پاکستانی شیعہ خبریں

اسلم رئیسانی کو بحال کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے کوئٹہ کی طرف لانگ مارچ ہو گا۔شرکاء کا آل پارٹیز امن کانفرنس سے خطاب

apc qtaاسلم رئیسانی کو بحال کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے کوئٹہ کی طرف لانگ مارچ ہو گا۔شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث تکفیری دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے۔ملک بھر میں جاری دہشت گردی میں امریکہ اسرائیل سمیت غیر ملکیاں ایجنسیاں ملوث ہیں۔بلوچستان میں گورنر راج کی بھرپور حمایت کا اعلان۔

آل پارٹیز کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ
کوئٹہ 🙁 )اسلم رئیسانی کو بحال کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے کوئٹہ کی طرف لانگ مارچ ہو گا۔شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث تکفیری دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے۔ملک بھر میں جاری دہشت گردی میں امریکہ اسرائیل سمیت غیر ملکیاں ایجنسیاں ملوث ہیں۔ان خیالات کا اظہار کوئٹہ میں منعقد ہونے والی ’’کل جماعتی کوئٹہ امن کانفرنس‘‘ کے شرکاء نے آل پارٹیز امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
کوئٹہ میں جاری دہشت گردانہ کاروائیوں اور شیعہ مسلمانوں کی مسلسل نسل کشی کے خلاف کوئٹہ میں منگل کے روز آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہید ی نے کی ۔آل پارٹیز کانفرنس میں جماعت اسلامی پاکستان کے جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ،پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کے سینئر نائب صدر سردار نصیر مینگل،پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سردار فتح محمد حسنی،متحدہ قومی موومنٹ پاکستان بلوچستان کے رہنما سلیم اختر ایڈووکیٹ،پاکستان مسلم لیگ نواز کے صوبائی آرگنائزرخدائے نور اور نصیب اللہ بازئی،کوئٹہ یکجہتی کونسل کے رہنما عبد القیوم چنگیزی،پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر نوابزادہ شریف جوگزئی او ر صوبائی صدر قاسم خان سوری،اقلیتوں کے رہنما ڈان فرانس،سنی سپریم کونسل کے رہنما صاحبزادہ حبیب شاہ چشتی،تنظیم اسلامی کے اقتدار محمد،عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام نبی مری اورجمہوری وطن پارٹی کے میر عبد الرؤف ساسولی اور آصف ساسولی سمیت مجلس وحدت مسلمین پاکستان بلوچستان کے رہنما مولانا مقصود علی ڈومکی،مولانا ہاشم موسوی اور دیگر موجود تھے۔
آل پارٹیز کانفرنس میں موجود تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے مشترکہ طور پر قرار دادوں کو منظور کرتے ہوئے کہا کہ بلو چستان میں نافذ گورنر راج کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور بلوچستان مین بلوچ عوام کے اغوا ء سمیت تشدد جیسے واقعات کا تدارک کیا جائے ۔بلوچستان کے مسائل کو طاقت کے بجائے گفت و شنید کے ساتھ حل کیا جائے۔بلوچستان میں 66سالہ محرومیوں کا ازالہ کیا جائے ۔بلوچستان کے ساحل ا وروسائل پر بلوچستان کے عوام کا حق حاکمیت تسلیم کیا جائے۔
کوئٹہ میں جاری دہشت گردی اور شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہید ی کاکہنا تھا کہ گورنر راج کی مخالفت کرنے والے خود مظلوم انسانوں کے قتل عام اور کوئٹہ میں جاری دہشت گردی میں ملوث ہیں۔علامہ امین شہید ی نے کہا کہ اگر کسی نے بھی بلوچستان کے نا اہل اور بدمعاش کرپٹ سابق وزیر اعلیٰ رئیسانی کو واپس لانے کی کوشش کی تو تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں مل کر بلوچستان بچاؤ مہم کا آغاز کر یں گی اورملک بھر سے کوئٹہ کی طرف لانگ مارچ کیا جائے گا۔
آل پارٹیزامن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری کاکہنا تھا کہ بلوچستان میں رئیسانی حکومت ناکام ہو چکی تھی اور بلوچستان کے عوام کو دہشت گردی اور قتل غارت کے علاوہ کچھ نہیں دیا گیا ۔جماعت اسلامی پاکستان کے جنرل سیکرٹری کاکہنا تھا کہ گورنر راج کی حمایت کرتے ہیں اور بلوچستان کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کیا جائے گا۔لیاقت بلوچ کاکہنا تھا کہ شہید علامہ عارف حسین الحسینی اور قاضی حسین احمد نے پاکستان میں اتحاد و وحدت کے لئے انتھک محنت کی لہذٰا آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بھی وحدت کا دامن تھامیں اور ملک و اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں کے خلاف سینہ سپر ہو جائیں۔
امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سردار فتح محمد حسنی کاکہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے بلوچستان میں گورنر راج کا نفاذ کیا ہے اور مستقبل میں بھی ہماری قیادت عوام کے مسائل کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی اور مظلوموں سے اظہار یکجہتی کرتے رہیں گے خواہ اس کے لئے ہمیں کسی بھی قسم کی قربانی کیوں نہ دینا پڑے۔انہوں نے کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ برادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سراہا اور کہا کہ کوئٹہ میں مسلسل شیعہ نسل کشی کے باوجود ہزارہ شیعہ برادری نے صبر کا دامن تھامے رکھا اور اپنی استقامت اور شجاعت سے دشمن کے تمام ناپاک منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔ان کاکہنا تھا کہ بلوچستان پاکستان کا 44فیصد ہے اور جو بلوچستان سے مخلص نہیں وہ پاکستان سے مخلص نہیں ہے ۔انہوں نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے بلوچستان کے مسئلے پر آل پارٹیز امن کانفرنس کا انعقاد کر کے بلوچستان کے عوام کی اصلاً دل جوئی کی ہے جس پر وہ لائق تحسین ہیں۔
آل پارٹیز امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نواز کے صوبائی آرگنائزر خدائے نور اور نصیب
اللہ بازئی کاکہنا تھا کہ ہم کوئٹہ کے شیعہ ہزارہ برادری کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں او ر فخر کرتے ہیں کہ ہزارہ شیعہ برادری نے ہزارو ں مظالم کے باوجود بھی قانون کی پاسداری کی اور امن وامان کو قائم رکھا۔
آل پارٹیز امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کے سینئر نائب صدر سردار نصیر مینگل کاکہنا تھا کہ اسلام نے ہمیں اتحاد و اخوت کا درس دیا ہے اور پاکستان کے تمام مسائل کا حل مسلم امہ کے اتحاد میں ہی ہے ۔ان کاکہنا تھا کہ ملک دشمن قوتیں پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتی ہیں
تاہم اتحاد کے ذریعے ان سازشوں کو ناکام بنایا جا سکتاہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سب سیاسی جماعتیں گفتار کی غازی ہیں لیکن جب وقت پڑتا ہے تو سب میدان سے بھاگ جاتے ہیں ۔
آل پارٹیزامن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر نوابزادہ شریف او ر صوبائی صدر قاسم خان سوری کاکہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف مظلوموں کے ساتھ ہے اور بلوچستان میں جاری دہشت گردی اور شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی کی شدید مذمت کرتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے مفاد اور بقاء کی خاطر ضروری ہے کہ حکمت آمیز فیصلے اور اقدامات کئے جائیں تا کہ غیر ملکی ایماء پر دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے اور عوام کو تحفظ کی یقینی فراہمی کی جائے۔ان کاکہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ کوئٹہ میں عظیم سانحے کے بعد چار دن تک شہداء کے جنازے سڑک پر رکھے رہے اور ہم سب کے سب خاموش تماشائی بنے رہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اصلی دشمن امریکہ ہے جو افغانستان کی سرحد سے دہشت گردوں کو استعمال کر کے ملک میں انارکی پھیلانا چاہتا ہے۔
آل پارٹیزامن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکرٹری امان اللہ شاد زئی کاکہنا تھا کہ شیعہ شیعہ ہی رہے،سنی ،سنی ہی رہے۔کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا ہے کہ وہ کسی کوکافر قرار دے۔ان کاکہنا تھا کہ ہم سب مسلمان ہیں اور آپس میں بھائی ہیں اور امریکہ مسلمانوں کا آپس میں لڑوانا چاہتا ہے اور امریکی کارندے اس ناپاک مقصد کے لئے سرگرم عمل ہیں ہمیں متحد ہو کر ان کی سرکوبی کرنا ہوگی۔
آل پارٹیز امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان بلوچستان کے رہنما سلیم اختر ایڈووکیٹ،کوئٹہ یکجہتی کونسل کے رہنما عبد القیوم چنگیزی،اقلیتوں کے رہنما ڈان فرانس،سنی سپریم کونسل کے رہنما صاحبزادہ حبیب شاہ چشتی،تنظیم اسلامی کے اقتدار محمد،عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام نبی مری اورجمہوری وطن پارٹی کے میر عبد الرؤف ساسولی اور آصف ساسولی سمیت مجلس وحدت مسلمین پاکستان بلوچستان کے رہنما مولانا مقصود علی ڈومکی،مولانا ہاشم موسوی اور دیگر کاکہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں فقط بیانات دینے تک محدود نہ رہیں بلکہ عوام کی خدمت کو اپنا اولین فریضہ سمجھیں۔اس موقع پر رہنماؤں کاکہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے انتہائی شکر گذار ہیں کہ انہوں نے بلوچستان کے عوام کو نجات دلوانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔رہنماؤں کاکہنا تھا کہ بلوچستان اور خصوصاً کوئٹہ میں ہزارہ شیعہ برادری کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جا رہاہے جو کہ مکمل منصوبہ بندی اور گہری سازش کا حصہ ہے۔رہنماؤں نے مزید کہا کہ عالمی استعماری قوتیں پاکستان میں فرقہ واریت کو ہوا دے کر مسلمانوں کو آپس میں باہم دست و گریباں کرنے کی گھناؤنی سازشیں کر رہی ہیں تاہم ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو مل کر ان سازشوں کا قلع قمع کرنا ہوگا۔
آل پارٹیزامن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان بلوچستان کے رہنما مولانا مقصود علی ڈومکی نے تمام شرکائے کانفرنس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان بھر کے اور خصوصاً بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اتحاد سے ہی ممکن ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان بلوچستان کی جانب سے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں بھی متحد اور مشترک کوششوں سے پاکستان بھر اور خصوصاً بلوچستان سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک رہیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button