مشرق وسطیہفتہ کی اہم خبریں

شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس کے خون کا بدلہ لے کر رہیں گے:اکرم الکعبی

شیعہ نیوز:عراق میں اسلامی مزاحمتی گروہ تحریک النجباء کے سیکرٹری جنرل اکرم الکعبی نے کہا: "امریکہ ان مجرمانہ اقدامات کا بھاری تاوان ادا کرے گا جو اس نے ملت عراق اور عوامی کمانڈرز کے خلاف انجام دیے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا: "امریکہ عراق میں اپنے پٹھو عناصر کی مدد سے اپنے مفادات کا حصول یقینی بنانے کی کوشش میں مصروف ہے لہذا اس کے غاصب فوجیوں کے خلاف جدوجہد ہمارا دینی اور قومی فریضہ ہے۔” اکرم الکعبی المیادین نیوز چینل سے بات چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں مزید کہا: "امریکی حتی عراق سے نکل جانے کی صورت میں بھی ہمارے دشمن باقی رہیں گے اور ہم ان سے انتقام لے کر رہیں گے۔” انہوں نے کہا کہ امریکی حکام کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عراق سے فوجی انخلاء کا ارادہ نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا: "امریکی جارح فوجی جو زبان سمجھتے ہیں وہ اسلامی مزاحمت کا اسلحہ اور طاقت اور اسلحہ کی زبان ہے۔”

تحریک النجباء کے سیکرٹری جنرل نے تاکید کرتے ہوئے کہا: "سیاسی جماعتیں اور گروہ اسلامی مزاحمت اور حشد الشعبی کو الیکشن کے بعد رونما ہونے والی اپنے درمیان سیاسی کشمکش میں شامل نہ کریں۔ ہم کس طرح ایسے ملک کی مزاحمتی قوت کے مسلح ہونے پر سیاسی سازباز کر سکتے ہیں جو ابھی تک غیر ملکی افواج کے قبضے میں ہے؟” انہوں نے مزید کہا: "یہ اسلامی مزاحمتی گروہ تھے جنہوں نے انتہائی محدود وسائل کے باوجود داعش کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ یہ اسلامی مزاحمت کا اسلحہ تھا جس نے عراق کی کھوئی ہوئی حاکمیت اور عزت اسے واپس لوٹائی، وہ بھی ایسے وقت جب اکثر ممالک نے اسے بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا۔” اکرم الکعبی نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا: "حتی امریکیوں نے بھی داعش کے مقابلے میں عراقی حکومت کی مدد کرنے سے گریز کیا اور یوں ظاہر کیا کہ یہ عراق کا اندرونی مسئلہ ہے۔” تحریک النجباء کے سیکرٹری جنرل اکرم الکعبی نے کہا: "اسلامی مزاحمت کا اسلحہ امریکہ اور اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کیلئے ڈراونا خواب بن چکا ہے اور وہ ہمیں نہتا کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔”

انہوں نے کہا: "اسلامی مزاحمت کا اسلحہ عراقی عوام کی سکیورٹی کا ضامن ہے اور ہم ہر گز اسے زمین پر رکھنے کیلئے تیار نہیں ہوں گے۔” اکرم الکعبی نے مسئلہ فلسطین کو عراق کے اسلامی مزاحمتی گروہوں کا دل قرار دیا اور کہا: "اسلامی مزاحمت کو نہتا کرنے کا مقصد عراق کو اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے پر مجبور کرنا ہے لیکن ایسا ہر گز نہیں ہو گا۔ کیسے ممکن ہے کہ ہم مزاحمت ترک کر دیں؟ جبکہ قابض امریکہ نے ہماری معیشت، تیل اور پیسہ اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔” انہوں نے اپنی گفتگو کے آخر میں حشد الشعبی کو ختم کر دینے کا مطالبہ امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی خواہش قرار دیا اور کہا: "اس مسئلے کی وجہ یہ ہے کہ حشد الشعبی ان کی سازشوں کے مقابلے میں دیوار بن کر کھڑی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی مزاحمت کو غیر مسلح کر دینا دراصل عراق کو امریکہ اور اسرائیل کے حوالے کر دینے کے مترادف ہے۔” اکرم الکعبی نے امت مسلمہ کو وعدہ دیتے ہوئے کہا: "عراق کی اسلامی مزاحمت سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی قدس فورس کے سابق سربراہ شہید قاسم سلیمانی اور حشد الشعبی کے سابق نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کے خون کا بدلہ لے کر رہے گی۔”

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button