اہم پاکستانی خبریں

خانہ فرہنگ ایران کراچی میں فلسطینی خواتین کی یاد میں ’اشک مریم کانفرنس‘ کا انعقاد

شیعہ نیوز: خانه فرہنگ ایران کراچی میں خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر "اشک مریم” کے عنوان سے فلسطینی مظلوم عوام کی حمایت میں خواتین کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں درجنوں پاکستانی وکلاء، مصنفین، ماہرین تعلیم، میڈیا، سنیما، ٹیلی ویژن اور آرٹ کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے ساتھ ساتھ سماجی اور فلاحی سرگرمیوں سے مربوط خواتین نے بھی شرکت کی۔ کانفرنس کی شرکاء نے اپنی گفتگو میں فلسطینی خواتین اور بچوں کی حمایت کرتے ہوئے صیہونی اسرائیلی غاصب حکومت کے جرائم کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ کانفرنس میں سینئر تجزیہ کار و معروف صحافی نذیر لغاری نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ اشک مریم کانفرنس میں نظامت کے فرائض خاتون صحافی و اینکر پرسن زباد انور نے انجام دیئے۔

خانه فرہنگ ایران کراچی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سعید طالبی نیا نے اپنی تقریر کا آغاز فلسطین کی مزاحمتی خواتین کی بے مثال قربانیوں کی تعریف و توصیف سے کیا اور گفتگو کے تسلسل میں تمام شرکاء کا خیر مقدم اور شکریہ ادا کرتے ہوئے دنیا بھر میں خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد کی بھرپور مذمت کی۔ انہوں نے فلسطین بالخصوص غزہ میں خواتین اور معصوم بچوں پر غاصب اسرائیل کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شرکاء سے کہا کہ وہ میڈیا کے ذریعے صہیونیوں کی درندگی اور انسانیت سوز مظالم کو بے نقاب کریں، تاکہ اس کا مکروہ چہرہ دنیا کو نظر آ جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں دہشتگرد اسرائیلی افواج کی بمباری اور غیر مساوی جنگ میں فلسطینیوں نے بہت سی قیمتی جانیں دیں، لیکن انہوں نے اپنی بے مثال مزاحمت اور فداکاری کے ذریعے تحریک آزادی فلسطین میں ایک نئی روح پھونک دی۔

ڈاکٹر سعید طالبی نیا نے مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف پاکستانی خواتین کی جانب سے اٹھنے والی صدائے احتجاج کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح پاکستان کے شیعہ سنی عوام، ہندو مسیحی و دیگر مذاہب کے ماننے والوں نے مظلوم فلسیطنیوں کیلئے مسلسل صدائے احتجاج بلند کی ہوئی ہے، اس کی مثال دیگر ممالک میں نہیں ملتی، ہم جمہوری اسلامی ایران کی جانب سے پوری ملت پاکستان کے ممنون و مشکور ہیں۔ اشک مریم کانفرنس کی اہم شرکاء میں پروفیسر ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت، معروف سماجی رہنما انیس ہارون، سکینہ ظفر، نزہت شیریں، نرگس انجم، پروفیسر شازیہ فاطمہ، پروفیسر گلِ فروا، رہنما سندھ وومن لائرز الائنس شازیہ نظامانی، حمیرہ رحمان، شہید سعید حیدر زیدی کی اہلیہ عالمہ نزہت سعید، عابدہ بتول، خاتون صحافی بینش عباس، عدیلہ خان، اسراء جمشید و دیگر شامل تھے۔

شرکاء نے کہا کہ تمام تر اسرائیلی ظلم و بربربیت، اپنے بچوں، جوانوں، شوہروں کی شہادتیں دینے کے باوجود استقامت و ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنے والی فلسطینی خواتین دنیا بھر میں ظلم و تشدد کی شکار خواتین کیلئے رول ماڈل ہیں۔ شرکاء نے کہا کہ اقوام متحدہ سمیت غزہ کے مظلوم عوام پر اسرائیلی ظلم و بربریت کو روکنے والا کوئی نہیں، امریکا اور یورپ بھی غزہ پر جاری اسرائیلی درندگی میں شامل ہیں، انہیں شرم نہیں آتی، یہ اپنے آپ کو مہذب نہیں کہہ سکتے۔ شرکاء نے کہا کہ اپنے آپ کو مسلمان کہنے والی عرب بادشاہتیں بھی بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہیں، عرب بادشاہتوں کو اپنے اقتدار کیلئے سب کچھ منظور ہے، غزہ کو کربلا بنایا ہوا ہے، اس پر جارحیت ختم ہونی چاہیئے۔

شرکاء نے کہا کہ اسرائیل کو اس خطے سے نکلنا چاہیئے، یہ ان کا خطہ نہیں ہے، امریکا اور برطانیہ جا کر اسرائیل بناؤ، جو تمہاری اپنی جائے امن ہے۔ شرکاء نے کہا کہ مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی بنا کرو، موجودہ صورتحال کی ذمہ دار حماس نہیں اسرائیل اور اسکے سرپرست ہیں، اسرائیلی دہشتگردی کے سامنے حماس کے پاس اپنے دفاع کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، ظلم و بربریت سے فلسطینی قوم کبھی ختم نہیں ہوگی، البتہ اس ظلم و دہشتگردی پر تاریخ اسرائیل کو کبھی معاف نہیں کرے گی، وقت اس ظلم و ستم کا ضرور بدلہ لے گا۔ شرکاء نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگی جرائم پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button