مشرق وسطیہفتہ کی اہم خبریں

شہید سلیمانی کی کوششوں کے بغیر حشد الشعبی کی تشکیل ممکن نہیں تھی

شعیہ نیوز:شہید ابو مہدی المہندس کی بیٹی منار جمال آل ابراہیم نے کہا ہے کہ ایران اور حزب اللہ کی حمایت کے بغیر فوری طور پر عراقی سرزمینوں کو آزاد کرانا بہت مشکل تھا۔

شہید ابو مہدی المہندس کی بیٹی منار جمال آل ابراہیم نے المیادین ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے تکفیریوں اور دہشت گردوں کے زیر قبضہ علاقوں کو آزاد کرانے کیلئے حشد الشعبی کی تشکیل کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر شہید قاسم سلیمانی کی کوششیں اور ایران کی حمایت نہ ہوتی تو حشد الشعبی کی تشکیل ممکن نہیں تھی۔

شہید ابو مہدی المہندس کی بیٹی نے شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس کی شہادت کی پہلی برسی کے موقع پر کہا کہ بغداد میں امریکی سفارت خانہ سازشوں اور قتل و غارت گری کا مرکز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہید ابو مہدی المہندس کو ہمیشہ شہید قاسم سلیمانی کی فکر لاحق تھی اور ان کی کوشش تھی کہ ہمیشہ قاسم سلیمانی کے ساتھ ساتھ رہیں۔

منار جمال آل ابراہیم نے امریکہ کی جانب سے شہید ابو مہدی المہندس کو عراقی پارلیمنٹ تک رسائی نہ دینے کے حوالے سے امریکی دباؤ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے انھیں بلیک لسٹ میں شامل کر لیا تھا اور اسی لئے ان پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
دوسری جانب عراق کی عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی کے کمانڈر نے کہا ہے کہ شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس کے خون کے انتقام کا پہلا قدم ان سے تجدید بیعت اور ان کی راہ کو جاری رکھنا ہے۔

فالح الفیاض نے اتوار کے روز ان شخصیات کی عظیم شہادت کے مقام پر اپنے ایک خطاب میں کہا ہے کہ حشد الشعبی پوری ایک امت ہے اور وہ ان شہدا کے پاک خون کی وفادار بنی رہے گی نیز وہ ان اعلی و ارفع اقدار کا تحفظ کرتی رہے گی کہ فاتح کمانڈر جن پر تاکید کرتے رہے ہیں۔

کتائب حزب اللہ عراق کے سیکریٹری جنرل ابو حسین الحمیداوی نے بھی ان عظیم استقامتی کمانڈروں کی شہادت کی پہلی برسی کے موقع پر سرزمین عراق کی حفاظت کے لئے استقامت کے ہتھیار کا تحفظ کئے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تاکید کی کہ خداوند متعال کی مدد و نصرت سے ہزاروں کی تعداد میں قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس بنیں گے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں عراقی عوام اتوار کی صبح بغداد کے التحریر اسکوائر کی طرف رواں دواں ہو گئے تاکہ استقامتی محاذ کے عظیم شہید کمانڈروں کی پہلی برسی کی مناسبت سے شہادت و حاکمیت کے زیرعنوان عظیم مظاہروں میں شرکت کرسکیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال 3 جنوری کو امریکی دہشت گرد فوج نے ڈونلڈ ٹرمپ کے براہ راست حکم سے ایران کی قدس بریگیڈ کے کمانڈر، جنرل قاسم سلیمانی اور عراق کی عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر جنرل ابو مہدی المہندس کو ان کے ساتھیوں کے ہمراہ فضائی حملہ کر کے شہید کر دیا تھا۔ شہید قاسم سلیمانی حکومت عراق کی باضابطہ دعوت پر بغداد پہنچے تھے اور وہ حکومت عراق کے مہمان تھے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close