مشرق وسطی

سعودی حکومت ’’ خطے میں امن و امان کا قیام‘‘ تہران سے سیکھے، ہشام شرف

شیعہ نیوز: یمنی وزیر خارجہ ہشام شرف نے اردن میں تعینات سعودی سفیر کی جانب سے یمنی عوام کی امداد کے بارے جاری ہونے والے بیان پر بھرپور ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

یمنی سرکاری خبررساں ایجنسی سبأ کے مطابق ہشام شرف نے نائف بن بندر السدیری کے بیان کو اس بات کے اظہار کی ناکام کوشش قرار دیا کہ سعودی عرب امریکی سیاست اور احکامات کو لاگو کرنے کے لئے جزیرۃ العرب اور خلیج فارس کے اندر اب بھی پولیس کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

یمنی وزیر خارجہ نے تاکید کی کہ ’’سعودی سربراہی میں بننے والے عالمی فوجی اتحاد‘‘ کو گذشتہ 6 سالوں سے یمن کے اندر صرف یہی ایک کامیابی مل سکی ہے کہ اس نے یمنی عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے قتل عام اور یمن کے انفراسٹرکچر کو تباہ و برباد کر کے یہاں تاریخ کے سب سے بڑے انسانی المیے کی بنیاد رکھنے کے لئے ممنوعہ ہتھیاروں سمیت امریکہ و مغربی ممالک کے پیشرفتہ ترین فوجی زرادخانوں کا بھرپور استعمال کیا ہے۔

ہشام شرف کا کہنا تھا کہ امریکہ و اسرائیل کا صف اوّل کا اتحادی ریاض جو ایرانی اثرورسوخ اور اسکی بڑھتی طاقت کے ساتھ مقابلے کے بہانے سے یمن کے خلاف اس وقت تک اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے، اب امتِ مسلمہ کو مزید فریب دینے کے قابل نہیں رہا۔

یمنی وزیر خارجہ نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ سعودی فوجی اتحاد نے نہ صرف گذشتہ 6 سالوں سے یمنی عوام کے خلاف سخت ترین سرحدی محاصرہ جاری ہوا ہے بلکہ اس نے یمنی معیشت کو برباد کر کے یمنی عوام کو بھوک و افلاس کا شکار بنا دینے کی مذموم سیاست بھی اپنا رکھی ہے، کہا کہ سعودی عرب یمن میں ایران سے آنے والے اسلحے سے متعلق اپنے بے بنیاد الزامات کو تاحال ثابت نہیں کر پایا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یمن کو کسی بھی فریق کی سرپرستی قبول نہیں، کہا کہ سعودی شاہی حکام کو چاہئے کہ وہ ایک آزاد و خودمختار ملک یمن کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز آ جائیں!

یمنی وزیر خارجہ نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ مستعفی یمنی حکومت اب ایک ایسی حکومت میں بدل چکی ہے جس کے اراکین ریاض سمیت دنیا بھر کے ممالک کے دارالحکومتوں میں قائم مہنگے ترین ہوٹلوں میں قیام پذیر اور بیگناہ یمنی عوام کے بہتے خون کی قیمت پر عیش و عشرت میں مصروف ہیں۔ ہشام شرف نے مزید کہا کہ سعودی حکام اب بھی خطے کے امن و امان کے بارے بات کرتے ہیں جبکہ ان کے منہ سے ایسی بات کا نکلنا انتہائی مضحکہ خیز ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں امن و امان استحکام کا قیام؛ خطے کے ممالک کو لاحق نام نہاد ایرانی خطرے” کا ڈھونگ پیٹنے کے بجائے پرامن بقائے باہمی، ہمسایہ ممالک کو برداشت کرنے اور ان کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کے رستوں پر غور” کا تقاضا کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سعودی حکام کو خطے میں امن و امان کے قیام کا طریقہ تہران سے سیکھنا چاہئے۔ ہشام شرف نے کہا کہ ایران نے خلیج فارس میں امن و امان اور استحکام لانے کے لئے اپنے ہرمز امن منصوبے (Hormoz Peace Initiative) کو عملی جامہ پہنایا ہے۔

انہوں نے اپنی گفتگو کے آخر میں سعودی عرب کو خطے کے اندر امریکہ کی کٹھ پتلی حکومت کا طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ سعودی شاہی حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنی نئی سیاسی و سفارتی چالوں کو وائٹ ہاؤس میں نئے امریکی صدر کے آ جانے تک روک کر رکھے اور اپنے ہر ایک قدم کو انصاف اور امن و امان کے قیام کے رَستے میں اٹھائے۔

واضح رہے کہ اردن میں سعودی سفیر نائف بن بندر السدیری نے اتوار کے روز روسی خبررساں ایجنسی اسپتنک کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں ایران پر ہمیشہ کے بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ ریاض تمام یمنی گروہوں کو انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کر رہا ہے۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close