
یوکرینی صدر کا فیصلہ امریکی دفتر میں نہیں ہوگا، زیلنسکی
یوکرینی صدر سے جب امریکی سینیٹر کیجانب سے استعفے کے مطالبہ سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں سین لنڈسے گراہم کو یوکرین کی شہریت دینے کی پیشکش کرتا ہوں، اگر وہ چاہتے ہیں کہ انکے مطالبے میں کچھ وزن ہو تو وہ یوکرینی شہریت حاصل کرسکتے ہیں۔
شیعہ نیوز: کرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے استعفے کا مطالبہ کرنے والے امریکی سینیٹر کو منہ توڑ جواب دے دیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اوول آفس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر زیلنسکی کے درمیان گرما گرم جملوں کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد امریکی سینیٹر سین لنڈسے گراہم نے یوکرینی صدر سے استعفے کا مطالبہ کر دیا۔ امریکی صدر کے ساتھ ہونے والی بحث کے بعد یوکرینی صدر نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی سینیٹر سین لنڈسے گراہم کو کرارا جواب دیتے ہوئے یوکرینی شہریت دینے کی پیشکش کر دی۔ صدر زیلنسکی سے جب امریکی سینیٹر کی جانب سے استعفے کے مطالبہ سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں سین لنڈسے گراہم کو یوکرین کی شہریت دینے کی پیشکش کرتا ہوں، اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کے مطالبے میں کچھ وزن ہو تو وہ یوکرینی شہریت حاصل کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یوکرین سے اظہارِ یکجہتی! ناروے کی کمپنی نے امریکی فوج کو ایندھن کی سپلائی روکدی
یوکرینی صدر کا جواب سن کر صحافی نے ان سے ایک بار پھر پوچھا کہ اس کے باوجود کہ وہ آپ سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں، آپ انہیں یوکرینی شہریت کی پیشکش کر رہے ہیں۔ صحافی کے سوال پر زیلنسکی نے جواب دیا کہ میں اسے یوکرین کی شہریت دے سکتا ہوں، وہ ہمارے ملک کا شہری بن جائے، پھر اس حوالے سے بات کرے کہ کسے یوکرین کا صدر ہونا چاہیئے اور کسے نہیں، اس وقت اس کی بات میں دم ہوگا اور میں اس کی بات پر غور بھی کروں گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوکرین کا صدر کون ہوگا، اس کا فیصلہ ایک یوکرینی ہی کرسکتا ہے، اس کا فیصلہ امریکی دفتر میں نہیں ہوگا۔