پاکستانی شیعہ خبریں

علامہ امین شہیدی سے لیاقت بلوچ کی ملاقات۔ ملی یکجہتی کونسل کی بحالی اور ملکی مجموعی صورتحال پر گفتگو

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی سے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹریٹ میں جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ نے ملاقات کی۔ جس میںملی یکجہتی کونسل کی بحالی ،پاکستان میں امریکی مداخلت، امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز اور ملک کی موجودہ سیاسی و مذہبی صورتحال پرسیر حاصل گفتگو کی گئی۔مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ اصغر عسکری بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔ اس موقع پر لیاقت بلوچ سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ ملی یکجہتی کونسل کی بحالی خوش آئند بات ہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے ایسے انداز میں لے کر آگے چلا جائے کہ اس میں تمام مکاتب فکر کی یکساں نمائندگی ہو اور پھر اس فورم سے ملک و ملت کی فلاح کے لئے ایسے اقدامات کیے جائیں کہ جو معاشرے میں تحمل و برداشت کی فضاء کو پروان چڑھانے میں مددگار ثابت ہوں اور مذہبی سکالرز کی اتحاد بین المسلمین کے لئے کی جانے والی کاوشیں عوامی سطح پر بھی ثمر آور ثابت ہوسکیں۔ جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری  لیاقت بلوچ جنہیں گذشتہ روز ملی یکجہتی کونسل میں رابطہ سیکرٹری کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل قاضی حسین احمد ایسی شخصیت کی سربراہی میں انشاء اللہ امت مسلمہ کی وحدت کے لئے امید کی کرن ثابت ہو گی۔ ہماری اولین ترجیح پاکستانی معاشرے کو اسلامی فلاحی معاشرہ اور مملکت خداداد پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست کے طور پر متعارف کروانا ہے جس میں تمام مذاہب اور مسالک کے لوگ اپنے اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ گلگت  بلتستان میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں کی دونوں رہنماؤں نے بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے گلگت  بلتستان سمیت ملک میں بھر میں باقاعدہ کوششیں کی جائیں گی اور اسی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ملی یکجہتی کونسل کے تنظیمی ڈھانچے میں مصالحتی کمیشن اور تقریب المذاہب کا کمیشن قائم کیا جا رہا ہے جس میں تمام مسالک کے جید علمائے کرام شامل ہوں گے جو معاشرے میں باہمی احترام و اخوت کی فضاء کو فروغ دینے کے لئے عملی کاوشیں کریں گے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امت مسلمہ کے تمام مسائل کا حل اتحاد بین المسلمین میں پنہاں ہے۔ملک میں بڑھتی ہوئی امریکی مداخلت کو دونوں رہنماؤں نے وطن عزیز کی سا  لمیت اور خودمختاری پر کاری ضرب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے قوم کو اسے حوالے سے متحد کیا جائے گااور ہر سطح پر اس کی بھرپور مذمت و مخالفت کی جائے گی۔رہنماؤں کا کہنا تھا کہ امریکہ او ر اس کی حواری قوتوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ہر حوالے سے ہر سطح پر ہر قسمی نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ ان قوتوں کی آنکھوںمیں ایٹمی پاکستان کھٹکتا ہے جو کلمہ طیبہ کی بنیاد پر وجود آیا۔ رہنماؤں نے  ملک میں دہشت گردی اور فرقہ واریت کو ملکی سلامتی و استحکام کے خلاف گہری سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ امن دشمن قوتوں کو امریکہ اور مغرب کی آشیر باد حاصل ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حکمرانوںکا طرز حکمرانی اسلامی اصولوں کے مطابق ہو تاکہ جہاں انہیں خود عالمی سطح پر عزت و وقار ملے وہاں خط غربت سے نیچے گزر بسر کرنے والی عوام کی حالت بھی بہتر ہو سکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button