مضامین

بانی پاکستان "محمد علی جناح” کی جدوجہد کے مقاصد

نی پاکستان "محمد علی جناح” علاقے میں اسلامی بیداری کے علمبردار رہنماؤں میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنی 20 سالہ جد و جہد سے آزاد ملک پاکستان کا قیام رقم کرلی۔

بانی پاکستان محمد علی جناح نے اپنی بہن کے ساتھ بھارتی مسلمان پارٹی (مسلم لیگ) کی طاقت کو بروئے کار لاتے ہوئے علاقے میں اسلامی بیداریوں میں سے ایک کو رقم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

محمد علی جناح 25 دستمبر 1876 کو کراچی میں پیدا ہوگئے؛ ان کے والد تاجر تھے اور ان کی بہن "فاطمہ” پاکستان اور بھارت کے درمیان آزادی کے عرصے کی جد وجہد کرنے والوں میں سے ایک تھیں۔ محمد علی جناح، ہائی اسکول مکمل کرنے کے بعد 1892 میں لنکن یورنیوسٹی میں داخل ہوگئے اور 4 سال تک قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایک قابل وکیل بن گئے۔ ان کی محنتی ہونے اور فکری نظم و ضبط نے ان کو طاقت کے مرکز تک پہنچنے میں مدد کی اور وہ 1905 میں سرکاری طور پر سیاسی عرصے میں داخل ہوگئے۔

سیاسی سرگرمیاں

ہندوستان کیخلاف برطانیہ کی سامراجیت کے دوران، مسلمانوں نے اپنے مفادات کی فراہمی کیلئے مسلم لیگ نامی پارٹی کی تشکیل دی۔ محمد علی جناح بہت عقلمند آدمی تھے جو بدستور فرقہ واری تعصبات سے دوری کرتے تھے اسی لیئے ان کا شمار مسلمانوں اور ہندؤوں کے درمیان اتحاد کے بہترین نمائندوں میں سے ایک کیا جاتا ہے۔

گاندھی 1918 میں برصغیر میں سیاسی میدان میں داخل ہوگئے۔ جناح اور گاندھی کے درمیان نظریاتی مسائل پر کوئی اختلاف نہیں تھا لیکن عملی طریقوں میں یہ اختلاف جاری تھا۔

محمد علی جناح کی اسلام اور مسلمانوں میں دلچسبی

وہ اس قدر اسلام سے محبت کرتے تھے کہ پاکستان کے قیام کے موقع پر ان کا نعرہ اسلام اور اسلامی قوانین پر مبنی آزاد ملک کا قیام تھا اور اسلام؛ ان کی حریت پسندی کے اجزا میں سے ایک تھا۔

انہوں نے قیام پاکستان سے بہت عرصے قبل، علامہ اقبال لاہوری سے آزاد پاکستان کے قیام سے متعلق بات چیت کی تھی اور یہ دونوں اس نتیجے پر پہنچ گئے تھے۔ قیام پاکستان کے لیے ان کو گاندھی نامی شدید مخالف کا سامنا تھا۔

1946 میں مسلمانوں اور ہندؤوں کے درمیان خوفناک قتل عام ہوا اور مختلف پارٹیوں نے بھی ملک میں قیام امن برقرار کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کی تو بالآخر گاندھی نے مزید خونریزی سے نمٹنے کیلئے پاکستان اور بھارت کو بانٹنے کے منصوبے سے اتفاق کیا۔

آخر کار برطانیہ کے وائسرائے "لارڈ ماؤنٹ بیٹن” نے اس منصوبے کی منظوری دے دی اور 14 اگست 1947 میں پاکستان کا قیام ہوا۔ محمد علی جناح تقریبا 13 مہینوں کے دوران، پاکستانی حکومت کے سربراہ رہے اور انہوں نے اس ملک کی خارجہ پالیسی کا تعین کیا۔ وہ بدستور مسئلہ کشمیر کے حل اور بھارت سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے درپے تھے اور مسئلہ فلسطین کے حل پر زور دیتے تھے۔

محمد علی جناح کا اتحاد پر زور

وہ سارے مسلمانوں کو نیکی سے یاد کرتے تھے اور سب کو اتحاد اور امت مسلمہ کی تشکیل کی دعوت دیتے تھے اور مصر، انڈونیشیا، سعودی عرب، ایران اور افغانستان کے مسلمانوں سے مطالبہ کرتے تھے کہ وہ تعاون بڑھانے کی کوشش کریں۔

انہوں نے کہا تھا کہ "ہمارا فراض ہے کہ دنیا کے ہر کسی کونے میں اپنے مسلم بھائیوں کی مدد کریں”

وہ مسلمانوں کیلئے مذہبی اور عقلمند جد وجہد کرنے والے کی علامت ہے اور اسی وجہ سے ان کو "قائد اعظم” کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ گاندھی نے انہیں سب سے محنتی مزاحمتی قومی شخص اور ہندوستان کی امید کا سرچشمہ کہا اور علامہ محمد اقبال نے انہیں ہندوستان کے مسلمانوں کا نجات دہندہ اور حتی کہ تمام ہندوستان کا نجات دہندہ بھی سمجھا۔

ان عظیم الشان سیاسی رہنما 11 ستمبر 1948 کو تپ دق بیماری کا شکار ہوا اور انہوں اس فانی دنیا سے الوداع کہہ دیا؛ تا ہم انہوں نے آئندہ نسلوں کیلئے سب سے قیمتی ورثہ چھوڑدیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button