اہم پاکستانی خبریںہفتہ کی اہم خبریں

فرقہ واریت کی سازش کو ناکام بنانے کیلئے مندر، مسجد، امام بارگاہ اور چرچ کا کردار اہم ہوگا، پیرنورالحق

وفاقی وزیر مذہبی امورنورالحق قادری نے کہاہےکہ سنی، شیعہ، سلفی، اہلحدیث کو لڑانے کی سازش کی جا رہی ہے، لیبیا، یمن، شام اور عراق میں فرقہ واریت کا کارڈ چلا، جس کی وجہ سے یہ ملک تباہ ہوئے، ہمیں اس سازش کو ناکام بنانا چاہئیے، اس سازش کو ناکام بنانے کیلئے مندر، مسجد، امام بارگاہ اور چرچ کا کردار اہم ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کل مسالک علماء بورڈ کے چیئرمین مولانا عاصم مخدوم کی جانب سے لاہور میں دی گئےاعزازی استقبالیہ کی تقریب سےخطاب کرتے ہوئے کیا۔

استقبالیہ کی تقریب سمن آباد میں جامع مسجد کبریٰ میں منعقد ہوئی۔ استقبالیہ میں چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد، پی ٹی آئی علماء و مشائخ ونگ کے سیکرٹری جنرل پنجاب علامہ اصغر عارف چشتی، مولانا سلمان شاکر، پیر سید ناظم حسین شاہ، مفتی عاشق حسین، مراد یاسین، چودھری ارشد گجر، مولانا افضل حیدری، پیر سید حبیب عرفانی، قاسم علی قاسمی، حافظ کاظم رضاء نقوی، مولانا ایوب خان، شکیل الرحمن ناصر، بشپ عرفان جمیل، پیر افضل سلطان قادری، ریاض سلطان، مولانا سلمان شاکر، ڈاکٹر بدر منیر، پیر اسد اللہ شاکر، عبدالرب امجد سمیت دیگر نے شرکت کی۔

پیر نورالحق نے کہاکہ بطور پاکستانی میں فخر سے کہتا ہوں کہ تمام اسلامی دنیا میں ہمیں جو مذہبی آزادی حاصل ہے وہ کسی دوسرے ملک میں نہیں۔ لیکن سوچنا چاہئے کہ اس آزادی سے ہم کیسا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ایک عالم دین کی کامیابی یہ ہے کہ جب وہ کسی مسجد کو سنبھالے تو اختلاف کو اتحاد میں بدل جانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ بازاری گفتگو کی مارکیٹ میں مانگ ہے، مگر اس گفتگو اور طریقہ سے کئی سوال اٹھتے ہیں، جس کا جواب دینا ہمارے لئے مشکل ہوتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ علماء کو چاہئے کہ ایسی باتیں نہ کریں جس سے معاشرے میں الجھائو پیدا ہو۔

استقبالیہ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے پی ڈی ایم کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ وفاقی وزیر نے مولانا فضل الرحمن کا نام لئے بغیر اُن کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ٹرمپ کی پیروی نہ کریں۔ پیر نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے یہ ڈیموکریٹک موومنٹ نہیں، فوج کو بُرا بھلا کہتے ہیں، حکومت کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں، آپ آئیں عدم اعتماد کی تحریک لائیں یا پھر 2023 کے الیکشن کی تیاری کریں، کیوں فتنہ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن سمیت مختلف اداروں کو متنازع بنا رہے ہیں، سسٹم کو گرانے اور تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کی اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملک جمہوری تگ و دو کے بعد حاصل کیا ہے، ہمیں ریاست کی ریڈ لائن کو قول و فعل میں تضاد سے کراس نہیں کرنا چاہئے، اگر ہم ریاست کیساتھ برسر پیکار ہوں تو یہ ٹھیک نہیں، پاک فوج کیخلاف ایک عرصے سے ایک غلیظ مہم جوئی ہو رہی ہے جو تل ابیب اور دہلی سے شروع ہوتی ہے اور لندن کے راستہ پاکستان پہنچتی ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close