مشرق وسطی

شام جنگ، قطر کے سابق وزیر اعظم کا نیا انکشاف

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) قطر کے سابق وزیر اعظم شیخ حمد بن جاسم آل ثانی نے کویت کے اخبار القبس کے ساتھ گفتگو میں بڑا انکشاف کرکے نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

شیخ حمد اس سے پہلے بھی بحران شام کے بارے میں اہم انکشافات کرچکے ہیں البتہ تجزیہ نگاروں کی بڑی تعداد کو پہلے بھی اندازہ تھا کہ بحران شام ایک خطرناک سازش کا نتیجہ ہے اور اس سازش میں امریکا اور اسرائیل سے لے کر ترکی، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات تک بہت ساری حکومتیں شامل تھیں۔

یوٹیوب پر اپلوڈ کی جانے والی مختصر ویڈیو کلپ میں شیخ حمد بن جاسم نے بتایا کہ شام میں بشار اسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے اردن اور ترکی میں وار روم بنائے گئے تھے جن میں سعودی عرب، قطر، اردن، ترکی اور امریکا کے افسران موجود ہوتے تھے۔

اردن میں الموک وار روم تھا جبکہ ترکی میں الموم وار روم بنایا گیا تھا اور دونوں کی آپسی ہماہنگی سے شام میں تشدد کا بازار گرم کیا گیا تھا۔

شیخ حمد نے بتایا کہ در ایں اثنا نیا مرحلے تب شروع ہوا جب پرنس بندر بن سلطان نے سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی کا عہدہ سنبھال لیا اور انہیں شام کا مسئلہ بھی سونپ دیا گیا۔

اس کے بعد بندر بن سلطان اپنے منصوبے کے مطابق کام کرنے لگے۔ انہوں نے اس کے لئے 2 ٹریلین ڈالر کا مطالبہ پیش کیا تھا۔ شیخ حمد نے کہا کہ بحران کے شروعاتی مہینوں میں قطر اس مسئلے میں پیش پیش تھا تاہم جب بندر بن سلطان نے اس مسئلے کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تب ہمارے درمیان اختلافات شروع ہوگئے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button