مضامین

گلگت۔بلتستان:ناصبی دہشت گردوں کے نشانے پر،ریاست خاموش تماشائی

پاکستان کے شمالی علاقہ جات گلگت بلتستا ن میں کالعدم دہشت گرد گروہو ں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی سمیت کالعدم طالبان ناصبی وہابی دہشت گردوں کا اسٹرکچر روز بروز مضبوط ہوتا جا رہا ہے جس کے پس پردہ ریاستی عناصر کے ہونے کی واضح دلیلیں موجود ہیں۔شیعت نیوز کے تجزیہ نگار کے مطابق ملک بھر میں جاری شیعہ نسل کشی میں ملوث کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ،لشکر جھنگوی اور ناصبی وہابی طالبان دہشت گرد اب گلگت میں شیعہ نسل کشی کے لئے اپنے ناپاک اور مذموم مقاصد کو پایہ تکمیل پہنچانے کے لئے گلگت بلتستان کے امن وامان کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں ۔
ملک بھر میں بشمول ڈیرہ اسماعیل خان،پارا چنار،کوئٹہ اور کراچی میں ہزاروں بے گناہ شیعہ عمائدین کو انہی کالعدم دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے تعلق رکھنے والے ناصبی وہابی یزیدی دہشت گردوں نے ٹارگٹ کلنگ میں شہید کیا ہے جبکہ گلگت بلتستان بھی ان ناصبی وہابی دہشت گردوں سے محفوظ نہیں رہا ۔
گلگت بلتستان جو کہ پاکستان کے شمال میں واقع ہے اور دفاعی اعتبار سے پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے جس کی واضح مثال ماضی میں پاکستان کے دشمنوں سے ہوانے والی جنگوں میں گلگت بلتستان کے شیعیان حیدر کرار (ع) نے سینہ سپر ہو دشمن سے جنگ کی ہے ۔
ملک دشمن قوتیں اور چند ریاستی عناصر جو ملک دشمن قوتوں کے ساتھ مل کر ملک خداداد پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں ،انہی ناصبی وہابی کالعدم دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے دہشتگردوں کی حمایت اور مدد کر رہے ہیں تا کہ ملک بھر میں شیعہ نسل کشی کو تیز کیا جائے ۔
جہاں تک گلگت اور بلتستان کی موجودہ صورتحال کی بات ہے تو گلگت میں آئے روز یہی کانگریسی اور امریکی وصیہونی ایجنٹ کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے یزیدی صفت دہشت گرد شیعہ آبادیوں کا محاصرہ کر رہے ہیں تا کہ شیعہ آبادیوں کی اکثریت کو شیعہ اقلیت میں تبدیل کیا جائے ،جہاں ناصبی وہابی دہشت گرد اس طرح کے مذموم عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے گلگت میں شیعہ عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ کر رہے ہیں وہیں ناصبیوں کے سرپرست ملعون ضیاء الحق کی باقیات اور چند ریاستی عناصر ناصبی دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہے ہیں تا کہ شیعہ اکثریتی آبادی کو اقلیت میںتبدیل کیا جائے اور آئیندہ برس الیکشن میں من پسند نتائج برآمد کئے جائیں ۔
گلگت میں شیعہ نسل کشی کے ساتھ ساتھ کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی وہابی دہشت گردوں نے آئے روز اسلام آباد سے گلگت جانے والی اہم شاہرہ کو بھی کئی کئی دن تک بند کر دینے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جبکہ اسلام آباد سے گلگت جانے والی بسوں سے شیعہ عمائدین کو شناخت کے بعد اغوا کیا جانے لگا ہے اور بھاری تاوان مانگنے کی اطلاعات کے ساتھ ساتھ مغوی شیعہ عمائدین کو شہیدکرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوتی رہتی ہیں جبکہ دوسری جانب حکومت کی خاموشی اور بے بسی ایک سوالیہ نشام بن چکی ہے۔
گلسگت بلتستا ن میں کالعدم دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی وہابی دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی دہشت گردانہ کاروائیوں پر جہاں پولیس انتظامیہ ناصبی دہشت گردوں کے خلاف کاروائی نہیں کر رہی وہاں دوسری جانب حکومتی اعلیٰ ادارے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔
شیعت نیوز کے تجزیہ نگار کاکہناہے کہ ملک بھر میں جاری شیعہ نسل کشی اور خصوصاً گلگت بلتستان میں شیعہ نسل کشی میں ریاستی عناصر ملوث ہیں جو کہ یہ چاہتے ہیںکہ گلگت بلتستان میں شیعہ قیادت کو دبا دیا جائے اور اپنی من پسند حکومت کے لئے ووٹ کا وزن بڑھایا جائے تاہم گلگت بلتستان کے بہادر اور شجاع شیعہ عمائدین نے بھی اس عزم کا ارادہ کر لیا ہے کہ نہ تو کالعدم دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے سامنے جھکیں گے اور نہ ہی امریکی وصیہونی آلہ کار دہشت گرد وں کے سرپرست عناصر کی کسی دھونس دھمکی میں آئیں گے۔
لیکن گلگت بلتستان کی پوری صورتحا ل کو دیکھنے اور پڑھنے کے بعد ایک بات ضرور سمجھ میں آتی ہے کہ آخر امریکی و صیہونی آلہ کار دہشت گرد جماعتوں کالعدم سپاہ صحابہ،لشکر جھنگوی اور طالبان کو حکومت نے کیوں آزاد چھوڑ رکھا ہے ؟کیا اس لئے کہ وہ ملک بھر میں شیعہ نسل کشی کریں؟
یہ سوالات اٹھتے رہیں گے لیکن افسوس ناک اور صد حیف ہے ان عناصر پر جو کانگریسی ایجنٹ ہیں اور پاکستان کے خلاف گھناؤنی سازشیں کر رہے ہیں ،تاہم ملت جعفریہ بھی اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ پاکستان بناتے وقت بھی اپنا خون دیا تھا اور آج بھی اس ملک کو بچانے کے لئے قربانیوں سے دریغ نہیں کریں گے۔
ملت جعفریہ کی تاریخ شہادتوں سے سرشار ہے اور جو قوم امام حسین علیہ السلام کو مانتی ہے وہ شہادت سے نہیں گھبراتی ،موت ہم پر آپڑے یا ہم موت پر ،بات ایک ہی ہے۔۔۔۔لیکن ناصبی وہابی دہشت گردوں کو اس ملک کو برباد نہیں کرنے دیں گے۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button