پاکستانی شیعہ خبریںمضامین

کوٹلی امام حسین (ع)، حکومتی پیشکش تشیع مطالبہ کیونکر

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)

تحریر: غلام ہانی رضا

میری کل متاع، سرمایہ، جمع پونجی ایک کنال زمین ہے۔ کچھ فراڈی عناصر نے اسے ہتھیانے کیلئے قانون کے ساتھ کبڈی کھیل کر اس زمین کی حیثیت اور ملکیت تبدیل کرنے کی کوشش کی اور اپنے چند لٹھ بردار بھی زمین کے ایک حصے پہ بٹھا دیئے۔ اس لاقانونیت کے خلاف میں نے جب آواز اٹھائی، اپنی زمین کی حقیقی قانونی حیثیت اور ملکیت کی بحالی کا مطالبہ کیا تو فراڈی عناصر نے اپنے اجداد کی سیاست کا سہارا لیتے ہوئے میرے ہی قبیلے کے چند افراد کو لالچ دیکر میرے ہی خلاف کھڑا کر دیا اور مجھے مشورہ دیا کہ اپنی ایک کنال زمین کا اصولی موقف چھوڑ کر تین مرلے زمین لے لو اور اسی پہ قناعت کرو۔ میرے انکار پہ مجھے لٹھ بردار مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، میرے قبیلے کے سستے افراد مجھے تین مرلے قبول کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ فراڈی پارٹی مجھے یہ پیش کش کر رہی کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے، لہذا ہم تین مرلے پہ آپ کو مضبوط دیوار تعمیر کرکے دیتے ہیں، تاکہ آپ اس تین مرلے میں محفوظ ہوکر بیٹھیں۔ مجھے مشورہ درکار ہے کہ مجھے یہ پیش کش قبول کر لینی چاہیئے یا اپنے حق کے حصول کیلئے ڈٹ جانا چاہیئے، قابض اور فراڈی عنصر سے یہ مطالبہ کرنا چاہیئے کہ اگر آپ میرے اتنے خیر خواہ ہیں تو میری ایک کنال زمین پہ چاردیواری تعمیر کرنے میں میری مدد کریں۔ اپنے لٹھ بردار بھی ہٹا لیں اور ملکیتی کاغذات میں کئے گئے فراڈ کو واپس کریں۔؟ یا پھر ان کی پیشکش قبول کر لینی چاہیئے۔؟َ

طویل تمہید کا مدعا یہ ہے کہ گنج شہداء، تصویر کربلا سمجھی جانے والی کوٹلی امام حسین (ع) (ڈیرہ اسماعیل خان) کی اراضی کا یہی حقیقی مقدمہ ہے۔ تین سو ستائیس کنال 9 مرلے زمین جو وقف امام حسین (ع) تھی۔ پی ٹی آئی حکومت سے تعلق رکھنے والے سیاستکاروں نے سرکلر روڈ کے لب پہ واقع اس قیمتی اراضی کو ہتھیانے کیلئے پہلے غیر قانونی طریقے سے اس اراضی کی قانونی حیثیت تبدیل کی۔ قانونی حیثیت اس کی یہ تھی کہ یہ زمین وقف امام حسین (ع) تھی، چنانچہ قانوناً اور شرعاً یہ زمین صرف اور صرف ان امور کیلئے قابل استعمال تھی کہ جو امور امام حسین (ع) اور ان کے پیغام کو عام کرنے سے متعلق ہیں۔ وہ امور کہ جو بالواسطہ یا بلاواسطہ کربلا سے متعلق ہیں۔ وہ تمام امور کہ جو یزید وقت کے خلاف قیام سے متعلق ہیں۔ وہ تمام امور کہ جو شہادت امام حسین (ع) کے بعد عزاداری کی صورت میں بیداری انسانیت کا باعث ہیں، تاہم حسین (ع) کے نام پہ وقف اراضی کا صحیح و جائز استعمال نہ ہی محکمہ اوقاف نے کیا اور نہ ہی تشیع جماعتوں نے اس جانب کوئی توجہ دی۔

وقف امام حسین (ع) اراضی کے ساتھ پہلی زیادتی تو محکمہ اوقاف نے یہ کی کہ یہ زمین اونے پونے داموں ٹھیکے پہ دی۔ رشوت، ملی بھگت سے یہاں ناجائز اور غیر قانونی تعمیرات سے نہ صرف چشم پوشی برتی بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی۔ یہاں تک کہ اس وقف شدہ اراضی پہ غیر قانونی اور ناجائز تعمیرات پہ مختلف سرکاری محکموں نے کاغذی کارروائی مکمل کئے بغیر بجلی، گیس اور پانی کے کنکشن تک دیئے۔ یعنی کوٹلی امام حسین (ع) کے ناجائز قابضین کو مکمل طور پر حکومتی آشیرباد حاصل تھی۔ اندھیر نگری اور چوپٹ راج کے تحت اسی وقف شدہ اراضی پہ سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت سے کمرشل تعمیرات کرکے وہاں مخصوص کاروباری سرگرمیوں کیلئے باقاعدہ این او سی جاری کئے گئے۔ کوئی یہ سوال پوچھنے کی جسارت نہیں کرسکتا کہ وقف امام حسین (ع) اراضی پہ کمرشل تعمیرات کا این او سی کس قانون کے تحت جاری کیا گیا۔ اگر ان کمرشل تعمیرات کیلئے محکمہ اوقاف نے زمین لیز پہ ہی دی تھی تو وقف امام حسین (ع) زمین جو کہ محکمہ اوقاف کے توسط سے لیز پہ دی گئی، اب اس لیز شدہ زمین کی وارثت کس قانون کے تحت بدلی جاسکتی ہے۔؟

تین سو ستائیس کنال اراضی میں سے تقریباً ایک سو کنال اراضی پہ ناجائز قبضہ اس وقت ہوا، جب یہ تمام اراضی محکمہ اوقاف کے انڈر میں تھی۔ پی ٹی آئی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی اچانک ہی محکمہ اوقاف نے اس اراضی کی قانونی حیثیت میں تبدیلی کرتے ہوئے اسے وقف امام حسین (ع) سے محکمہ اوقاف کی ملکیت میں لے لیا۔ جس کے خلاف مقام اہل تشیع برادری کے تحفظات اور احتجاج کے بعد ضلعی انتظامیہ نے یہ زمین محکمہ اوقاف سے خرید لی، یعنی مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق غیر قانونی اور ناجائز ملکیتی حیثیت کے انتقال کو واپس کرنے کے بجائے اس پہ ایک اور انتقال تھونپ دیا۔ ملکیت ضلعی حکومت کو دینے کے بعد حضرت امام حسین (ع) کو انہی کی اراضی پہ مزارع قرار دے دیا۔ حسین (ع) جیسی ہستی کو انہی کے نام پہ وقف اراضی پہ مزارع قرار دے دیا گیا، مگر کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کی جانب سے کوئی صدائے احتجاج بلند نہیں ہوئی۔

دوسری جانب ضلعی حکومت کی جانب سے اس خریداری کے ساتھ ہی پی ٹی آئی حکومت نے ڈی آئی خان کے تشیع پہ احسان عظیم کرتے ہوئے پیش کش کی کہ تین سو ستائیس کنال میں سے ایک سو انیس کنال (جس زمین پہ قبور، زیارات، گنج شہداء موجود ہے اور پہلے سے اہل تشیع برادری کے پاس ہے) کی چار دیواری تعمیر کی جائے جبکہ باقی نصف زمین پہ بعد میں بات ہوگی۔ اس ایک سو انیس کنال کی زمین پہ چار دیواری کی فوری تعمیر کیلئے حکومت نے فی الفور فنڈز بھی جاری کر دیئے۔ ایک سو انیس کنال اراضی پہ چار دیواری کی تعمیر کا معاملہ ڈی آئی خان کے اہل تشیع کا مطالبہ نہیں بلکہ حکومتی پیش کش تھی کہ تین سو ستائیس کنال میں سے ایک سو انیس کنال پہ اکتفا کریں۔ گذشتہ دنوں ڈی آئی خان سٹی کی ایک امام بارگاہ میں ایک اجلاس منعقد ہوا ہے، جس میں تشیع کمیونٹی کی نمائندگی کا دعویٰ رکھنے والے ان افراد نے شرکت کی ہے کہ جو پی ٹی آئی حکومت سے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ اس اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کوٹلی امام حسین (ع) کی ایک سو انیس کنال اراضی (جو پہلے سے تشیع کے تصرف میں ہے) پہ چاردیواری تعمیر کی جائے۔

واضح رہے کہ یہ وہی مطالبہ ہے کہ جو پیش کش کی صورت میں حکومت تشیع کمیونٹی کے سامنے کئی مرتبہ پیش کرچکی ہے۔ تاہم اسے قبول نہیں کیا گیا۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ جس چیز کی حکومت بار بار پیش کش کر رہی ہے۔ اجلاس کے شرکاء کو وہی پیش کش مطالبہ بنا کر پیش کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ بات اپنے اثاثوں کی ہو تو انہیں بڑھانے کا ہنر سبھی کو حسب ضرورت میسر ہوتا ہے، مگر جب بات وقف امام حسین (ع) املاک کی ہو تو سبھی بیشتر اتنے معصوم اور سادہ ہو جاتے ہیں کہ تین سو ستائیس کنال کے بجائے ایک سو انیس کنال کی قبولیت کا اعلان بھی مطالبے کی صورت کرتے ہیں۔ سمجھ سے یہ بھی بالاتر ہے کہ کوٹلی امام حسین (ع) کی اراضی کے معاملے پہ مذہبی جماعتیں اتنا نرم رویہ کیوں اپنائے ہوئے ہیں۔ ڈی آئی خان سے تعلق رکھنے والے ایک شہید کی بیٹی اپنے تعلیمی اخراجات کیلئے مختلف اداروں میں قرضے کی درخواستیں جمع کراچکی ہے، مگر مایوس ہے کہ کہیں سے کوئی مثبت ردعمل نہیں ملا، دوسری جانب سالانہ بنیادوں پہ سینکڑوں کنال اراضی کی خریداری کرنے والے محترم نے حال ہی میں یکمشت ادائیگی پہ ساڑھے چار کروڑ روپے کی زرعی اراضی خریدی ہے۔ دونوں کی شناخت ظاہر کرنے سے میں معذور ہوں۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close