پاکستانی شیعہ خبریںہفتہ کی اہم خبریں

پاراچنار، مدرسہ جعفریہ میں کرم بھر کے علمائے کرام کا اہم اجلاس

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) آج مورخہ 3 دسمبر بعد از نماز جمعہ مدرسہ جعفریہ پاراچنار میں زیر سرپرستی پیش امام مرکزی جامع مسجد شیخ فدا حسین مظاہری علمائے کرام کی ایک جامع میٹنگ کا انعقاد ہوا۔ جس میں کرم کے سرکردہ اور بزرگ علماء نے شرکت کی۔ پاراچنار سے ٹیلی فون پر تفصیلات پیش کرتے ہوئے ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ پیش امام علامہ فدا حسین مظاہری نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے میٹنگ کا ایجنڈا پیش کیا اور کہا کہ کرم کے حالات آئے روز خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ جس کے سدباب کے لئے ہر سطح پر تیاری کی ضرورت ہے، جبکہ تیاری کا راز ہمارے باہمی اتحاد میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے اس اہم میٹنگ میں بزرگ عالم دین علامہ سید عابد الحسینی کی خصوصی شرکت کو نہایت خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے میٹنگ میں شریک علمائے کرام سے اپیل کی کہ کرم بھر میں اتحاد و یگانگت کی فضا کے قیام میں خصوصی تعاون کریں۔

پیش امام کے مختصر خطاب کے بعد مجلس علمائے اہلبیت کے صدر علامہ سید صفدر علی شاہ نجفی نے کہا کہ میٹنگز، بات چیت اور تجاویز کی حدود سے نکل کر، عملاً کام کرنے پر توجہ دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ علمائے کرام پر خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اجتماعات میں عوام کو اتحاد و یگانگت اور نئے حالات سے نمٹنے کے لئے تیار رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی حقوق کے حصول کے لئے دھرنوں اور پرانی سوچ اور افکار کی بجائے نیا لائحہ عمل تیار کرنا چاہیئے۔

علامہ سید عابد حسین الحسینی کا کہنا تھا کہ ہماری سب سے بڑی کامیابی اتحاد میں مضمر ہے۔ ہر قسم کے حالات کے لئے ہمیں خود کو تیار رکھنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ 90 کی دہائی میں مرکز سے شہید ملت علامہ سید عارف الحسینی، مرحوم علامہ شیخ علی مدد اور وہ خود گاؤں گاؤں جا کر عوام کی فکری بیداری اور اتحاد و یگانگت کے لئے دن رات کام کیا کرتے تھے، جس کا بہت اثر ہوا کرتا تھا۔ اب بھی ہمیں چاہیئے کہ علماء کے وفود بنا کر گاؤں گاؤں جا کر تبلیغ کریں اور لوگوں کو بیدار کریں۔ مولانا الطاف حسین کا کہنا تھا کہ ہمیں کسی صورت میں جارحیت نہیں کرنا چاہیئے، کیونکہ ان کا ایک تجربہ ہے کہ کرم میں جس کسی نے، جب بھی کوئی جارحیت کی ہے، وہ ذلیل و رسوا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ہر فورم پر اپنی مظلومیت و محرومیت کی آواز بلند کرنی چاہیئے، اپنی مظلومیت کی آواز کو حکام بالا تک پہنچانا ہوگا اور ساتھ ہی اتحاد کی فضا کا قیام عمل میں لانا ہوگا۔

یہ خبر بھی پڑھیں محسن ملت علامہ سید صفدر حسین نجفیؒ کی قرآنی خدمات

حاجی سردار حسین سیکرٹری انجمن حسینیہ کا کہنا تھا کہ ہم نے ہر فورم پر اپنے حقوق کی جنگ لڑی ہے اور ہر سطح پر اپنی مظلومیت بیان کی ہے۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ حکومت ہماری جائز آواز بھی سننا پسند نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ پیواڑ کے حوالے سے ہم نے شروع سے لیکر آج تک ہمیشہ سے نہایت صبر کا مظاہرہ کیا ہے اور حکومت سے ہر سطح پر تعاون کیا ہے۔ تاہم حکومت نے مخالف فریق سے ہمارا ایک بھی مطالبہ منوانے کی کوشش تک نہیں کی ہے، بلکہ انہیں بے مہار چھوڑ کر اپنی من مانی کرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ انہیں ایک قدم پیچھے ہٹانے پر کبھی توانائی صرف نہیں کی۔ ہم نے حکومت پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے مسائل کو قانون پاکستان کے مطابق حل کرنے کا مکمل واک و اختیار دیا ہے، جبکہ مخالف فریق نے قانون کو لات مار کر ہمیشہ سے حکومت کو مذاکرات میں لگا کر پس و پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ حکومت حیلے بہانوں سے مسائل کو ہمیشہ ڈھیل ہی دیتی رہتی ہے، تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ فراموش ہو جائیں۔

تحریک حسینی کے صدر عابد حسین جعفری کا کہنا تھا کہ حکومت کو سب کچھ علم ہے۔ کرم میں افراتفری پھیلانے والوں کا بھی بخوبی علم ہے۔ دھماکے کرانے والوں کا بھی پتہ ہے۔ حالات خراب کرنے والوں کا بھی بخوبی علم ہے۔ سالوں سے پیش آنے والے واقعات کا ریکارڈ بھی سرکار کے پاس موجود ہے۔ اس کے علاوہ ریونیو ریکارڈ واضح ہے۔ ہر قبیلے بلکہ ہر شخص کا اپنا ریکارڈ حکومت کے پاس موجود ہے۔ مگر بات یہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ سے ایک فریق کا کردار ادا کیا ہے۔ چنانچہ ہمیں اب بیدار ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ علماء کی ایک مشترکہ کمیٹی بنائی جائے، جو گاؤں گاؤں جا کر بیدارئ عوام مہم چلائیں۔ میٹنگ میں موجود علمائے کرام نے علامہ فدا مظاہری کی اس کوشش کو سراہتے ہوئے کہا کہ بزرگ علماء خصوصاً بانی مجلس علامہ فدا مظاہری اور علامہ سید عابد الحسینی کے ہر فیصلے پر لبیک کہتے ہوئے اسے عملی جامہ پہنانے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی جائے گی۔

رپورٹ: قندیل عباس زیدی

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button