مضامین

اسرائیل اور عالمِ اسلام! (خصوصی کالم)

تحریر: طاہر یاسین طاہر

رہبر انقلاب اسلامی نے غزہ کے مسئلے کو عالم اسلام کا نمبر ایک مسئلہ قرار دیا۔ اسلامی انقلاب کے سربراہ نے تاکید کی کہ انسانیت کو اس مسئلے پر ردعمل دکھانا چاہیے۔ اسلامی جمہوری ایران کے سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ غزہ میں صیہونی حکومت کے اقدامات نسل کشی پر مبنی اور عظیم تاریخی المیہ ہے۔ اس مجرم حکومت اور اس کے حامیوں پر ایک عالمی عدالت میں مقدمہ چلا کر انہیں کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے۔ سید علی خامنہ ای نے کہا کہ دنیا میں مختلف اقوام  کے ترجمانوں اور مصلحین کو چاہیے کہ وہ صیہونی مجرموں کو سزا دیئے جانے کا مطالبہ کریں، خواہ یہ مجرمین اقتدار میں ہوں یا اقتدار سے ہٹ چکے ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو بھی سزا دیئے جانے کا مطالبہ کیا جائے جو صیہونی حکومت کی حمایت کر رہے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے مزید کہا کہ غزہ کے عوام جو اپنے برحق ہونے پر استقامت کا ثبوت دے رہے ہیں، ان کی طاقت و استقامت فلسطین کی طاقت و استقامت کی نشاندہی کرتی ہے اور آخرکار ملت فلسطین صیہونی دشمن پر کامیاب ہوکر رہے گی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ دشمن اب پشیمان ہوچکا ہے اور اگر وہ غزہ پر جارحیت جاری رکھے گا تو اسکو مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکہ اور دنیا کے تمام مجرمین صیہونی حکومت کو نجات دلانے کے لئے غزہ پر جنگ بندی کا معاہدہ مسلط کرنا چاہتے ہیں، سامراجی قوتیں فلسطین کی مزاحمتی تحریکوں حماس اور تحریک جہاد اسلامی کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا چاہتی ہیں، لیکن عالم اسلام کو چاہیے کہ وہ صیہونی حکومت کے مقابل ملت فلسطین کو زیادہ سے زیادہ ہتھیار فراہم کرے۔

انقلاب اسلامی کے سربراہ آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ عالم اسلام کو اپنے اختلافات ختم کرکے اپنی تمام تر توانائیوں سے غزہ کے عوام کی ضروریات کو پورا کرنا چاہیے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے تمام مسلمان اقوام کو عید سعید فطر کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ اسلامی تعلیمات و معارف کے برعکس آج سیاست اور اقتدار پسندی نے امت اسلامی کو تفرقے سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے اسلامی ممالک کے حکام کو اس طرح کے محرکات پر قابو پانے اور طاقتور امت واحدہ کی تشکیل دینے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اگر اقتدار پسندی، وابستگی اور فساد سے عالم اسلام میں تفرقہ نہ پھیلے تو پھر کوئی بھی سامراجی طاقت اسلامی ممالک پر حملہ کرنے یا ناجائز مراعات لینے کی جرات نہیں کرسکے گی۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے مزید کہا کہ صیہونی حکومت کے ہاتھوں اس گستاخی سے غزہ کے عوام کا قتل عام، عالم اسلام کے تفرقے کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مغرب میں خفیہ سنسر کا جال اس بات کا موقع نہیں دیتا کہ مغربی قومیں غزہ کے ہولناک حالات سے آگاہ ہوسکیں، لیکن غزہ میں صیہونی جرائم اس قدر ہولناک اور دلخراش ہیں کہ مغربی میڈیا میں ان کے ایک چھوٹے سے نمونے کے نشر کئے جانے سے غیر مسلم قومیں لرز کر رہ جائیں گی اور سڑکوں پر نکل آئیں گی۔ اسلامی جمہوی ایران کے سپریم لیڈر نے کہا کہ غزہ کے ثابت قدم اور مظلوم عوام کو اس وقت غذا، پانی، مکانات، اسپتالوں کی تعمیر نو نیز دواؤں کی اشد ضرورت ہے اور ملت فلسطین کو اپنا دفاع کرنے کے لئے ہتھیار بھی درکار ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ جیسے سامراجی ملکوں نے کھل کر صیہونی بربریت کی حمایت کرکے نیز عالمی اداروں منجملہ اقوام متحدہ نے ڈھکے چھپے الفاظ میں صیہونی جرائم کی حمایت کرکے اس خونخوار حکومت کے جرائم میں شرکت کی ہے۔

بے شک اسرائیل بربریت کی ایک تاریخ رقم کر رہا ہے۔ عالمی میڈیا بالخصوص مغربی میڈیا اسرائیلی جارحیت کو اسرائیل کا دفاعی حق بنا کر پیش کر رہا ہے، حالانکہ اسرائیل ایک غیر اعلانیہ ایٹمی طاقت ہے جبکہ فلسطین کے مظلوم نہتے۔ پھر دفاع کیسا اور کیونکر؟ ہمیں اس امر میں کلام نہیں کہ اسرائیل ایک مجرم ریاست ہے جسے دنیا کے بڑے ظالموں کی پشت پناہی حاصل ہے، مگر رہبرِ اسلامی انقلاب کی اس بات سے کون اختلاف کرسکتا ہے کہ اسرائیلی بربریت مسلمانوں کے باہمی اختلافات کا نتیجہ ہے۔ بے شک مسلم حکمران اپنی اقتدار پسندی اور اپنی بادشاہتوں کے دوام کے لیے سامراجی ایجنٹ بنے ہوئے ہیں، جس کے باعث سامراج ان بادشاہتوں کو دوام دینے کے بدلے اپنے ناجائز بیٹے اسرائیل کے لیے ان بادشاہتوں سے رعائتیں لیتا ہے۔ اگر سارے عرب پیدل ہی ہاتھوں میں تلواریں اٹھا کر اسرائیل کی طرف چل پڑیں تو بخدا اسرائیل گھنٹوں میں راہِ راست پر آسکتا ہے۔ ہمیں تسلیم کر لینا چاہیے کہ عرب حکمرانوں کے بجائے اب عرب عوام کو اپنے مظلوم فلسطینی بہن بھائیوں کے لیے نکلنا ہوگا۔ عرب عوام کو جان لینا چاہیے کہ اسرائیل اگر آج غزہ میں ایسا کرسکتا ہے تو کل ان کی بھی باری آسکتی ہے، کیونکہ گریٹر اسرائیل کے منصوبے پر عمل پیرا صہیونی ریاست اپنے سامراجی آقاؤں کی مدد سے مشرقِ وسطٰی کا نقشہ تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ 

رہبرِ اسلامی انقلاب نے جن باتوں کی طرف امتِ مسلمہ کی توجہ دلائی، اگر اس لمحے میں بھی مسلم حکمرانوں نے مسئلے کی سنگینی کا ادراک نہ کیا تو خدانخواستہ اس کے بھیانک نتائج نکلیں گے۔ غزہ میں موت زندگی پر بری طرح غالب آچکی ہے، محصور فلسطینیو
ں کے لیے نہ خوراک ہے نہ غذا، نہ رہائش نہ پناہ، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل بار بار اسرائیل سے جنگ بندی کی اپیل کرچکی ہے مگر اسرائیل کا جارحانہ رویہ اس عالمی ادارے کی بے بسی اور جانبداری کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ بلاشبہ اسرائیل کی جانب سے اقوامِ عالم کے اس نمائندہ ادارے کی قراردادوں کو رد کرنا امریکہ کی اس طاقت کا بھی مظہر ہے جسے’’ویٹو‘‘ کہا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں اس وقت بڑی طاقتیں اسرائیل کے حق میں متحد ہیں۔ کیا مسلمان ممالک بھی اپنے نسلی و مسلکی اختلافات بھلا کر اسرائیل کے خلاف متحد ہوسکتے ہیں؟ اگر سعودی عرب، ترکی، اردن، مصر اور پاکستان حماس کی عملی حمایت نہیں کرسکتے تو کیا ’’بوکو حرام سے لے کر القاعدہ، طالبان، لشکرِ طیبہ، لشکرِ جھنگوی ‘‘ و دیگر ’’جہاد پسند‘‘ تنظیمیں اپنی مدد آپ کے تحت غزہ کا رخ نہیں کرسکتیں؟ 

وہ مگر جن کی تربیت کی بنیاد ہی مسلمانوں کے قتلِ عام پر رکھی گئی ہو، وہ کیسے آگے بڑھیں؟ حقائق کو مگر ہم خواہشات کی چادر میں کیسے لپیٹ سکتے ہیں؟ زمینی حقیقت تو یہی ہے کہ امریکہ و برطانیہ سمیت دنیا بھر کے ظالم اسرائیلی پشت پر کھڑے ہیں۔ سارے عرب ممالک بھی، بلکہ اس انتہائی تکلیف دہ صورتحال میں تو ساری عرب ریاستیں بلکہ بادشاہتیں سامراج کو اپنی اپنی وفاداری کا یقین دلانے میں لگی ہوئی ہیں۔ ایسے میں یہ بادشاہتیں اور مسلمانوں کو ہی قتل کرنے والی فرقہ پرست مسلح دہشت گرد تنظیمیں طاقتور امتِ واحدہ کے تصور کو بری طرح زخم زخم کرکے دشمن کی طاقت کو استحکام دینے کا سبب بن رہی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button