مشرق وسطیہفتہ کی اہم خبریں

امارات کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے نتائج خود بھگتنا ہوں گے

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) فلسطینی تنظیموں حماس اور جہاد اسلامی نے اسرائیل میں متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کے افتتاح کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

حماس کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا یہ اقدام فلسطینی قوم اور خطے میں آباد تمام قوموں کے حق میں سب سے بڑا ظلم ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اس اقدام سے اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف ظلم اور مقدس مقامات کی توہین کا سلسلہ جاری رکھنے کی مزید ترغیب ملے گی۔

حماس کے بیان میں آیا ہے کہ زیادہ وقت نہیں گزرے گا کہ صیہونی دشمن کے ساتھ تعلقات قائم کرنے والے ملکوں کو فلسطینی قوم اور علاقے کی دیگر اقوام کے خلاف اپنے اس مجرمانہ اقدام کے خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جہاد اسلامی فلسطین کے ترجمان طارق سلمی نے بھی تل ابیب میں متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کے افتتاح کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ اس بات کو ہمیشہ یاد رکھے گی کہ، ابوظہبی کے حکام نے ایسے وقت میں مقبوضہ فلسطین میں اپنا سفارت خانہ قائم کیا ہے جب اسرائیل نے القدس شریف اور مسجد الاقصی کے خلاف اپنے مجرمانہ اقدامات اور فلسطینیوں کے گھروں کے انہدام کا سلسلہ تیز کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا سفارت خانہ بھی سن انیس سو اڑتالیس میں بے گھر ہونے والے کسی فلسطینی کے تباہ شدہ مکان کے ملبے پر قائم ہوا ہو۔

جہاد اسلامی کے ترجمان نے کہا کہ اسرائل کے ساتھ سفارتی تعلقات کا قیام فلسطینی عوام اور اسلامی دنیا کے خلاف سب سے بڑی خیانت ہے۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز تل ابیب میں متحدہ عرب امارات کے سفارتی مشن نے باضابطہ طور سے اپنے کام کا آغاز کر دیا ہے۔

اس موقع پر متحدہ عرب امارات کے سفیر نے اپنے ایک خطاب میں دعوی کیا کہ ہم نے جو مشن شروع کیا ہے وہ علاقے میں قیام امن اور جاری تنازعات کے خاتمے کے لئے مثالی ہوگا۔

تقریب میں شریک صہیونی صدر اسحاق ہرٹزوگ نے بھی دعوی کیا کہ مغربی ایشیا کے لئے ایک بڑا قدم اٹھا لیا گیا ہے اور اب ابراہیم سازشی منصوبے کے تحت دیگر ملکوں کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیں گے۔

متحدہ عرب امارات اور صیہونی حکام خطے میں تنازعات کے حل کی بات ایک ایسے وقت کر رہے ہیں کہ جب اس غاصب حکومت نے اوسلو امن معاہدے سے لے کر آج تک کسی بھی معاہدے کو درخور اعتنا نہ سمجھتے ہوئے خود کو کسی قانون یا معاہدے کا پابند نہیں سمجھا ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close