پاکستانی شیعہ خبریں

کرم ایجنسی:افواج پاکستان طالبان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرے

کرم ایجنسی پاراچنار میں طالبان دہشتگردوں سے نجات کے لئے قبائل نے افواج پاکستان سے طالبان دہشت گردوں کے خلاف فوجی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔شیوت نیوز کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق کرم ایجنسیپاراچنار کے قبائل نے جمعرات کے روز کور کمانڈر پشاور جنرل آصف یاسین اور اعلی سول و فوجی حکام کے کرم ایجنسی میں ا یک روزہ دورے پرمطالبہ کیا ہے کہ ٹل پاراچنار روڈ جو کہ گذشتہ چار برس سے طالبان دہشت گردوں کے قبضے میں ہے اسے آمد و رفت کے لئے بحال کیا جائے ۔
دوسری جانب انتہائی مایوس کن صورتحالاس وقت پیدا ہوئی جن کرم ایجنسی کے دورے پر آئے ہوئے جنرل آصف یاسین نے طالبان دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے کو بہت بری پریشانی قرار دیا اور کہا کہ پاک فوج مقابلہ نہیں کر سکتی۔
اس موقع پر قبائل نے کور کمانڈر جیسے اہم عہدے پر فائز شخص کی تقریر سننے کا بعداس تقریر کو طالبان دہشت گردوں کی پشت پناہی سے تعبیر کرتے ہوئے بھرپور احتجاج کیا۔بعد میں شیعہ قبائلی عمائدین نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت و اسٹیبلشمنٹ نے حال ہی میں اسلام آباد آنے والے جان کیری سے کروڑوں ڈالرز لینے اور شمالی وزیرستان میں آپریشن کے جھوٹے وعدے کرکے ایک بار پھر شمالی وزیرستان سے حقانی نیٹ ورک کو شلوزان اور پیواڑ تنگئی میں بسانے کے لئیے گذشتہ چند دنوں سے جنگ مسلط کر کے ریاستی دہشت گردی کی مرتکب ہورہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کتنے شرم کی بات ہے کہ بحرین میں امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے اور آل خلیفہ کی ڈکٹیٹرشپ بچانے اور عوامی تحریک کو کچلنے کے لئیے کرائے کے فوجی قاتلوں کی صورت میں بھیجنے کے لئیے تو فوج موجود ہے ،لیکن اپنے ملک کے چار سال سے بند ٹل پاراچنار شاہراہ کے صرف اٹھارہ کلومیٹر روڈ کو طالبان دہشت گردوں سی محفوظ کرنے کے لیے فوج نہیں تو پھر غریب ملک کے اسی فیصد بجٹ ھڑپ کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
دریں اثنا گذشتہ ایک مہینے سے مسلسل اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی کیمپ لگا نے والے یوتھ آف پاراچنار کے ترجمان نے کور کمانڈر کے دورے کو مسترد کرتے ہوئے اپنا ملک گیر احتجاج جاری رکھتے ہوئے چار سال سے بند ٹل پاراچنار شاہراہ کھول کر مسلط غیر انسانی محاصرہ ختم کرنے اور دو مہینے پہلے لوئر کرم بگن سے طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں اغواشیعہ عمائدینقبائل کے چونتیسں افراد کی رہائی تک جاری رکھنے کا اعلان کیاہے۔
یوتھ آف پاراچنار کے ترجمان کے مطابق سول و ملٹری قیادت ایک ہی سکے کے دورخ اور پاراچنار کے عوام پر ظلم و جبر میں برابر کے شریک ہیں۔اگر ایک طرف رحمان ملک نے گھنٹوں میں ٹل پاراچنار روڈ کھلنے کے درجنوں جھوٹے وعدے کئے تو دوسری طرف آرمی چیف و اعلی فوجی قیادت نے پاراچنار کے تین سے زیادہ دوروں میں جھوٹے وعدے کئیے،یوتھ آف پاراچنار کے ترجمان نے دھمکی دی کہ اگر ہمارے مطالبات عملی طور پر حل نہ کئیے گئیے تو ہم جی ایچ کیو روالپنڈی کے سامنے احتجاجی دھرنے پر مجبور ہوں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button