دنیا

صدر ٹرمپ مواخذے کے مقدمے سے بری مگر جمہوریت کے لیے خطرہ

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) امریکہ میں کئی ماہ سے جاری چپقلش اور کھینچا تانی کے بعد آخر کار سیینٹ کی عدالت نے جس میں ری پبلکن کی اکثریت ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایوان نمائندگان کی جانب سے لگائے جانے والے تمام الزمات سے بری کردیا۔

بدھ کی شام سینٹ میں کرائی جانے والی رائے شماری کے دوران باون سینیٹروں نے ٹرمپ پر اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق الزامات کی مخالفت کی جبکہ ترپن ارکان نے کانگریس کی تحقیقات میں روکاوٹیں ڈالنے کے الزامات کو بھی مسترد کردیا۔

پورے عمل کے دوران صرف ایک ری پبلکن سینیٹر مٹ رومنی ایسے تھے جنہوں نے ٹرمپ کے خلاف ووٹ دیا اور وہ بھی اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں ٹرمپ کے مواخذے کے حق میں تھے۔

اس طرح یوکرینی صدر کے ساتھ ٹیلی فونی مکالمے کے انکشاف کے بعد شروع ہونے والا یہ ہنگامہ، جو ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کے مواخذے کے مطالبے کی صورت میں سامنے آیا تھا سینیٹ کی جانب سے ٹرمپ کو کلین چٹ دیے جانے پر ختم ہوگیا۔

ٹرمپ نے جمعرات کی صبح اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ وہ جمعے کو عوام سے خطاب اور اس چیز کے بارے میں بات کریں گے جسے انہوں نے ملک کے لیے عظیم فتح قرار دیا ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان کی سربراہ نینسی پیلوسی نے سیینٹ سے ٹرمپ کو کلین چٹ دیے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا ہے کہ ٹرمپ امریکی جمہوریت کے لیے بدستور خطرہ ہیں۔

سینٹ میں اقلیتی دھڑے کے سربراہ چک شومر نے امریکی صدر کے مواخذے کے طریقہ کار پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ جواب دھی سے اپنی جان نہیں چھڑا پائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ قصور وار ہیں اور اس کا دفاع کرنے والی ٹیم کی بہانے بازیاں انتہائی مضحکہ خیز ہیں۔

چک شومر کا کہنا تھا کہ سینیٹ کے اکثریتی دھڑے نے، عدالتی کمیٹی کو گواہوں کے بلانے کا حق نہیں دیا اور یہ پہلی بار ہے جب گواہوں کو گواہی دینے سے روکا گیا ہے لہذا ٹرمپ کا مواخذہ مضحکہ خیز اور حقائق سے کوسوں دور ہے۔

انہوں نے ری پبلکن ارکان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے حقائق کو سننے کی کوشش ہی نہیں کی اور یہ امریکی جمہوریت کے لیے بدترین دن ہے۔ امریکی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا جب کسی صدر کو اپنے دور صدارت میں اور وہ بھی صدارتی انتخابات سے کچھ عرصہ قبل مواخذے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

البتہ ڈیموکریٹس کو امید ہے کہ ٹرمپ کے مواخذے کے دوران سامنے آنے والے انکشافات کے نتیجے میں امریکی رائے عامہ صدر کی قانون شکنی اور غیر قانونی اقدامات سے زیادہ سے زیادہ آگاہ ہوں اور انتخابات میں ان کے خلاف ووٹ دیں گے۔

اس کے مقابلے میں ری پبلکن پارٹی کو پوری توقع ہے کہ ٹرمپ کے مواخذے میں ڈیموکریٹ کی ناکامی کے نتیجے میں ان کی حمایت میں اضافہ ہوگا اور ڈونلڈ ٹرمپ دوہزار سولہ کے انتخابات سے کہیں زیادہ بھاری ووٹوں سے کامیابی حاصل کریں گے۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close