پاکستانی شیعہ خبریں

جعفرطیار میں کسی بھی ممکنہ دہشتگردی کے ذمہ دار کے الیکڑک ،ٹاؤن انتظامیہ اور سیکورٹی ادارے ہونگے

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) گذشتہ رو ز کراچی کی بڑی شیعہ آبادی جعفرطیار سوسائیٹی میں گاڑی میں رکھے بم کو ناکارہ بنادیا گیا تھا، یہ بم ایک ہائی روف میں رکھا ہوا تھا، انتظامیہ کا کہنا تھا کہ چوری کی ہائی روف میں 17 کلو بارود موجود تھا جو موبائل فون کے ذریعہ نصب کیا ہو ا تھا جسے بروقت کاروائی کرے ناکارہ بنایا گیا ہے۔

ہمارے نمائندے کے مطابق جعفرطیار میں مسجد حسنین کے عقبی دروازے کے ساتھ قمر بنی ہاشم اسکول کے سامنے ایک مشکوک ہائی روف کی جانب علاقہ کے ایک نوجوان نے توجہ مبذول کروائی اس اطلاع پر رضاکاران جعفرطیار کی ٹیم نے فوری پولیس و رینجرز کو مطلع کرکے بلایا، سیکورٹی اداروں نے فوری کاروائی کرتے ہوئے بم کو ناکارہ بنادیا اور گاڑی اپنے ساتھ لے گئے۔

ہماری اطلاع کے مطابق جعفرطیار سوسائیٹی میں سرکردہ ملی اداروں کی اہم میٹنگ بھی جائے حادثہ پر منعقد ہوئی جس میں علاقہ کو درپیش سیکورٹی مسائل پر بات چیت کی گئی جبکہ آئندہ کسی بھی سانحہ کا پیش خیمہ کے الیکڑک کی جانب سے رات گئے لوڈشیڈنگ ،ملیر ٹاؤن انتظامیہ کی اہلی اور سیکورٹی اداروں کی علاقہ کی سیکورٹی کے حوالے سے مسلسل غفلت کو قرار دیا ۔ اس میٹنگ میں علاقہ کی مساجد کی ٹرسٹ،رضاکارانہ جعفرطیار،آئی ایس او،مجلس وحدت مسلمین سمیت علماء اور دیگر اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے جعفرطیار سوسائیٹی کی انتظامیہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ شیعہ آبادی ہونے کے سبب علاقہ کو مسلسل دہشتگردی کا خطرہ لاحق رہتا ہے، اس کے باوجود کے الیکٹرک رات گئے تک لوڈشیڈنگ کرتی ہے، سوسائیٹی میں داخل ہونے کے کئی راستہ ہیں لوڈشیڈنگ کی وجہ سے وہاں اندھیرا رہتا ہے ۔ جبکہ ملیر ٹاؤن انتظامیہ کی جانب سے ملیر محبت نگر کے کھڑے گندے پانی کے مسئلہ کو حل نا کرنے کی وجہ سے سارا ٹریفک جعفرطیار سوسائٹی کے اندر سے ہوکر گذررہا ہے جسکی وجہ سے بھی سیکورٹی کے شدید خطرات لاحق ہوئے ہیں اور اس بارے میں انتظامیہ کو بھی اطلاع دی گئی ہے یہاں تک کے کمشنر کراچی کے دورہ جعفرطیار کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہوا، دوسری جانب سیکورٹی اداروں نے علاقہ کی سیکورٹی کے لئے گئے بیئرئیرز بھی ہٹاڈالے ہیں۔

ترجماں کا کہنا تھا کہ اگر کوئی سانحہ ہوا تو اس کا ذمہ دار ی ان اداروں پر عائد ہوگی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button