پاکستانی شیعہ خبریںہفتہ کی اہم خبریں

مولوی جواد نقوی نے مسلمانوں میں نئی بدعت کا آغاز کردیا

علامہ جواد نقوی نے مسلمانوں کے درمیان نئی بدعت کا آغاز کردیا ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) علامہ جواد نقوی نے مسلمانوں کے درمیان نئی بدعت کا آغاز کردیا ہے۔

جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں قائم مسجد بیت العتیق میں ہرجمعے کو خطبہ جمعہ دیا جاتا ہے لیکن اس کے بعد نماز جمعہ کی بجائے نماز ظہر پڑھادی جاتی ہے۔

مسجد بیت العتیق کے خطیب علامہ جواد نقوی ہر جمعے کو خطبہ جمعہ دیتے ہیں ، ہاتھ میں عصا بھی ہوتا ہے، دو خطبے بھی دیے جاتے ہیں، ایک خطبے میں وعظ و نصیحت اور ایک میں عالم اسلام کی خبریں اپنے مخصوص انداز میں پیش کی جاتی ہیں الغرض خطبہ جمعہ کی تمام شرائط پوری ہوتی ہیں لیکن پھر خطبے کے اختتام پر اس بدعت کا آغاز کیا جاتا ہے کہ نماز جمعہ کو چھوڑ کر ظہر کی نماز ادا کردی جاتی ہے۔

نماز جمعہ کی جگہ نماز ظہرین پڑھا دینے کا واقعہ ایک بار رونما نہیں ہوا ، یہ عمل ہر جمعے کو انجام دیا جاتا ہے جو اب بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہے، جبکہ علامہ کی ٹیم کی جانب سے باقاعدہ ان خطبوں کو تحریری صورت میں بھی شائع کیا جاتا ہے۔

ملت جعفریہ کے اکابرین کا علامہ جواد نقوی سے سوال ہے کہ وہ آخر کیوں اس مسجد میں نماز پڑھنے والوں کو جمعے کی نماز سے محروم رکھتے ہیں ؟ اور اگر اس جگہ پر نماز جمعہ کی شرائط پوری نہیں ہوتیں تو قریب موجود جامع مسجد میں خود اور اپنے طلاب کو لے جانے کی زحمت کیوں نہیں اٹھاتے اور کیوں ہر جمعے کو اس مسجد میں جمعے کے خطبے کا اہتمام کرتے ہیں؟

Tags
Show More

Related Articles

4 Comments

  1. جناب عالی عروۃوثقی سے ایک کلو میٹر کے فاصلے پر نماز جمعہ ہوتی ہے جو کے بہت قدیم ہے. 3 کلو میٹر سے کم فاصلے پر نماز جمعہ ممکن نہیں….

  2. Ayatollah Nasir Mukarim sehrazi se yehi sawal kia gya
    Q: There is an islamic madrissa having 1000 + male and 1000+ female students. Inthis madrasa juma prayer cannot be conducted due to the distance issue between two juma masjids.
    Due to the adminstrative and security problems the students of the madrasa are not allowed to go to the juma prayer place.
    After offering zuhar prayers, an alim delivers speech, to compensate the juma speech for the students in the madrasa
    . The speech includes topic current affairs and taqwa. Is there any problem in doing so?
    Answer of Ayatullah makarim:
    There is no problem in doing so.

  3. یہ یا آپ کے کم علمی ہے یا آپ کی طرف سے عناد اور دشمنی!!!
    اس مسجد میں تو شرائط پوری نہیں مگر ساتھ دو اور آپ کے مدرسے ہیں جسکا آپس میں بھی فاصلہ پورا نہیں پھر بھی آپ کے مولوی ضد کرکے دونوں نماز جمعہ پڑھتے ہیں کہاں دونوں کی نماز نماز باطل ہے
    بتایا جاتا ہے کہ جو پہلے شروع ہو وہ صحیح جو بعد میں نماز شروع کرے اسکی باطل!
    اب اگر کوئی شخص ایک کے چلاجائے تو کیا انکو علم غیب تو نہیں کہ کون پہلے شروع کرتا ہے لٰہذا قرین دونوں کی نماز باطل ہے اس وجہ وہاں جانا ممکن نہیں پھر مومنین کی اگہی کیلئے یہ خطبہ دیا جاتا ہے یہ خطنہ نماز جمعہ نہیں بلکہ یہ خطبہ روز جمعہ ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close