پاکستانی شیعہ خبریں

کوئٹہ، شہداء کے جنازوں کے ساتھ احتجاجی دھرنا جاری، شہر کو فوج کے حوالے کرنیکا مطالبہ

quetta dharnaکوئٹہ یکجہتی کونسل کے تحت کوئٹہ پرل چوک پر ہزاروں کی تعداد میں اہل تشیع سانحہ علمدار روڈ میں شہید ہونے والوں کے جنازوں کے ساتھ احتجاجی دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ یہ احتجاجی دھرنا گذشتہ سات گھنٹوں سے جاری ہے۔ دھرنے کے شرکاء اس موقع پر 86 شہداء کی میتیں رکھ کر احتجاج کر رہے ہیں۔ دھرنے میں کوئٹہ یکجہتی کونسل، مجلس وحدت مسلمین، ، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سمیت کوئٹہ کی مقامی تنظیمیں اور اداروں کے رہنماؤں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ درجہ حرارت منفی میں ہونے کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں مرد و خواتین، بچے، بوڑھے، جوان اس دھرنے میں شامل ہیں۔

اس موقع پر مقررین نے کہا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا اور شہداء کے جنازے بھی مطالبات کی منظوری کے بعد ہی دفن کئے جائیں گے۔ شرکائے دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ مقررین کا کہنا ہے کہ کوئٹہ سمیت پاکستان بھر میں دہشتگرد آزادانہ کارروائیاں کرتے پھر رہے ہیں اور اعلٰی عدلیہ اور حکومتی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ شرکاء دھرنا کی جانب سے کوئٹہ میں مسلسل جاری شیعیانِ حیدر کرار (ع) کی نسل کشی میں ملوث کالعدم لشکر جھنگوی کے دہشتگردوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ درایں اثناء اب تک صوبائی حکومت کے کسی بھی فرد نے مظاہرین سے کسی بھی طرح کا رابطہ نہیں کیا ہے، لیکن مومنین استقامت کے ساتھ اپنے مطالبات پر عملدرآمد کروانے کے لئے میدان میں موجود ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز کوئٹہ میں علمدار روڈ کے نزدیک پرل چوک پر امریکہ نواز تکفیری گروہ کے دہشتگردوں نے دو خودکش حملے کئے تھے۔ ان حملوں میں صحافیوں سمیت سینکڑوں اہل تشیع شہید اور زخمی ہوئے تھے۔ ان دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری امریکہ نواز کالعدم لشکر جھنگوی کے ترجمان ابوبکر صدیق نے نجی خبر رساں ادارے کو فون کرکے قبول کی تھی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button