مشرق وسطی

یمنی فوج کی نجران میں غیر معمولی کارروائیوں پر پریس کانفرنس

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) یمنی فوج کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں سعودی عرب کے علاقے نجران میں یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی بڑی کارروائیوں نصرمن اللہ کے بارے میں مزید تفصیلات بیان کی ہیں انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں کے لئے پچھلے چھے مہینے سے انٹیلیجنس اور دیگر معلوماتی اقدامات انجام دئے جارہے تھے۔

یمنی فوج کے ترجمان یحیی سریع نے کہا کہ یمنی فوج نے گذشتہ پندرہ اگست سے نجران کے محاذ پر مختلف سمتوں سے اپنی کارروائیوں کا آغاز کیاتھا ۔

یمنی فوج کے ترجمان نے کہا کہ یہ کارروائیاں کئی مہینے کی انٹیلیجنس کارروائیوں اور پوزیشن و حالات کا صحیح طریقے سے اندازہ لگالئے جانےکے بعد انجام دی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے انٹیلیجنس اداروں کے افراد نے دشمن کی صفوں میں اپنی جگہ بنا کر اور سعودی حکومت کے فریب میں آجانے والے وطن کے غداروں کے درمیان جاکر ان کارروائیوں کو انجام دلانے اور انہیں کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

یمنی فوج کے ترجمان نے کہا کہ نصرمن اللہ نامی کارروائیوں کے پہلے مرحلے میں نو میزائلی کارروائیاں انجام پائیں جبکہ یمنی فوج کے ڈرون یونٹ نے بیس کارروائیاں انجام دیں اور یمنی فوج کے ایئرڈیفنس سسٹم نے بھی جارح سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں اور آپاچی ہیلی کاپٹروں کو ان علاقوں میں سے باہر بھاگنے پر مجبور کیا ۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات سے معلوم ہوتاہےکہ ان کی کارروائیوں میں جارح سعودی اتحاد کے پانچ سو سے زائد فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں یمنی فوج کے ترحمان یحیی سریع نے کہا کہ دشمن کے دو سو فوجی جارح سعودی اتحاد کے ہوائی حملوں میں اس وقت مارے گئے جب وہ فرار کررہے تھے یا یمنی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی کوشش کررہے تھے۔

انہوں نے بتایاکہ جارح سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے کوشش کی کہ اپنے فوجیوں کو محاذ جنگ سے فرار یا یمنی فوج کے سامنے ہتھیار نہ ڈالنے دیں۔

یحیی سریع نے کہا کہ ان کارروائیوں میں جارح سعودی اتحاد کے دوہزار سے زائد فوجی اسیرکئے گئے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان قیدیوں میں بچے بھی شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی ان کارروائیوں میں جارح سعودی اتحاد کی تین فوجی بریگیڈ تباہ ہوگئیں اور ان کے فوجی ساز وسامان کو قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

یمن کی فوج اور عوامی تحریک انصاراللہ کی نصرمن اللہ نامی زمینی کارروائیوں نے سعودی دشمن اور اس کے اتحادیوں کو بھاری جانی نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ میدان جنگ میں بہت ہی اہم اور اسٹرٹیجیک نتائج حاصل کئے ہیں۔

مذکورہ کارروائیاں جدید ترین فوجی ٹیکنیک کی بنیاد پر انجام پائی ہیں اور ان کارروائیوں نے زمینی جنگ میں یمنی فوج کی دفاعی اور فوجی طاقتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا اس کے علاوہ ان کارروائیوں میں اچانک آپریشن کرنے کا عنصر بھی شامل تھا اور دشمن کے جو فوجی وسیع و عریض علاقے میں گرفتار کئے گئے وہ سمجھ رہے تھے کہ یمنی فوج نے نجران کے بعض علاقوں سے پسپائی اختیار کرلی ہے اور اسی وجہ سے وہ یمنی فوج کے اچانک کئے گئے آپریشن کےجال میں پھنس گئے۔

اس درمیان یمن کی نیشنل سالویشن کی حکومت کے وزیراطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ یمن کی فوج اور عوامی رضاکارفورس یمنی عوام کے خلاف جارح قوتوں کے ہر طرح کے اقدام کا سخت جواب دیں گی ۔

یمن کی نیشنل سالویشن کی حکومت کے وزیراطلاعات و نشریات ضیف اللہ شامی نے المیادین ٹیلی ویژن چینل سے اپنے انٹرویو میں کہا کہ سعودی حکام کو یہ جان لینا چاہئے کہ یمن کے اندر اگر وہ اپنی جارحتیں جاری رکھیں گے تو مستقبل میں سعودی عرب کے اندر فوجی ٹھکانوں پر اس سے بھی زیادہ سخت اور بڑے حملے کئے جائیں گے۔

دوسری جانب یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے ترجمان محمد عبدالسلام نے کہا ہے کہ نجران میں یمنی فوج کی نصراللہ من اللہ نامی کارروائیاں تمام سطحوں پر سعودی عرب کے لئے بہت سے پیغامات کی حامل ہیں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button