انٹرویو

کرم کی تازہ صورتحال پر سابق سینیٹر علامہ سید عابد الحسینی کا سنسنی خیز انٹرویو

سوال:علامہ صاحب! گذشتہ دنوں پیواڑ میں ہونیوالے تصادم کا اصل سبب کیا ہے۔؟
علامہ سید عابد الحسینی: تاریخی نیز سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس پورے علاقے میں مالک اور مزارعے، جسے ہم مقامی زبان میں مسایہ یا ہمسایہ کہتے ہیں، کا تعین کیا گیا ہے۔ پورا ریکارڈ سرکار کے ہاتھ میں ہے کہ یہ علاقہ کس کا ہے۔ تاہم یہاں ہم مختصراً عرض کریں کہ پیواڑ کے شمال میں سوختنی درختوں کے گھنے جنگل پر مشتمل ایک پہاڑی درہ ہے، جسے گورگت کہتے ہیں۔ اس پر کئی سال سے پیواڑ کے علی زئی، غنڈی خیل اور گیدو کے منگل قبائل کے مابین مسئلہ چلا آرہا تھا۔ اگرچہ کاغذات میں سب کچھ واضح ہے، تاہم اس وقت ایجنسی ہونے کے ناطے اے پی اے کی عدالت میں مقدمہ درج ہوا۔ جہاں واضح ہے، فیصلہ طوریوں کے حق میں ہوا۔ مگر مبینہ طور پر منگلان نے یہ فیصلہ قبول نہ کیا، تو انہوں نے آگے کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ وہاں بھی طوریوں کے حق میں فیصلہ ہوگیا۔ فیصلے کے بعد طوریوں نے اپنے پہاڑ سے لکڑی کاٹنے کا ارادہ ظاہر کیا تو منگلان نے دھمکی دی، نیز سرکار نے بھی طوریوں کو اپنے حق سے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے انہیں منع کیا، مگر انہوں نے ٹریکٹر لے جا کر لکڑیاں کاٹیں۔

تاہم ہوا یوں کہ راستے میں منگلان کی جگہ حکومت ہی نے گاڑیوں کو روکا۔ اس دوران اگرچہ کوئی خاص مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ تاہم آئندہ لکڑی کاٹنے سے انہیں روکے رکھا کہ تم لوگ صبر کرو۔ مسئلے نے طول پکڑا اور کافی عرصہ بعد ہفتہ 23 اکتوبر 2021ء کو طوری قبائل جب دوبارہ پہاڑ پر گئے۔ تو لکڑی کاٹ کر کچھ جانور صحیح سلامت جنگل سے نکل آئے۔ مگر راستے میں گیدو پوسٹ کے محرر، جسکا تعلق بھی گیدو سے ہے، نے پولیس کے ساتھ انکا راستہ روکا۔ اس دوران پیواڑ کے کچھ عمائدین سلطان حسن وغیرہ بھی پہنچ گئے، مگر پہلے سے مرتب منصوبے کے تحت محرر نے اپنے افراد کو بلایا اور بحث و تکرار کے دوران کھلی سڑک میں طوریوں پر فائرنگ شروع کروا دی۔ جس سے موقع پر ہی عمائدین سمیت کئی افراد جام شہادت نوش کر گئے۔ تاہم ایک بندے نے فوراً گھات لگاکر حملہ کیا۔ جس کی وجہ سے دشمن کے دانت کٹے کرنے کے بعد کچھ افراد کو بچا لیا۔ اس کے بعد جنگ چھڑ گئی تو جنگل میں رہ جانے والے لکڑہارے اپنے جانوروں سمیت محصور ہوگئے۔
سوال:آقائے محترم تنازعے کے حوالے سے ذرا بریف فرمائیں کہ اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔؟
علامہ سید عابد الحسینی: پیواڑ کے حالیہ تصادم کی پوری کی پوری ذمہ داری انتظامیہ خصوصاً وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں، بالاخص وہاں پر تعینات محرر پر عائد ہوتی ہے۔ جس نے اہلیان پیواڑ کے اپنے پہاڑ سے لائی جانے والی لکڑیوں کو اس وقت تک روکے رکھا، یہاں تک کہ گیدو کے منگلان آپہنچے اور انہیں فائرنگ کا موقع دیا۔ چنانچہ اس حوالے سے منگلان سے زیادہ زیادتی وہاں پر تعینات سرکاری محرر نے کی۔ یہی نہیں بلکہ کرم میں ہونے والے تمام تر تنازعات کا اصل سبب ہی سرکار اور انتظامیہ ہے، جو حق اور حقدار کا علم ہونے کے باوجود مسئلے کو طول دیتی ہے۔
سوال:معلوم ہوا ہے کہ کچھ افراد کو زندہ گرفتار کیا گیا تھا۔ انکا کیا بنا۔؟
علامہ سید عابد الحسینی: ہاں جنگل میں محصور افراد کو انہوں نے زندہ گرفتار کر لیا، جنہیں نہایت بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ ان کے سر کاٹنے کے علاقے ان کے سینوں کو بھی چیر پھاڑ دیا تھا۔ ان پر کئے گئے ظلم کے نشانات کے ویڈیو ثبوت موجود ہیں۔
سوال: سنا ہے کہ آپکے علاقے بلکہ پٹھانوں میں یہ روایت ہے کہ جب مخالف فریق کے کسی شخص کو قیدی بناتے ہیں، تو اسکے ساتھ اسی طرح سلوک کرتے ہیں۔؟
علامہ سید عابد الحسینی: دوسرے پٹھانوں کی بات علم الیقین حاصل کئے بغیر کرنا ناانصافی ہوگی۔ تاہم یہاں آباد افغان قبائل کی یہ روایت انکے آباو اجداد سے چلی آرہی ہے، جبکہ طوری بنگش میں یہ روایت نہیں۔ جس کے لئے میں ایک مثال پیش کرتا ہوں کہ 2008ء یا غالباً 2009ء میں انہی منگلان کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کے بھڑکتے شعلوں کے دوران پیواڑ کے طوری قبیلے نے منگل اور دیگر جارح قبائل کے پچاس سے زائد افراد کو زندہ گرفتار کر لیا۔ جنگ کے دوران پیواڑ کا کافی نقصان ہونے کی وجہ سے جوان انہیں رہا کرنے پر تیار نہیں تھے۔ وہ انہیں کچھ عرصہ قیدی رکھنا چاہتے تھے، تاہم پیواڑ کے انہی مشران جنہیں آج بیدردی سے شہید کیا گیا، کی کوششں کی وجہ سے نہ صرف انہیں کوئی گزند نہ پہنچ سکا، بلکہ یہ کہہ کر دو گھنٹوں کے اندر اندر انہیں رہائی بھی دلائی کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مولا علی علیہ السلام کی یہ سنت نہیں کہ قیدی کو قتل تو کیا، کوئی نقصان پہنچایا جائے
سوال:آغا صاحب سنا ہے کہ انہی ایام میں ایف سی کے اندر بھی ایک سرکاری اہلکار کی موت واقع ہوئی تھی، اسکا کچھ پتہ چل سکا، کیا سبب تھا۔؟
علامہ سید عابد الحسینی: ایف سی نیز دیگر سرکاری اداروں کے اندر یہ پہلا شخص نہیں، بلکہ ایسے درجنوں افراد پراسرار طور پر قتل ہوچکے ہیں۔ جس کی پوری تفصیل میرے پاس نہیں، تاہم اتنا یاد پڑتا ہے، بلکہ گذشتہ روز ایک بندے نے تذکرہ کیا، تو اس کے بقول کڑمان یوسف خیل کے عاشق علی فوج میں، پاراچنار شہر کے کیپٹن عارف حسین ہزارہ فوج کے اندر اور گذشتہ دنوں یہ ایف سی کا سپاہی آڑاولی قلعے کے اندر شہید ہوگیا۔ انہوں نے کئی دیگر نام بھی بتا دیئے، تاہم میں اس وقت بھول گیا ہوں۔ اس حوالے سے ایک سوال اٹھتا ہے کہ ہمارے لوگوں کو جب اداروں کے اندر امن نہیں ہے، تو باہر دہشتگردوں سے شکوہ کیسے کیا جائے، جبکہ دوسری طرف پاراچنار میں ہزاروں کی تعداد میں یہی سکیورٹی اہلکار اپنے اہل و عیال کے ساتھ خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ مزدوری کی غرض سے آئے ہوئے چارسدہ، مردان، نوشہرہ اور دیر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں مزدور کار یہاں خود کو سنیوں سے زیادہ محفوظ تصور کرتے ہیں، کبھی کسی سرکاری اہکار یا مسافر یا مہمان کو یہاں کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ وہ کیا کر رہے ہیں۔؟
سوال:قبائل میں انتقام کا جذبہ بہت پایا جاتا ہے، حتی کہ ایسا کوئی حادثہ ہونے کی صورت میں جارح فریق خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہوئے فوراً نکل جاتا ہے، تاہم ہم دیکھ رہے ہیں کہ طوریوں کیجانب سے ایسا کوئی حادثہ پیش نہیں آیا ہے، اسکی وجہ کیا ہوسکتی ہے؟ لیڈر شپ انہیں اجازت نہیں دیتی یا انکی روایات ہی اس طرح ہیں۔؟
علامہ سید عابد الحسینی: شیعوں کی روایات بھی اسی طرح ہیں، تاہم روایات حادثات سے متاثر ہوکر اکثر اوقات بدلتی رہتی ہیں، جبکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمارا مذہب، مذہب جعفری اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔ اکثر عوام ایسے حالات میں علماء کے پاس آتے ہیں اور ان سے فتویٰ مانگتے ہیں اور انتقام لینے کی اجازت طلب کرتے ہیں۔ تاہم علماء انہیں منع کرتے ہیں۔ اگر کسی دن علماء نے اجازت دیدی تو اس دن جارحین پر یہ زمین تنگ ہو جائے گی۔ خواہ وہ دہشتگرد ہوں، یا انکے سہولتکار اور خانوادے، سرکاری اہلکار ہوں یا کوئی اور قوت۔ تاہم یہ بات سب سمجھ لیں کہ ظلم ظلم ہے، جتنا بھی بڑھ جاتا ہے، آخر کار مٹ ہی جاتا ہے۔ مولا علی علیہ السلام کا قول ہے کہ حکومت کفر سے تو باقی رہ سکتی ہے، مگر ظلم سے باقی نہیں رہ سکتی۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button