شہید سردار حاج قاسم سلیمانیمشرق وسطی

شہید جنرل سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کے قتل کے کیس کاتعاقب کررہے ہیں

شیعہ نیوز: ایرانی عدلیہ کے نائب سربراہ اور انسانی حقوق کونسل کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہم تینوں سطحوں میں شہید جنرل سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کے قتل کی کیس کاتعاقب کررہے ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران میں ہمارے تحقیقات ختم ہوچکے ہیں اور بین الاقوامی امور کے پراسیکیوٹر آفس نے فرد جرم کا بڑا حصہ تحریر کیا ہے اور فرد جرم کا متن بہت جلد قانونی کاروائی کیلئے تہران جسٹس کو بھیجا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار "کاظم غریب آبادی” نے آج بروز اتور کو سپریم لیڈر کے نقطہ نظر سے امریکی انسانی حقوق کی چوتھی بین الاقوامی کانفرنس کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

ایرانی عدلیہ کے نائب سربراہ نے مزید کہا کہ ہم بیک وقت عراقی حکومت کے عدالتی حکام سے رابطے میں ہیں؛ اس حوالے سے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل ہوئی تھی جس کے تہران اور بغداد میں تین دور کے اجلاس منعقد ہوئے؛ دونوں عدالتی تنظیموں کے درمیان بہت ساری دستاویزات کا تبادلہ ہوگیا اور ہم نے عراقی حکومت اور عدالتی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس عمل میں مزید تیزی لائیں۔

انہوں نے کہا کہ عراق، قتل کا اصل مقام ہے اور شہید جنرل سلیمانی عراقی ملک کے مہمان تھے؛ لہذا توقع کی جاتی ہے کہ اس کیس کا جلدی سے تعاقب کیا جائے اور اس عظیم دہشتگردی جرم میں ملوثین کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

کاظم غریب آبادی نے مزید کہا کہ اس جرم میں ملوث بعض ممالک کے حقیقی اور حقوقی (یک فرد، کمپنی یا تنظیم جس کے قانونی حقوق اور ذمہ داریاں ہوں) کی پہچان ہوئی ہے۔ ہمارے عدالتی ساتھیوں نے سات ممالک میں عدالتی نمائندے بھیجے اور مطالبہ کیا کہ تحقیقات مکمل کی جائیں۔ شاید یہ ممالک ہمارے ساتھ تعاون نہ کریں لیکن یہ تحقیقات کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں کرسکتا۔ تحقیقات مکمل ہونے ہی سے اس جرم میں ملوث تمام عناصر چاہے وہ امریکہ، عراق یا دیگر ممالک سے تعلق رکھتے ہو، کی سزا دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں مشترکہ عدالتی کمیٹی کے تیسرے اجلاس میں عراق کے عدالتی نظام کیجانب سے اس جرم میں ملوثین سے متعلق بہت ساری دستاویزات مل گئیں؛ تو ظاہر ہے کہ استغاثہ کا قانونی نقطہ نظر سے ان دستاویزات کا جائزہ لینے پر ذمہ دار ہے؛ یہ مسئلہ فرد جرم عائد کرنے کے عمل کو دو یا تین مہینوں کیلئے تعلل کا شکار کیا لیکن اب ان دستاویزات کا پورا جائزہ لیا گیا ہے اور استغاثہ نے ان کا استعمال کیا ہے۔

ایرانی کونسل برائے انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا کہ فرد جرم کے متن کا بڑا حصہ تحریر کیا گیا ہے اور اس کا ایک چھوٹا حصہ رہ گیا ہے جو میرے خیال میں دو یا تین مہینوں کے اندر مکمل ہوجائے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button