مضامین

ایم کیو ایم کے وفد کی اعلیٰ امریکی عہدیداروں سے ملاقاتوں میں کیا طے ہوا ہے؟

hillryclinton and farooq saعوامی حلقوں میں پاکستان کے حکمران اتحاد کی اہم جماعت متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر اور رابطہ کمیٹی کے رکن فاروق ستار کی امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن او ر امریکی خصوصی نمائندہ برائے پاکستان و افغانستان (ایفپاک) مارک گراسمین سے ملاقاتوں کو تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ یہ خبریں گردش میں ہیں کہ امریکا نے ایم کیو ایم کو اسلام و مسلمین کے خلاف کوئی اہم ذمے داری سونپ دی ہے جس میں شیعہ نسل کشی میں تیزی لانا بھی شامل ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکزی رہنما فاروق ستار نے چند روز قبل ہی امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اور پاکستا ن اور افغانستان امور کے خصوصی سفیر مارک گراسمین سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب پاکستانی قوم ا سلام مخالف امریکی فلم کے ذریعے کی جانے والی توہین رسالت (ص) کے خلاف یکجا ہورہے ہیں اور منظم اتحاد کر رہے ہیں، متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما اور وفد کی امریکی اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتوں کا مقصد یقیناًپاکستان میں امریکہ کے خلاف ہونے والے احتجاج کو روکنے اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتا ۔
ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں کا امریکی اعلیٰ عہدیداروں سے ملنے کا اصل مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی امریکی نفرت کواور امریکہ مخالف جذبات کو ختم کرنے اور توجہ ہٹانے کے لئے ملت جعفریہ کی ٹارگٹ کلنگ کو تیز کرنا ہے تا کہ فرقہ واریت کو ہوا دے کر تحریک تحفظ ناموس رسالت(ص) کو سبو تاژ کیا جاسکے ۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس وقت پاکستان بھر میں مسلمان توہین رسالت (ص) کے خلاف احتجاج میں مصروف عمل تھے ایسے موقع پر امریکی سفارتکار متحدہ قومی موومنٹ کے مرکزی دفتر نائن زیرو میں سالگرہ منا رہے تھے۔
رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ متحد ہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں کی امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اوخصوصی نمائندہ برائے پاکستان اور افغانستان(ایفپاک) مارک گراسمین سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں میں ایم کیو ایم کو شیعہ نسل کشی کا ٹارگٹ دے دیا گیا ہے جس کے بعد ایم کیو ایم کے ڈیتھ اسکواڈ نے تیزی سے کام شروع کر دیا ہے۔
جبکہ کزشتہ دنوں معروف ویب سائٹ پر اس پاب کا نکشاف کیا ہے کے کراچی میں 25 فعال شیعہ افراد کو قتل کرنے کی سازش
ملک بھر میں بڑھتی ہوئی شیعہ بیداری اور ہشیاری سے خوفزدہ ہو کر کراچی کی ایک بڑی سیاسی جماعت نے اپنے (کے ٹی سی ) ڈیتھ اسکواڈ کو پچیس سے زائد شیعہ نمایاں شخصیات اور علمائے کرام کو ٹارگٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، انتہائی باوثوق اور باخبر ذرائع سے ہمیں یہ معلومات ملی ہیں کہ ڈیتھ اسکواڈ کے انچارچ حماد صدیقی اور عرفان خان کو وہ لسٹ پہنچا دی گئی ہے جس میں تمام ان پچیس افراد کے نام ان کے ایڈریس وغیرہ اور ضروری معلومات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ ابھی چند دن قبل ہی اچانک کراچی میں دو دن کے اندر دس کے قریب شیعہ افراد کو شہید کر دیا گیا جو اسی سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے۔ کراچی کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھنے والی یہ جماعت ایک طرف اپنے آپ کو نجات دہندہ سمجھتی ہے تو دوسری جانب ہر وہ شخص یا جماعت جو کراچی میں کسی بھی حوالے سے فعال ہو اسے برداشت نہیں کر سکتی یہاں تک کہ ان صحافیوں تک کو یہ برداشت نہیں کر سکتے جو ان کے خلاف کچھ لکھے یا تنقید کرے جس کی ایک بڑی مثال ایک معروف نجی چینل کے رپورٹر ولی خان بابر کا قتل ہے۔ اس جماعت کی عدم برداشت کا یہ عالم ہے کہ ان کے خلاف ایک بیان کراچی میں دسیوں بے گناہوں کی لاشیں گرا دیتا ہے، درجنوں بسیں جلائی جاتی ہیں اور کراچی ہفتہ بھر کے لئے مفلوج ہو جاتا ہے۔
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شیعہ ہمدردانہ بیانات اور مسلسل شیعہ حمایتی ٹی وی شو کے پس پردہ مقاصد اب کھل کر سامنے آرہے ہیں ایک طرف تو یہ جماعت اہل تشیع کے قتل عام میں ہمدردی دکھا رہی ہے تو دوسری جانب اہل تشیع کو منظم نہیں دیکھ سکتی اور اسی ہمدردی کی آڑ میں اپنے ڈیتھ اسکواڈ کو ایسے تمام افراد کو راستے سے ہٹانے کا ٹاسک دیتی ہے جو ان کی مرضی کے مطابق عمل نہ کریں،اب دیکھنا یہ ہے کہ ایسے حالات میں شیعہ رہنما کیا اقدامات کرتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button