پاکستانی شیعہ خبریں

لاہور میں یوم علی(ع) کا جلوس کربلا گامے شاہ میں عزت و احترام کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا

لاہور میں یوم علی(ع) کا جلو س صبح 9 بجے مبارک حویلی سے شروع ہو کر اپنے مقرر راستوں سے ہوتا ہوا ایک بجے دوپہر رنگ محل چوک میں پہنچا جہاں جلوس میں شریک عزاداروں نے نماز ظہرین ادا کی۔ نماز کی امامت کے فرائض آغا سید حیدر علی موسوی نے ادا کئے۔ نماز کے تمام انتظامات آئی ایس او موچی گیٹ یونٹ کے کارکنوں نے کئے تھے۔ نماز کی ادائیگی کے بعددوبارہ جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا شام کو چھ بجے بھاٹی چوک میں پہنچا جبکہ چھ بج کر 36 منٹ پر کربلا گامے شاہ پہنچا۔

جلوس میں 5 ہزار پولیس اہلکار تعینات کئے گئے تھے جبکہ ٹریفک کا نظام بحال رکھنے کیلئے بھی ہزاروں وارڈن متبادل روٹس پر تعینات رہے۔ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر جلوس کے روٹ پر موبائل سروس کو بھی بند رکھا گیا۔ جلوس کی سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے مانیٹرنگ بھی کی جاتی رہی جبکہ کنٹرول روم بھی پورا دن مکمل فعال رہا۔ اس موقع پر پولیس کے اعلیٰ افسران بھی جلوس کی سکیورٹی کو مکمل طور پر مانیٹر کرتے رہے۔

جلوس میں عزاداروں نے ماتم داری اور نوحہ خوانی کی جبکہ زنجیر زنی بھی کی گئی۔ جلوس میں مرد عزاداروں کے ساتھ خواتین کی کثیر تعداد بھی شریک رہی۔ جلوس کے شرکا کے لئے جگہ جگہ شربت اور میٹھے دودھ کی سبیلیں بھی لگائی گئی تھیں جبکہ لنگر کا بھی خاطر خواہ انتظام تھا۔ جبکہ مخیر حضرات نے روزہ داروں کی افطاری کے لئے وافر اہتمام کر رکھا تھا۔ بانیان مجالس کی جانب سے جلوس کی کوریج کرنیوالے میڈیا کے نمائندوں کو بھی افطاری کروائی جبکہ پولیس اہلکاروں کی تواضع بھی لنگر سے کی گئی۔ جلوس کے اختتام پر کربلا گامے شاہ میں نماز مغربین ادا کی گئی اور شرکا نے روزہ افطار کیا۔

یوم علی(ع) کے مرکزی جلوس کے علاوہ شہر بھر میں یوم شہادت حضرت امام علی علیہ السلام کی مناسبت سے تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ مختلف مساجد اور مدارس میں سیمینارز کا انعقاد کیا گیا جس میں علما کرام نے سیرت علی علیہ السلام پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے آپ علیہ السلام کے دور حکومت کو مثالی قرار دیتے ہوئے حکمرانوں کیلئے اسے مشعل راہ قرار دیا۔ مقررین نے حضرت علی علیہ السلام کی اسلام کے لئے خدمات پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔ میڈیا نے بھی یوم علی علیہ السلام کی مناسبت سے خصوصی اہتمام کیا۔ اخبارات نے خصوصی ایڈیشن شائع کئے جبکہ ٹی وی چینلز پر بھی خصوصی پروگرام نشر کئے گئے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button