مضامین

بحرینیوں کاخون رنگ لائےگا

بحرین کابحران ابھی جاری ہے اورعوام اپنےحقوق کےلئےمسلسل مظاہرےکررہےہيں۔بعض مظاہرین کوعمرقیدکی سزادیئےجانےکےخلاف ہونےوالےمظاہروں کوبحرینی اورسعودی فورسس نےسختی سےکچل دیا۔اطلاعات کےمطابق مظاہرین پرسعودی فورسس نےبراہ راست فائرنگ کی جس میں متعدد افرادبری طرح زخمی ہوگئے۔اس بیچ اقوام متحدہ کےجنرل سکریٹری بان کی مون نے مظاہرین پرمقدمہ چلائےجانےکےعمل پرسخت تشویش ظاہرکی ہے۔
بان کی مون کےترجمان مارٹین نسیرکی نےبحرینی مظاہرین کی صورت حال پرتشویش ظاہرکرتےہوئےکہاکہ بان کی مون کومظاہرین پرمقدمہ چلائےجانےاوراکیس سیاسی رہنماؤں، انسانی حقوق کےکارکنوں اوراپوزیش لیڈروں کوعمرقیدسنائےجانے پرستخت تشویش ہے۔انھوں نےمزیدکہاکہ بان کی مون نےبحرینی حکام سےمطالبہ کیاہےکہ وہ انسانی حقوق کےسلسلےمیں عالمی قوانین کےدائرےمیں کام کریں اورملزمان پرغیرفوجی عدالت میں مقدمہ چلائيں۔
یہ ایسےعالم میں ہےکہ بحرین کی ایک عدالت نےبائیس جون کوآٹھ اپوزیشن لیڈروں کوآل خلیفہ حکومت گرانےکی کوشش کرنےکےجرم میں عمرقید اورحزب اختلاف کےتیرہ افراد کوپندرہ سال قیدکی سزاسنائی ہے۔
فوجی عدالت کےاس حکم کی بحرین کی سب سےاہم اپوزیشن پارٹی الوفاق اورانسانی حقوق کی حامی بہت سی تنظیموں اورگروہوں نےشدیدمخالفت کی ہے۔ بحرین کے انسانی حقوق کے ادارے کی نوجوانوں کی سوسائٹی کے سربراہ نے فوجی عدالتوں میں سیاسی کارکنوں پر مقدمے کو غیرقانونی قرار دیاہے۔
محمد المسقطی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ بحرین کے آئین کے مطابق فوجی عدالتوں میں عام شہریوں پر مقدمہ چلانا غیرقانونی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکنوں پر خصوصی عدالتوں میں دو ہزار چھ کے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے قانون کے تحت مقدمے چلائے جا رہے ہیں کہ جس پر اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی اداروں نے تنقید کی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی سیاسی کارکنوں کو سزائیں سنائے جانے کو غیرمنصفانہ قرار دیا ہے کیونکہ بحرین کے شہریوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمے چلائے جا رہے ہیں اور کسی ثبوت کے بغیر انہیں سزائیں دی جا رہی ہیں۔ بحرینی مظاہرین کوفرضی مقدمات میں پھنسائےجانےاورانھیں غیرقانونی طریقوں سے‎سزائيں دیيےجانےکےباوجود،بحرین کی انسانی حقوق کی تنظیم کےرکن عباس عمران نےاعلان کیاہےکہ بڑےپیمانےپرسازشوں کےباوجود عوامی انقلاب جاری رہےگا۔عباس عمران نےآل خلیفہ کےجرائم کی طرف اشارہ کرتےہوئےکہاکہ دنیاجانتی ہےکہ بحرینی عوام کاانقلاب پرامن ہونےکےباوجودآل خلیفہ کےمظالم ، سعودی فوج کےتشدد اورمغربی ممالک کی دوغلی پالیسیوں کاشکار ہے۔
بحرین کی انسانی حقوق کی تنظیم کےرکن عباس عمران نےکہاکہ معروف اپوزیشن لیڈروں کےخلاف آل خلیفہ کی فوجی عدالتوں سےسنائےجانےوالےفیصلے، سیاسی اغراض ومقاصد کےحامل ہیں۔اورآل خلیفہ اس سےسیاسی فائدہ اٹھارہی ہے۔بحرین کےعوام آزادی کی لڑائی جاری رکھےہوئےہیں اوراس سلسلےمیں وہ بڑی سےبڑی قربانیاں بھی دےرہےہيں آیےاس تناظرميں سنتےہيں ہندوستان کےسینئرصحافی اورتجريہ نگارجناب عالم نقوی کےخیالات۔۔۔
یہ تھےہندوستان کےسینئرصحافی ممبئی ٹائمزکےایڈیٹرعالم نقوی سامیعن اس میں کوئي شک نہيں کہ بحرینی عوام مسلسل قربانیاں دےرہےہيں اورچودہ فروری سےمسلسل آمریت کےخلاف احتجاج اور مظاہروں کاسلسلہ جاری رکھےہوئےہيں بحرینی عوام کی تحریک اس قدرطوفانی تھی کہ اسےکچلنےکےلئےاس چھوٹےسےملک میں سعودی عرب ، اردن ، کویت اورمتحدہ عرب امارات کواپنی فوجیں بھیجنی پڑیں لیکن وہ بھی مظاہروں کاسلسلہ بندنہيں کراسکیں اس میں کوئی شک نہيں کہ بحرینی عوام قربانیاں دےرہےہيں لیکن ان قربانیوں کےنتیجہ خیزہونےکےلئےوقت درکار ہے ۔اس لئےکی تاریخ گواہ ہےکہ کوئی بھی تحریک ہوبالخصوص اگروہ امریت وسامراجیت کےحلاف ہوتواس میں کچہ زیادہ ہی وقت درکارہوتاہے۔ ہرانقلاب خون مانگتاہے اورپھرخون رنگ لاتاہے،بحرینی عوام کاخون بھی رنگ لائےگاچاہےآل خلیفہ اورآل سعوداسےفوجی عدالتوں میں فرضی مقدمےچلاکردھلنےکی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کریں ۔مظلوم کاخون فرضی مقدموں سےنہيں دھلاجاسکتا اورتحریک انقلاب توپ وٹینک سےنہيں کچلی جاسکتی۔ اورجہاں تک سامراج کےتعاون ومدد کی بات ہے تو شاید یہ انقلاب بحرین کےلئےبہترہی ہوکہ انقلابیوں کوسامراج کاتعاون حاصل نہيں ہےکیونکہ ہم نےلیبیااورصربیامیں دیکھ لیاکہ سامراج کی مدد کس طرح اور کس مقصد کےتحت ہوتی ہے۔لیبیاکےانقلابیوں کی مدد کےلئےآنےوالےسامراج کےآلہ کارنیٹو نےآج نہ صرف لیبیاکی اینٹ سےاینٹ بجادی ہےبلکہ جب انقلابی طاقتیں اپنی گرفت مضبوط کرناشروع کرتی ہیں تووہ انھیں پربمباری کردیتی ہیں۔اوراب تک نیٹوکی کاروائيوں میں دسیوں انقلابی اوربےگناہ عوام مارےجاچکےہيں جبکہ قذافی اور اس کےایجنٹ جن کےہاتھ اپنےہی عوام کےخون سےرنگین ہيں اب بھی گھوم رہےہيں ۔سامراج نےقوموں کی تحریکوں میں ہمیشہ اپنارنگ بھرنےکی کوشش ہے اوراسےاپنےمفادات کی سمت میں موڑنےکی کوشش کی ہے ۔بحرین کےعوام کی خوش قسمتی یہ ہےکہ امریکی اوربرطانوی سامراج اور علاقےمیں ان کی کٹھ پ
تلیاں انقلابیوں کےساتھ نہيں ہیں کیونکہ اس طرح یہ توممکن ہےکہ تحریک انقلاب کی کامیابی میں تاخیرہوجائےلیکن اس طرح اس کےیرغمال ہونےکاامکان معدوم ہوگیاہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button