھا اور پاکستان اس اتحاد کی تشکیل سے لاعلمی کے اظہار کے باوجود بھی اتنی جرآت ظاہر نہ کر پایا کہ خود کو اس اتحاد سے الگ قرار دے۔ دوسری جانب کوالامپور سمٹ کا فکری بانی ہونے کے باوجود بھی محض ایک "NO” کے جواب میں کسی بھی سطح پہ اس اہم اجلاس میں شرکت نہیں کرسکا۔ یعنی پاکستان آزاد ملک ہے، مگر اتنا بھی آزاد نہیں کہ اپنی خارجہ پالیسی اپنی مرضی اور آزادی سے ترتیب دے۔

قبل ازیں سعودی عرب کی ذیلی ریاست ہونے کا ایک تاثر اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران پاکستانی وزیراعظم کی تقریر اور اس کے بعد آنے والے سعودی ردعمل میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ سعودی شہزادے نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں جانے کیلئے عمران خان کو اپنا ذاتی طیارہ ادھار دیا، مگر وہاں وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے عمران خان نے جو تقریر کی، جو کہ امریکی پالیسیوں کی مذمت و مخالفت میں تھی، اس پہ اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے سعودی شہزادے نے راستے سے ہی اپنا طیارہ واپس منگوا لیا اور وزیراعظم عمران خان شیڈول پرواز کے ذریعے وطن واپس پہنچے۔ کوالامپور سمٹ میں عدم شرکت کے پاکستانی اعلان کے ساتھ ہی حکومت اور میڈیا کی جانب سے مسلسل یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ سعودی تحفظات اور سعودی ناگواری کو ملحوظ رکھتے ہوئے پاکستان اس میں شریک نہیں ہوا۔ یعنی اس مرتبہ بھی امریکہ نے اپنی ناراضگی اور ناپسندیدگی کے اظہار کیلئے سعودی عرب کا استعمال کیا ہے۔ آپ ترقی پذیر ممالک بالخصوص اسلامی ممالک کے حالات و واقعات کا جائزہ لیں، ہر اس اقدام کی سعودی عرب کی جانب سے مخالفت نظر آئیگی کہ جن سے امریکی مفادات کو خطرہ ہو۔ جنوبی ایشیاء میں بھی تسلسل کیساتھ سعودی مخالفت یا اسلام مخالفت کا کارڈ بڑی خوبصورتی کے ساتھ اب بھی کھیلا جا رہا ہے۔

جہاں جہاں بھی ایران سمیت کسی بھی ملک نے امریکی مفاد کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، وہاں وہاں سعودی عرب اس موقف کے ساتھ میدان میں آیا کہ اس عمل سے اس کے مفادات کو خطرہ ہے۔ مطلب امریکہ اسلامی دنیا میں اپنے مفاد کا تحفظ اسلام یا سعودی عرب کے مفاد کی دیوار کے پیچھے چھپ کر کرتا آرہا ہے۔ کوالالمپور سمٹ سے متعلق بھی یہی راگ الاپا گیا کہ سعودی عرب اس سمٹ کو او آئی سی کے متبادل فورم کے طور پر دیکھتا ہے۔ اسلامی ممالک کا یہ اجتماع مسلم دنیا میں سعودی عرب کے کردار کو کم کرے گا۔ مسلم امہ کے مسائل پہ بات چیت کیلئے یہ فورم مناسب نہیں، وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ کوالامپور سمٹ کو سعودی عرب سے زیادہ امریکہ اپنے مفادات کے خلاف دیکھتا ہے۔ اس سمٹ میں بنیادی خرابی ہی یہی تھی کہ اس میں اسلامی دنیا کے وہ ممالک شامل ہیں کہ جو یا تو امریکہ کے مخالف ہیں، یا امریکی پالیسیوں سے عدم اتفاق کی بناء پہ آزاد پالیسی کی تشکیل کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، یا کم سے کم امریکی مفاد پہ اپنے مفادات قربان کرنے سے انکاری ہیں۔

اس سمٹ میں ایک بھی ایسا ملک شامل نہیں کہ جو پاکستان یا سعودی عرب کی طرح کلی طور پر امریکہ یا اس کے کسی اتحادی کے اثر میں ہو۔ اب امریکہ جو کہ سعودی عرب کے ذریعے اسلامی دنیا سے اپنا مفاد نچوڑ رہا ہے، اس کو ہرگز یہ گوارا نہیں کہ کوئی ایسا فورم وجود میں آئے، جو اسلامی دنیا کے حقیقی مسائل کے حل میں رہبرانہ کردار ادا کرسکے یا دنیائے اسلام کے ضعیف ممالک کو اپنے قدموں پہ کھڑا کرنے میں معاون ہو۔ اس کے باوجود کہ امریکہ نے مسئلہ کشمیر پہ بھارت کا ساتھ دیا اور اس مسئلہ کو الجھانے میں بھارت کی بھرپور مدد کی، جبکہ سعودی عرب نے بھی مسئلہ کشمیر پہ پاکستان کے موقف کو نظرانداز کیا، پھر بھی پاکستان نے ان کی ناراضگی کے پیش نظر اپنے ہم خیال اور بااعتبار دوستوں کے مشترکہ پلیٹ فارم کو چھوڑا کہ جہاں سے وہ کشمیر کا مقدمہ زبردست طریقے سے اسلامی دنیا کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں پیش کرسکتا تھا۔

ملکی تاریخ میں پہلا ایسا عالمی پلیٹ فارم پاکستان کو میسر آیا تھا کہ جس کے سرکردہ ممبران مسئلہ کشمیر پہ واضح اور دوٹوک انداز میں پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے۔ کشمیر میں حالیہ ظلم وستم اور بھارت کے ریاستی جبر و استبداد کے خلاف ایران کی اسمبلی میں نہ صرف قرارداد پیش ہوئی بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم کمانڈر رہبر سید علی خامنہ ای نے بھی کشمیر پہ بھارتی تسلط اور تشدد کی پالیسی پہ اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی پالیسی بدلے۔ اسی طرح ترکی اور ملائیشیا نے پاکستان کا ببانگ دہل ساتھ دیا۔ ملائیشیا نے اعلانیہ کہا کہ بھارت نے کشمیر پہ حملہ اور قبضہ کیا ہوا ہے۔ جس پہ بھارت نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور پام آئل کی صورت اربوں کی تجارت معطل کی، مگر اس کے باوجود ملائیشیا اپنے بیان سے پیچھے نہیں ہٹا۔ اس کے مقابلے میں عرب امارات نے تو عین اس وقت مودی کو سب سے بڑے سول اعزاز سے نوازا کہ جب کشمیریوں پہ دائرہ حیات تنگ کیا جا چکا تھا۔ باالفاظ دیگر پاکستان نے بیرونی آقاؤں کی خوشنودی کی خاطر اپنے مفادات اور اپنے ہم خیال، بااعتبار دوستوں کا تعاون ہمیشہ ہمیشہ کیلئے کھو دیا ہے۔

کوالالمپور سمٹ او آئی سی کا متبادل ہے۔؟ یا متبادل بننے کی سکت رکھتا ہے۔؟
اس سوال کے جواب کھوجنے سے قبل ہمیں یہ تجزیہ ضرور کرنا چاہیئے کہ کیا موجودہ او آئی سی وہی او آئی سی ہے کہ مخصوص اغراض و مقاصد کے تحت جس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ یا یہ وہ او آئی سی ہے کہ جو اپنے بانی رہنماؤں کے قاتلوں کے ہاتھوں میں یرغمال ہے اور اپنے اغراض و مقاصد سے ایک سو اسی ڈگری پہ سفر کرتے ہوئے اغیار کے مفادات کی محافظت انجام دے رہی ہے۔ ہمیں یہ ضرور دیکھنا ہوگا کہ او آئی سی کا قیام کن مقاصد کے تحت عمل میں آیا تھا اور اس تنظیم سے کن طاقتوں نے خطرہ محسوس کیا۔ لاہور کی شاہی مسجد میں ایک ساتھ نماز ادا کرنے والے امت مسلمہ کے حکمرانوں کا کیا انجام ہوا۔؟ اور کیسے قاتلوں کے ہاتھوں میں عالم اسلام کے اس اکلوتے پلیٹ فارم کی باگ ڈور دی گئی۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close