مشرق وسطیہفتہ کی اہم خبریں

ڈاکٹرزکی ہدایات اور اہل خیر حضرات متاثرین کی بھرپورمدد کریں۔ آیت اللہ سیستانی

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) کوروناوائرس، ڈاکٹرز کی ہدایات پر عمل اور اہل خیر حضرات متاثرین کی بھرپورمدد کریں، مرجع عالی قدر آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی نے کورونا وائرس کے حوالے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس بلا کی دوری کے لئے اللہ تعالی کی درگاہ میں راز و نیاز اور دعا کریں امید ہے کہ مومنین کی دعا اللہ کے حضور موجب اجابت واقع ہوجائے۔دوم: حفظان صحت کے اصولوں کی حدالامکان رعایت کریں۔ سوم: اس بیماری سے محفوظ رکھنے کے لئے دوسروں کی مدد کریں اور ممکن ہو تو اس میں مبتلا افراد کی مدد کریں تاکہ وہ اس سے نجات پاسکیں۔البتہ آخری دو صورتیں بعض حالات میں واجب ہونگی۔

ڈاکٹرزکی ہدایات پر عمل درآمد نا کرنے والوں کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ اگر کورونا میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو یا مبتلا ہونے کی صورت میں مرنے کا یا شدید صدمہ پہنچنے کا احتمال دے تو ایسی صورت میں حفظان صحت کے اصولوں کی رعایت لازمی ہے اور اگر رعایت نہ کرے اور جو احتمال دے رہا تھا وہ محقق ہوگیا تو شرعی طور پر وہ شخص معذور نہیں ہوگا۔اور اگر کوئی شخص اس بیماری میں مبتلا ہے اور دوسروں سے ملتے ہوئے حفظان صحت کے اصولوں کی رعایت نہیں کی اور دوسرے شخص کو بھی اس شخص کا کورونا میں مبتلا ہونے کے بارے میں آگاہی نہ ہو تو اس پر آنے والے نقصان کا ضامن ہوگا، اور موت واقع ہونے کی صورت میں دیت دینا ہوگا۔ اور اگر کوئی مزدور جو مزدوری کر کے اپنا رزق کماتا ہے تو علاج کے دوران جو کام کرنے سے عاجز رہا ہے اس کی اجرت المثل کا بھی ضامن ہوگا۔

کورونا وائرس کی وباء کے باعث متاثرہ مریضوں اور دیگر شہریوں کی معاشی مشکلات کے حوالے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ موجودہ حالات کے نتیجے میں نقصان اٹھانے والے خاندانوں تک ضروری امداد پہنچانا ابتدائی طور پر تو حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے ۔لیکن اگر حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہ کرے (یا نہ کر سکے) تو ایسی صورت میں صاحب استطاعت اہل خیر حضرات کی طرف رجوع کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے تاکہ وہ اس خیر کے کام میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ اس معاملے میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لئے چند گرہوں کا آپس میں گہرے رابطے کے ساتھ عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔

1.اہل خیر حضرات اپنی گنجائش کے مطابق اس کار خیر میں حصہ لیں اور اگر وہ چاہے تو جو کچھ وہ اس سلسلے میں خرچ کرے اسے وجوہات شرعیہ میں حساب بھی کر سکتے ہیں ، اگر مقررہ ضوابط کا خیال رکھ کر خرچ کرے تو ۔

2. تاجر حضرات اپنے پاس موجود غذائی اشیاء فروخت کے لئے پیش کرے اور ان کی قیمتوں میں اضافہ نہ کریں بلکہ قیمتوں میں ممکن حد تک کمی کریں ۔

3. صالح جوانوں کی رضاکار کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو مختلف علاقوں میں موجود ایسے سفید پوش ضرورت مندوں کی تشخیص دے کر ان تک ضروری مواد پہنچائیں ، البتہ یہ کام کرفیو والے علاقوں میں انتظامیہ سے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ نیز مکمل احتیاطی تدابیر کے ساتھ انجام دیا جائے تاکہ یہ جوان خود اس وبا سے بچے رہیں ۔

4. مواکب کے مسؤلین کہ جنہوں نے داعش کے خلاف جنگ کے دوران مجاھدین کے لئے انتہائی قابل فخر انداز میں ضرویات فراہم کئے وہ ایک دفعہ پھر اس مشکل وقت میں متاثرین کی خدمت کے لئے آگے بڑھیں اور ضروری احتیاط تدابير کا لحاظ کرتے ہوئے اپنی خدمات اس سلسلے میں پیش کریں ۔ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سب کو خیر وعافیت عطا کرے اور دنیا سے اس بلا کا خاتمی ہو ، بتحقیق خدا بڑا رؤف و رحیم ہے ۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close