مضامین

مشرق وسطی میں امریکہ اور چین کے درمیان جاری سرد جنگ

تحریر: سید نعمت اللہ عبدالرحیم زادہ

جمعہ 10 دسمبر کے دن امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک خاص رپورٹ شائع کی جس میں متحدہ عرب امارات میں چین کی جانب سے تعمیر کی جانے والی فوجی تنصیبات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے ان فوجی تنصیبات کو متحدہ عرب امارات میں چین کے ابتدائی قدم قرار دیا اور دعوی کیا ہے کہ اماراتی حکام امریکہ کی جانب سے دباو کے نتیجے میں ان تنصیبات میں تعمیر کا کام رکوانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اماراتی حکام اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ وہاں چین اپنا فوجی اڈہ تعمیر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ بہرحال، اس خبر کا شائع ہونا بذات خود اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ امریکہ مشرق وسطی میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ، خاص طور پر فوجی و سکیورٹی شعبے میں بڑھتی سرگرمیوں کے بارے میں شدید پریشان ہے۔

اب ایسا وقت آ گیا ہے کہ امریکہ خطے میں اپنے دوست اور اتحادی ممالک پر نظر رکھنے پر مجبور ہو گیا ہے جبکہ یہ ممالک درپیش حالات اور رونما ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر اپنے تمام انڈے امریکہ کی ٹوکری میں رکھنے سے گریزاں ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ ان تنصیبات سے متعلق ہے جو خلیفہ بندرگاہ کے اندر تعمیر کی جا رہی ہیں اور ابوظہبی سے شمال کی جانب 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔ امریکی حکام کا دعوی ہے کہ وہ گذشتہ ایک برس سے اس علاقے میں چین کی مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ان کا کہنا ہے کہ اس سال موسم بہار میں سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ چین اس بندرگاہ میں جو تنصیبات تعمیر کر رہا ہے ان کی نوعیت فوجی ہے۔

بظاہر یوں دکھائی دیتا ہے کہ یہ مسئلہ امریکہ کیلئے اس قدر گھمبیر اور پریشان کن ہو گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن بذات خود مداخلت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور انہوں نے مئی اور اگست کے مہینوں میں کم از کم دو بار متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید النہیان سے ٹیلی فون پر اس بارے میں بات چیت بھی کی ہے۔ اس فون کال کا مقصد انہیں چین کی سرگرمیاں ختم کرنے کیلئے رضامند کرنا تھا۔ دوسری طرف محمد بن زاید نے امریکی صدر کو جواب میں کہا تھا کہ وہ ان کا پیغام بہت واضح اور روشن انداز میں سمجھ گئے ہیں۔ واضح ہے کہ جو بائیڈن کی ان فون کالز سے پہلے امریکی حکام اس مقصد کیلئے اپنی پوری کوشش کر چکے تھے لیکن ان کی کوششیں بے سود ثابت ہوئی تھیں۔

اس مسئلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اماراتی حکام نے آخر تک چین کی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے صرف جو بائیڈن کی تسلی کیلئے عارضی طور پر چین کو اپنی سرگرمیاں روک دینے کا کہا ہے۔ یاد رہے گذشتہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات شروع ہونے کے بعد ایسے ممالک کیلئے خطرے کی گھنٹی بج چکی تھی جنہوں نے اپنی قومی سلامتی اور دفاع کو امریکہ کی فوجی طاقت سے گرہ لگا رکھی ہے۔ ٹرمپ حکومت نے طالبان سے مذاکرات کرتے وقت افغان حکومت کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا تھا اور یہ بات پوری طرح عیاں تھی کہ وہ اپنے مفادات اور مقاصد کے حصول کیلئے افغان حکومت کو بھی قربانی کا بکرا بنانے کیلئے پوری طرح تیار ہے۔

یہ واقعہ رونما ہونے کے بعد حالات پر نظر رکھے ہوئے ممالک اس نتیجے پر پہنچے کہ انہیں اپنی قومی ضروریات کیلئے صرف اور صرف امریکہ پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ دیگر عالمی طاقتوں کو بھی اعتماد میں لینا چاہئے۔ لہذا متحدہ عرب امارات میں فرانس کی فوجی تنصیبات کی تعمیر اور اس خلیجی ریاست کی جانب سے گذشتہ ایک دو برس میں فرانس سے اسلحہ اور فوجی سازوسامان کی خرید میں اضافہ، خاص طور پر فرانس سے 80 ریفائل جنگی طیارے اور 12 ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا دورہ متحدہ عرب امارات اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ متحدہ عرب امارات کے سامنے دوسرا آپشن چین کا ہے۔ چین بھی نہ صرف نئی ابھرتی ہوئی طاقت ہونے کے ناطے عالمی سطح پر اسٹریٹجک کردار کی تلاش میں ہے بلکہ متحدہ عرب امارات سے قریبی اقتصادی تعلقات استوار کئے ہوئے ہے۔

لہذا متحدہ عرب امارات مختلف عالمی طاقتوں سے فوجی تعلقات استوار کر کے اپنے سامنے سارے راستے کھلے رکھنا چاہتا ہے تاکہ اس کا بھروسہ صرف امریکہ پر نہ رہے۔ دوسری طرف چین بھی مشرق وسطی میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے مناسب مواقع تلاش کر رہا ہے لہذا وہ متحدہ عرب امارات یا کسی دوسری خلیجی ریاست میں قدم جمانے کا موقع گنوانا نہیں چاہتا۔ چین اپنی اس حکمت عملی کے ذریعے امریکہ کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک مقابلے کو مشرقی ایشیا سے کھینچ کر مغربی ایشیا کی جانب منتقل کرنے کے درپے ہے۔ پس یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ چین اتنی آسانی سے متحدہ عرب امارات میں اپنی سرگرمیاں ختم کر دے گا اور مستقبل میں ہمیں مشرق وسطی میں چین کی سرگرمیوں میں مزید اضافے کی توقع رکھنی چاہئے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button