مشرق وسطیہفتہ کی اہم خبریں

سعودی عرب دہشت گردوں کی پشت پناہی میں ملوث ہے، وزارت انٹیلی جینس

شیعہ نیوز : ایران کی وزارت انٹیلی جینس نے دہشت گرد گروہ حرکت النضال کے سعودی انٹیلی جینیس کے ساتھ براہ راست رابطوں سے متعلق شواہد اور دستاویزات جاری کر دیئے ہیں۔

ایران کی وزارت انٹیلی جینس نے پچھلے دنوں اعلان کیا تھا کہ اس نے سن دو ہزار اٹھارہ کے دہشت گردانہ حملے میں ملوث دہشت گرد گروہ حرکت النضال العربی لتحریر الاحواز (ASMLA) کے سرغنہ فرج اللہ چعف کو گرفتار کرلیا ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ پچھلے چند برس کے دوران مذکورہ دہشت گرد گروہ کے سرغنہ نے کئی بار تہران اور خوزستان میں دہشت گردی کی کوشش کی ہے جسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔

ایران کی وزارت انٹیلی جینس کے مطابق حرکت النضال سعودی عرب اور اسرائیل کے خفیہ اداروں کی براہ راست نگرانی میں کام کرتا ہے اور گرفتاری کے عالمی وارنٹ جاری ہونے کے باوجود اس گروپ کے سرکردہ عناصر یورپی ملکوں سے ایران کے خلاف دہشت گردانہ کاروائیوں کی کمان کر رہے ہیں۔

حرکت النضال کے سرغنہ فرج اللہ چعف نے اپنے ایک انٹرویو میں ایران کے انٹیلی جینس اداروں کے ہاتھوں اپنی گرفتاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم شروع ہی سے سعودی عرب کی انٹیلی جینس کے ساتھ رابطے میں تھے اور ہماری متعدد میٹنگیں بھی ہو چکی ہیں۔

قبل ازیں امریکہ کی حکمران جماعت کے سیئنیئر رکن اسٹیو کنگ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سن دوہزار سترہ میں الاحوازیہ گروپ کے ایک سرغنہ کریم عبدیان نے واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔ حرکت النضال، جبہت العربیہ اور حزب النضہ نامی تینوں گروپ، الاحوازیہ نامی دہشت گرد گروہ کا حصہ ہیں اور اس کے زیادہ تر ارکان اور سرغنہ ہالینڈ، ڈنمارک اور سوئیزر لینڈ میں مقیم ہیں۔

دہشت گرد گروہ الاحوازیہ نے بائیس ستمبر دو ہزار اٹھارہ کو مسلح افواج کے قومی دن کے موقع پر ہونے والی فوجی پریڈ دیکھنے والوں پر حملہ کر دیا تھا جس میں پچیس افراد شہید اور ساٹھ زخمی ہو گئے تھے۔

ایران اب تک سعودی عرب، اسرائیل امریکہ اور بعض یورپی ملکوں کی انٹیلی جینس ایجنسیوں کی لاتعداد سازشوں اور دہشت گردانہ اقدامات کا سامنا کرتا آیا ہے۔ ڈنمارک کی پولیس نے بھی حال ہی میں بتایا تھا کہ اس نے حرکت النضال کے تین ارکان کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کر دی ہے۔ یہ افراد سعودی عرب کے ایک خفیہ ادارے کے تعاون سے ایران میں دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی اور فنڈنگ میں ملوث تھے۔ ڈنمارک کی وزارت خارجہ نے دہشت گرد گروہ الاحوازیہ کی حمایت کے سبب سعودی سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب بھی کیا تھا۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close