مضامین

امریکہ اور عالمی برادری پر "ٹرمپ ازم” کے اثرات

امریکہ میں اس وقت صدارتی الیکشن کا ایشو عروج پر ہے۔ ایک طرف امریکی میڈیا نے جو بائیڈن کو کامیاب امیدوار قرار دے دیا ہے جبکہ دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اس موقف پر مصر دکھائی دیتے ہیں کہ الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے اور وہ غیر سرکاری نتائج کو عدالت میں چیلنج کرنے جا رہے ہیں۔ اس سے صرف نظر کرتے ہوئے کہ سرکاری اور حتمی نتائج میں کسے کامیاب امیدوار قرار دیا جائے گا، امریکہ کے حالیہ صدارتی الیکشن عالمی برادری کیلئے بعض اہم پیغامات کے حامل تھے۔ اسی طرح ان انتخابات نے امریکی معاشرے اور عالمی برادری خاص طور پر امریکہ کے روایتی اتحادی ممالک پر گہرے اثرات ڈالے ہیں، جن کے نتائج مستقبل میں بھی ظاہر ہوتے رہیں گے۔ حالیہ انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے حتی گذشتہ انتخابات سے بھی زیادہ ووٹ حاصل کئے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق 2020ء صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کو 2016ء صدارتی الیکشن کی نسبت 70 لاکھ زیادہ ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ ممکن ہے وہ دوبارہ امریکی صدر کا عہدہ نہ سنبھال پائیں لیکن گذشتہ چار سال کے دوران انہوں نے ملکی اور عالمی سطح پر ایک نئی سیاسی ڈاکٹرائن کی بنیاد رکھی ہے اور اس کے اچھے خاصے حامی بھی پیدا کر لئے ہیں۔ یہ نئی ڈاکٹرائن "ٹرمپ ازم” کے نام سے معروف ہوچکی ہے۔ امریکی جریدہ کرسچین سائنس مانیٹر "ٹرمپ ازم” کو گذشتہ امریکی صدر "رونلڈ ریگن” کی میراث قرار دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کو اس کا وارث قرار دیتا ہے۔ اس جریدے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئی ڈاکٹرائن متعارف نہیں کروائی بلکہ رونلڈ ریگن کی ڈاکٹرائن کو ہی آگے بڑھایا ہے۔

کرسچین سائنس مانیٹر ٹرمپ ازم کی تعریف کرتے ہوئے لکھتا ہے: "ٹرمپ ازم رونلڈ ریگن کی جمہوریت پسندی کا ایک حصہ ہے، جس میں کم ٹیکسز، کم حکومتی قوانین، کنزرویٹو پالیسیز اور مہاجرت کے زیادہ سخت قوانین پر تاکید کی جاتی تھی اور پہلے امریکہ کا نعرہ لگایا جاتا تھا۔” ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کی میراث درحقیقت امریکی معاشرے میں انجینئرڈ الیکشن کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹرمپ دور قومی اور بین الاقوامی سطح پر امریکی معاشرے پر گہرے اثرات کا حامل ہوگا۔ ان انجینئرڈ الیکشن کا ایک نتیجہ امریکی انتخابی نظام اور جمہوریت کے نامعتبر ہو جانے کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ اسی طرح امریکی معاشرہ شدید دوئیت (ڈائی پول) کا شکار ہو جائے گا۔ امریکی معاشرے میں تقسیم مزید گہری ہو جائے گی اور اختلافات کی شدت بڑھ جائے گی۔

جیسا کہ اس وقت دیکھ رہے ہیں، امریکہ شدید عوامی احتجاج اور مظاہروں کی لپیٹ میں ہے۔ عوام کا ایک بڑا دھڑا حالیہ انتخابات میں دھاندلی کے خلاف سڑکوں پر نکل آیا ہے۔ یہ دھڑا ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں پر مشتمل ہے۔ دوسری طرف جو بائیڈن کے حامی اپنے امیدوار کی کامیابی کے جشن منانے میں مصروف ہیں۔ اب تک کئی ریاستوں میں ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن کے حامی ایک دوسرے کے آمنے سامنے بھی آچکے ہیں اور کئی جھڑپیں انجام پائی ہیں۔ گذشتہ دو عشروں سے امریکہ کے پالیسی میکرز اور فیصلہ ساز مراکز میں یہ سوچ ابھر کر سامنے آئی ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد حکمفرما ہونے والا ورلڈ آرڈر اور تجارتی اور سکیورٹی معاہدے اب مزید امریکی مفادات کا تحفظ کرنے سے قاصر ہوچکے ہیں۔

امریکی ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ عالمی نظام امریکہ کے حریف ممالک جیسے چین اور یورپی یونین کے اقتصادی لحاظ سے امریکہ سے آگے نکل جانے کا باعث بنا ہے۔ یوں 2016ء کے صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے شخص کا برسراقتدار آجانا اور 2020ء کے صدارتی الیکشن میں اس کا ہار جانا بہت حد تک سمجھ میں آتا ہے۔ امریکہ کا سیاسی نظام عالمی سطح پر موجود متعدد تجارتی اور سکیورٹی سیٹ اپس میں اپنے مفادات کے حق میں تبدیلی لانے کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ جیسی شخصیت کا محتاج تھا۔ ایسی شخصیت جو تمام عالمی قوانین اور آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک ایک کرکے بین الاقوامی معاہدوں اور اداروں سے دستبردار ہونے کی جرات رکھتا ہو۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، پیرس معاہدہ، ٹرانس پیسیفک معاہدہ وغیرہ سے ٹرمپ حکومت کی سربراہی میں امریکہ کی دستبرداری چند نمونے ہیں۔

اب اگلا امریکی صدر اور اس کی حکومت ان معاہدوں میں شامل ہونے کیلئے مذاکرات کا راستہ اپنائے گی اور نئی شرائط پیش کرے گی۔ امریکی حکومت ان معاہدوں میں واپس آنے کیلئے زیادہ مراعات کا مطالبہ کرے گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیز یورپی یونین میں دائیں بازو کی شدت پسند جماعتیں مضبوط ہونے کا باعث بھی بنی ہیں۔ ان دائیں بازو کی شدت پسند جماعتوں کا بڑا مقصد امریکی مفادات کے حق میں یورپی یونین کو کمزور کرنا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے چار سالہ دور نے ایک ایسی میراث چھوڑی ہے جس کے باعث امریکہ کی مہاجرتی پالیسیوں میں بھی شدت پیدا ہوگی۔ بظاہر یوں دکھائی دیتا ہے کہ امریکی اسٹبلشمنٹ کی نظر میں ڈونلڈ ٹرمپ کا مشن مکمل ہوچکا ہے، لہذا اب ان کی جگہ نئے صدر اور نئی کابینہ آنے کا وقت آچکا ہے۔

تحریر: پیمان یزدانی

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close