پاکستانی شیعہ خبریں

اسرائیل بھارت انسانیت کے قاتل، دونوں نے پاکستان کو نشانے پر رکھا ہوا ہے

شیعہ نیوز:اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن علامہ سید افتخار حسین نقوی نے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں پچھلے کئی سالوں سے سے مسلسل دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں، اس میں کوئٹہ کی ہزارہ برادری بری طرح متاثر ہے۔ ان کے دو ہزار کے قریب لوگ نشانہ بن چکے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان بھی شہداء کا شہر ہے، جہاں 600 سے زائد شیعہ مسلک کے لوگ شہید کئے جا چکے ہیں جبکہ ملک بھر میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی زائد ہے، جس میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی بڑی تعداد شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دشمن قوتوں نے پاکستان کو کو کمزور کرنے کے لئے دہشت گردی کا سہارا لیا مگر ہماری افواج نے قربانیاں دے کر صورتحال کو کنٹرول کیا اور اب ہم پرامن ماحول کی طرف جا رہے ہیں، مگر اس کے باوجود دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا۔ دہشت گردوں نے بلوچستان کی سرزمین کو فوکس کیا ہوا ہے۔ ہزارہ برادری کے دس مزدوروں کی شہادت سے پہلے بھی سکیورٹی فورسز کے جوان اور شہری نشانہ بنتے رہے ہیں۔

علامہ افتخار حسین نقوی کا مزید کہنا تھا کہ ہزارہ برادری کے غم میں شریک ہونا اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنا قابل ستائش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں آنے کا مقصد یہاں کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا ہے، اس میں امن کے فروغ میں علماء کا کردار قابل ستائش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے انڈیا اسرائیل گٹھ جوڑ کو توڑنا ہوگا، یہودی اور اسرائیلی لابی انسانیت کے قتل عام میں ملوث ہیں، cمیں دہشت گردوں کے ساتھ ان کے سرپرستوں اور سہولت کاروں پر بھی ہاتھ ڈالنا ہوگا۔ اسرائیل اور انڈیا دونوں انسانیت کا قتل کر رہے ہیں اور دونوں نے پاکستان کو نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ افواج پاکستان کو بھی اسی گٹھ جوڑ کی سازشوں کا سامنا ہے۔ ہم پاک فوج کے شہداء کو بھی سلام پیش کرتے ہیں، جو کہ ہمارے محس ہیں اور جنہوں نے اپنی جان کی بازی لگا کر امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈی آئی خان میں تسلسل کے ساتھ کچھ واقعات پیش آرہے ہیں، جن پہ اداروں اور حکومت کو موثر ایکشن لینا چاہیئے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close