مضامین

جوہری سائنسدان کی ٹارگٹ کلنگ اور ایران کی ممکنہ انتقامی کارروائی

بعض تجزیہ کار اس رائے کا اظہار کر رہے ہیں کہ چونکہ ایران کے جوہری سائنسدان شہید محسن فخری زادہ کی ٹارگٹ کلنگ میں اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم ملوث ہے، لہذا ایران اس مجرمانہ اور دہشت گردانہ اقدام کا جواب نہیں دے گا۔ یہ تجزیہ کار اپنی رائے کی دلیل پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شہید فخری زادہ کی ٹارگٹ کلنگ درحقیقت اسرائیل کا پھیلایا ہوا جال ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران اس جال میں پھنس کر جو بائیڈن کی سربراہی میں آئندہ امریکی حکومت سے جوہری معاہدہ منعقد ہونے کا موقع ضائع نہیں کرے گا۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تجزیہ اور رائے مکمل طور پر غلط اور حقیقت سے دور ہے، کیونکہ ایسے تجزیہ کاروں کی جانب سے پیش کیا جا رہا ہے، جنہوں نے اپنے تجزیوں کی بنیاد غلط قسم کے مفروضات پر استوار کر رکھی ہے۔

ایسا تجزیہ پیش کرنے والے تجزیہ کار بنیادی طور پر دو مفروضوں کے حامل ہیں۔ ان کا پہلا مفروضہ یہ ہے کہ اقوام عالم بلکہ پوری دنیا کی تقدیر امریکہ کے ہاتھ میں ہے اور دنیا میں ویسا ہی ہوتا ہے، جیسا امریکی حکمران ارادہ کرتے ہیں۔ ان کا دوسرا مفروضہ یہ ہے کہ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم دنیا کی ناقابل شکست طاقت ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس بھی دنیا کے دیگر ممالک کی طرح امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں پسپائی اختیار کرنے کے علاوہ کوئی چارہ موجود نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسا تجزیہ اور رائے پیش کرنے والے افراد ایرانی قوم اور لیڈران کو صحیح انداز میں پہچان نہیں پائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران منطق اور اداروں پر مبنی ملک ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران میں جو فیصلہ بھی کیا جاتا ہے، سب سے پہلے اس کا تمام پہلووں یعنی فوجی، سکیورٹی، سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے بھرپور جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ضروری حکمت عملی اور فنی اقدامات واضح کئے جاتے ہیں۔ ایران کے فیصلے مختلف پہلووں پر مبنی اور جامع ہوتے ہیں۔ ایران کے قومی اور ملکی سطح کے فیصلے ہرگز سادہ، سطحی اور جذبات پر مبنی نہیں ہوتے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شہید محسن فخری زادہ کی ٹارگٹ کلنگ کا جواب دینے کیلئے مناسب فیصلہ اختیار کیا جائے گا۔ ضروری نہیں یہ فیصلہ، جیسا کہ بعض ماہرین تصور کر رہے ہیں، حملے کے مقابلے میں حملہ اور وار کے مقابلے میں وار ہی ہو۔ ایران اس مجرمانہ اقدام کا جواب مختلف قسم کے نرم اور سخت اقدامات کی صورت میں دے سکتا ہے۔

ایران انتقامی کارروائی کے طور پر ایسے اقدامات انجام دے گا، جن کا نتیجہ امریکہ اور اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کیلئے زیادہ سے زیادہ نقصان کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ ایران کے یہ اقدامات مرحلہ وار اور تدریجی بھی ہوسکتے ہیں۔ ایران کی انتقامی کارروائی بہت سخت ہوگی اور اس مجرمانہ اقدام میں ملوث امریکی اور اسرائیلی حکمرانوں کو بھاری تاوان ادا کرنا پڑے گا۔ مستقبل میں جب بھی وہ ایسا گستاخانہ اقدام انجام دینے کا سوچیں گے تو انہیں اس سے پہلے ممکنہ بھیانک نتائج کے بارے میں ہزار بار سوچنا پڑے گا۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ایران کی انتقامی کارروائی پیچیدہ اور مرحلہ وار ہوگی تو ہمارا مقصود بہت واضح ہے۔ ایران کا جواب صرف بنجمن نیتن یاہو یا ڈونلڈ ٹرمپ تک محدود نہیں ہوگا بلکہ جو بائیڈن بھی اس کے اثرات محسوس کریں گے۔

ایران نے اپنی انتقامی کارروائی کا آغاز شہید محسن فخری زادہ کی ٹارگٹ کلنگ کے اگلے دن سے ہی کر دیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ نے ایک نیا قانون منظور کیا ہے، جس کے تحت ملک کی جوہری توانائی ایجنسی کو فردو جوہری تنصیبات میں جاری یورینیم کی افزودگی 20 فیصد کی سطح تک بڑھا دیئے جانے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ حکم لازم الاجرا ہے۔ مزید برآں، ایران کے اراکین پارلیمنٹ ایک اور بل کا بھی جائزہ لے رہے ہیں، جس میں حکومت کو این پی ٹی کے اضافی پروٹوکول پر عملدرآمد کرنے سے روک دیا جائے گا۔ یاد رہے ایران گذشتہ ایک عرصے سے رضاکارانہ طور پر این پی ٹی کے اس اضافی پروٹوکول کی پابندی میں مصروف ہے۔ اراکین پارلیمنٹ نے جوہری توانائی ایجنسی کو اراک ہیوی واٹر پلانٹ کو بھی دوبارہ چالو کرنے کا حکم دیا ہے۔

دوسری طرف عمل کے میدان میں بھی مناسب جواب ایک یقینی امر ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور بنجمن نیتن یاہو اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ایران وہ ملک ہے، جس نے بیس ہزار میٹر کی بلندی پر پرواز کرنے والے امریکہ کے جدید ترین ڈرون طیارے گلوبل ہاک کو اپنی سرحدوں میں داخل ہوتے ہی کامیابی سے مار گرایا تھا۔ ایران وہ ملک ہے، جس نے امریکہ اور برطانیہ کو جبل الطارق میں پکڑے جانے والے اپنے آئل ٹینکر کو آزاد کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ایران وہ ملک ہے، جس نے شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان کیا اور عراق میں امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈے "عین الاسد” کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنا ڈالا۔ ایران کا یہ اقدام دوسری عالمی جنگ کے بعد ایک منفرد فوجی اقدام تھا۔ لہذا اب بھی ٹرمپ اور نیتن یاہو کے اس مجرمانہ اقدام کو بے جواب نہیں چھوڑے گا۔
تحریر: منیب السائح

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also

Close
Back to top button
Close