مضامین

عرب دنیا کےگھبرائے ہوئے حکمران

تیونس میں مظاہروں کے آغاز کو صرف دو ماہ گزرے ہیں۔ پولیس نے ایک نوجوان کو پھلوں اور سبزیوں کا ٹھیلہ لگانے سے روکا، اور اس نے غصے میں آ کر خود کو نذرِ آتش کر دیا۔ اس وقت سے تیونس اور مصر کے صدور تبدیل ہو چکے ہیں۔ مظاہرین سمجھ چکے ہیں کہ اگر وہ دباؤ ڈالیں گے اور پولیس کے خلاف اپنے خوف پر قابو پا لیں گے تو زبردست نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
قاہرہ میں مظاہرین کے ایک رہنماء نے کہا تھا کہ پچیس جنوری کو جب وہ پہلی مرتبہ سڑک پر آئے تو پولیس کی گرفتاری سے پہلے انہوں نے یہی سوچا تھا کہ ان کا احتجاج پانچ منٹ سے زیادہ نہیں چلے گا۔ میں بھی اعتراف کروں گا کہ جب میں مظاہروں کے دوران قاہرہ پہنچا تو مجھے بھی یہی لگا صدر مبارک کی ریاست، مظاہرین کے لیے بہت طاقتور ثابت ہو گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
اب واضح ہو چکا ہے کہ کوئی بھی عرب حکمران، خود کو محفوظ نہیں سمجھ سکتا۔ ایران میں ایک بار پھر مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ ایرانی حکام اور یمن، لیبیا، الجیریا اور بحرین کی عرب حکومتیں مقابلہ کر رہی ہیں جبکہ دیگر ملکوں کے حکمران اور ان کی خفیہ پولیس، اس شش و پنج میں ہے کہ مظاہروں کا سلسلہ ان کے ہاں کب شروع ہونے والا ہے۔
ان تمام ملکوں کے اپنے اپنے مسائل ہیں لیکن چند مسائل ایک جیسے ہیں۔ ان میں سے ایک مسئلہ حکومتوں کا جارحانہ رویہ اور دوسرا بڑھتی ہوئی نوجوان نسل کا اضطراب ہے جو اپنے سے پہلی نسلوں کی نسبت، باہر کی دنیا کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں۔
عرب مشرقِ وسطٰی میں عوامی رائے گزشتہ پچاس برس کے دوران ہی ابھر کر سامنے آئی ہے۔ ان ممالک کے سربراہان نے سوچا تھا کہ وہ لوگوں کی سوچ کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن اب ایسا نہیں۔
نوے کی دہائی کے وسط سے عرب بھر میں سیٹلائٹ ٹی وی نے اس نظریے کو بدل کر رکھ دیا ہے کہ کن موضوعات کو زیرِ بحث لایا جا سکتا ہے۔ اور اب سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس کی بدولت ہر کوئی اس بحث میں شامل ہو سکتا ہے۔
کوئی بھی ملک اب بند ہو کر نہیں بیٹھ سکتا لیکن ان کے حکمران اب بھی ایسے برتاؤ کر رہے ہیں کہ یہ انیس سو ساٹھ کا زمانہ ہے۔
اب سب کی نظریں بحرین پر جمی ہیں۔
برسوں سے یہاں کا سنّی شاہی خاندان اس آبادی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس میں سے ستر فیصد شیعہ ہیں۔ یہاں کے حکمرانوں نے آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے دوسرے ممالک سے سنّیوں کو بلایا ہے اور انہیں شہریت کے ساتھ ساتھ ملک کی سکیورٹی فورسز میں نوکریاں دی گئی ہیں۔
بحرین سعودی عرب کے مشرقی صوبے سے جڑا ہوا ہے اور بحرینی شیعوں میں بےچینی سعودی عرب کے شاہی خاندان کے لیے بھی باعثِ تشویش ہے۔ سعودی عرب کا مشرقی صوبہ ہی وہ علاقہ ہے جہاں تیل کے بیشتر ذخائر ہیں اور یہاں شیعوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ شاید سعودی شاہی خاندان کو پریشان ہونا بھی چاہیے۔ بادشاہ اور ولی عہد دونوں معمر اور بیمار ہیں۔
عرب دنیا میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہونے سے قبل ہی سعودی عرب میں شہزادوں کی اگلی نسل کو اقتدار کی منتقلی کے حوالے سے فکر پائی جا رہی تھی۔ اور اگر سعودی فکرمند ہیں تو آپ اس حساب کتاب کا اندازہ لگا سکتے ہیں جو واشنگٹن، لندن اور دیگر مغربی دارالحکومتوں میں لگایا جا رہا ہوگا۔
سالوں تک ان ممالک نے جو اپنے ہاں جمہوریت اور انسانی حقوق کی بہتر صورتحال پر فخر کرتے ہیں، ان غیر جمہوری حکومتوں کی حمایت کی ہے جو اپنے عوام کو دبا کر رکھتی رہی ہیں۔ یہ جمہوری منافقت کا اہم اور کارآمد حصہ ہے۔ لیکن اب مغربی ممالک کو ایک نئے مشرقِ وسطٰی کا سامنا ہوگا اور یہ کوئی نہیں جانتا کہ حالات کیا رخ اختیار کرنے والے ہیں۔
جیریمی بوئن
ایڈیٹر مشرقِ وسطٰی، بی بی سی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button