پاکستانی شیعہ خبریں

پاکستان کے 71 ہزار شہداء کے خانوادے طالبان سے مذاکرات کو مسترد کرتے ہیں، علامہ حسن ظفر نقوی

مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام خراسان امام بارگاہ نمائش سے امام بارگاہ علی رضا ایم اے جناح روڈ تک احتجاجی ریلی نکالی گئی اور علامتی دھرنا دیا گیا۔ احتجاجی ریلی و علامتی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل اور مرکزی ترجمان علامہ حسن ظفر نقوی، صوبائی رہنما علامہ صادق رضا تقوی اور کراچی کے رہنما علامہ دیدار علی جلبانی اور دیگر کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات ایک مرتبہ پھر پاکستان کے صوبے بلوچستان میں ہولناک دہشت گردی کی کارروائی کی گئی ہے جس کے نتیجے میں معصوم بچے، خواتین اور بزرگوں سمیت 30 سے زائد شہادتیں ہوئی ہیں جبکہ 70 سے زائد افراد شدید زخمی حالت میں اسپتالوں میں موجود ہیں۔ وفاقی حکومت اور ریاستی ادارے ملک بھر میں دہشت گردوں کی سرکوبی کرنے کے بجائے ان سے مذاکرات کی باتیں کر رہے ہیں جبکہ یہ سفاک اور انسانیت کے دشمن دہشت گرد ملک کے تین صوبوں میں ہولناک تباہی مچا کر معصوم انسانوں کا قتل عام کر رہے ہیں اور معصوم پاکستانیوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اور ریاستی ادارے چاہتے ہیں کہ صرف پاکستان کے ایک صوبے میں امن قائم رہے جس کے نتیجے میں آج پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور وفاقی حکومت اور ریاستی اداروں کی سرپرستی میں کام کرنے والے امریکی و سعودی نواز کالعدم دہشت گرد گروہ کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں اور پاکستان اور اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف عمل ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے تینوں صوبوں میں ہونے والی دہشت گردانہ کاروائیوں میں وفاقی حکومت اور ریاستی ادارے براہ راست ملوث ہیں۔

مقررین کا کہنا تھا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ملک بھر سے دہشت گردی کا خاتمہ صرف اور صرف کالعدم دہشت گرد گروہوں کا قلع قمع کئے جانے سے ہی ممکن ہے جبکہ حکومت اور حکومتی ادارے ملک دشمن اور اسلام دشمن دہشت گرد گروہوں سے مذاکرات کی باتیں کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جو براہ راست پاکستان کے 71 ہزار شہیدوں کے خانوادوں اور پاکستان سے دشمنی کے مترادف ہے۔ کالعدم دہشت گرد گروہوں کا ملک میں وجود اور ملک دشمن کاروائیاں مضبوط اور مستحکم پاکستان کے لئے خطرناک ہیں تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کالعدم دہشت گرد گروہوں کے خلاف آپریشن کئے جائیں نہ کہ ان سے مذاکرات کئے جائیں۔ کوئٹہ میں ہزارہ ٹاؤن میں ہونے والی ہولناک دہشت گردانہ کاروائی میں امریکی، اسرائیلی اور سعودی نواز کالعدم دہشت گرد اور وفاقی حکومت اور ریاستی ادارے براہ راست ملوث ہیں، ملک دشمن اور اسلام دشمن عناصر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر پاکستان اور اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف عمل ہیں جبکہ ہماری حکومت انہی دہشت گردوں سے ہاتھ ملا کر دوستی کی باتیں کر رہی ہے جو کہ انتہائی شرمناک فعل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ امریکہ کے طالبان دہشت گردوں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں ان کو جان لینا چاہئیے کہ امریکہ انہی دہشت گردوں کے ذریعے پاکستان کے خلاف سازشوں کا جال بچھا رہا ہے تاکہ مملکت خداداد پاکستان کو غیر مستحکم کیا جائے۔ آج ملک بھر میں دہشت گردی انتہائی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ پاکستان کے 71 ہزار شہداء کے خانوادے کالعدم دہشت گرد گروہوں سے حکومتی مذاکرات کو مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک کے خلاف سازشیں کرنے والے ریاستی عناصر اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے اور حکومت کو چاہئیے کہ کالعدم دہشت گرد گروہوں کے خلاف زبانی کلامی دوعوں کے بجائے عملی اقدامات کرتے ہوئے ان دہشت گرد عناصر کی سرکوبی کرے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button