مضامین

تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کی فریب کاریاں

اتوار 18 اکتوبر کے دن معروف خبر رساں ادارے رویٹرز نے ایک ایسی خبر شائع کی، جو انتہائی معنی خیز ہے اور اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ رویٹرز کی رپورٹ کے مطابق تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے ترجمان ابو حمزہ المہاجر نے اپنے حامیوں کو سعودی عرب میں اقتصادی اور معیشتی ٹھکانوں کو تخریب کارانہ کارروائیوں کا نشانہ بنانے کا حکم دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق داعش نے اعلان کیا ہے کہ یہ فیصلہ سعودی عرب کی جانب سے اپنی فضائی حدود اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے ہوائی جہازوں پر کھولنے کے باعث کیا گیا ہے۔ یاد رہے حال ہی میں اسرائیلی عہدیداروں نے سعودی عرب کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے بحرین اور متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا ہے۔ ان دوروں کا مقصد مذکورہ عرب ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے قیام کے بارے میں گفتگو انجام دینا تھا۔

اتوار کے دن امریکی حکومتی نمائندوں کی موجودگی میں بحرین کے دارالحکومت منامہ میں ایک تقریب منعقد ہوئی، جس میں بحرینی اور اسرائیلی حکام نے سفارت خانے کھولنے اور سفارتی تعلقات قائم کرنے کے معاہدے پر دستخط کئے۔ اس معاہدے میں ایک مضحکہ خیز نکتہ یہ بھی تھا کہ تل ابیب اور منامہ ایک دوسرے کے خلاف دشمنی پر مبنی کوئی اقدام انجام نہیں دیں گے۔ ایک لحاظ سے یہ نکتہ داعش کے اس بیانیے سے ملتا جلتا ہے، جو انہوں نے سعودی عرب اور اسرائیل کے خلاف جاری کیا ہے۔ یہ مشابہت اس لحاظ سے ہے کہ اسرائیل کی غاصب اور جعلی صہیونی رژیم تشکیل پانے کے بعد سے لے کر آج تک نہ تو بحرین نے اس کے خلاف کوئی دشمنی پر مبنی اقدام انجام دیا ہے اور نہ ہی اسرائیل نے بحرین کے خلاف کوئی قدم اٹھایا ہے۔

جب ابتداء سے ہی نہ تو تل ابیب نے منامہ کے مفادات کو خطرات سے دوچار کیا ہے اور نہ ہی منامہ نے تل ابیب کیلئے کوئی پریشانی ایجاد کی ہے تو باہمی معاہدے میں اس نکتے پر تاکید کرنے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ دوسری طرف تکفیری دہشت گرد گروہ داعش جب شام اور عراق کے بڑے رقبے پر قابض تھا اور اپنی طاقت کے عروج کا زمانہ گزار رہا تھا، تب بھی اس نے اسرائیل کی سرحد کے انتہائی قریب ہونے کے باوجود اس غاصب صہیونی رژیم کی جانب حتی ایک گولی بھی فائر نہیں کی تھی۔ لہذا اب اس کی جانب سے سعودی عرب اور اسرائیل کے خلاف دھمکی آمیز بیانات دینے کی کیا وجہ ہے؟ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان دونوں موارد میں فریب کاری کا مشترکہ عنصر پایا جاتا ہے۔

داعش عالمی رائے عامہ کو یہ فریب دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل اس کے دشمن ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں داعش نے نہ صرف اسرائیلی مفادات کو خطرے میں نہیں ڈالا بلکہ الٹا ایسی رپورٹس سامنے آچکی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ داعش کے زخمی دہشت گردوں کا علاج معالجہ اسرائیلی اسپتالوں میں ہوتا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مرکزیت میں اسلامی مزاحمتی بلاک نے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خاتمے میں اہم اور بنیادی کردار ادا کیا ہے جبکہ امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب اور ان کے اتحادی ممالک اس وحشی دہشت گرد گروہ کی ہر ممکنہ مدد کرتے آئے ہیں۔ جہاں سعودی عرب نے داعش کی مالی امداد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، وہاں امریکہ داعش کی ایئرفورس کے طور پر عمل کرتا رہا ہے۔

کبھی امریکی ہیلی کاپٹرز سے داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں اسلحہ سے بھرے صندوق گرائے جاتے تھے اور کبھی امریکی فضائیہ شام آرمی اور اسلامی مزاحمتی فورسز کے ٹھکانوں کو ہوائی حملوں کا نشانہ بناتی تھی۔ جب بھی داعش کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا تھا تو اس کے بھاگے ہوئے دہشت گردوں کو امریکہ کے زیر کنٹرول علاقوں میں پناہ دی جاتی تھی۔ جو علاقے اسلامی مزاحمتی فورسز کے گھیرے میں آجاتے تھے، وہاں امریکی ہیلی کاپٹر آکر داعش کے اہم اہم کمانڈرز کو بھگا کر لے جاتے تھے۔ اس وقت بھی داعش کے کمانڈرز کی بڑی تعداد شام کے کرد اکثریتی علاقوں میں امریکہ کے زیر کنٹرول علاقوں میں موجود ہے۔ ایسے حالات میں داعش کی جانب سے اسرائیل اور سعودی عرب کے خلاف بیان مضحکہ خیز نہیں تو اور کیا ہے۔؟

تکفیری دہشت گرد گروہ نے آج تک نہ صرف امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کے مفادات کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا بلکہ اس کی تمام تر سرگرمیاں امریکی، اسرائیلی اور سعودی مفادات کے تحفظ کیلئے انجام پائی ہیں۔ داعش کی بنیاد امریکہ کے گریٹر مڈل ایسٹ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے رکھی گئی تھی۔ دوسری طرف اس گروہ نے امریکہ کو عراق اور شام میں فوجی موجودگی کا مناسب بہانہ فراہم کیا۔ اس وقت امریکہ اور سعودی عرب نے مل کر یمن میں داعش کی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ لہذا داعش کی جانب سے حالیہ بیان کا مقصد اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے والے عرب ممالک کا چہرہ خوبصورت بنا کر پیش کرنا ہے۔ گویا یہ عرب ممالک امن کے خواہاں ہیں اور دنیا کے بدترین دہشت گرد انہیں اپنا دشمن تصور کرتے ہیں۔
تحریر: رضا محمد مراد

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close