پاکستانی شیعہ خبریںہفتہ کی اہم خبریں

پاراچنار، شہدائے پیواڑ کےچہلم کا عظیم الشان پروگرام

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) 23 اکتوبر کو جنگل میں بیدردی سے شہید ہونے والے پیواڑ کے 11 شہداء کی یاد میں 5 دسمبر بروز اتوار ان کا چہلم منایا گیا، جس میں کرم بھر کے علماء، فضلاء، تحریک حسینی اور انجمن حسینیہ کے نمائندوں، قومی عمائدین، بچوں، بوڑھوں، تنظیمی جوانوں، ایم این اے اور ایم پی اے کے نمائندگان، ایم پی اے سید اقبال میاں کے علاوہ کرم کے اہم لیڈران علامہ سید عابد الحسینی اور پیش امام علامہ فدا حسین مظاہری نے بھی شرکت کی۔ اجتماع سے تحریک حسینی کے سپریم لیڈر علامہ سید عابد الحسینی، مرکزی جامع مسجد پاراچنار کے پیش امام علامہ فدا حسین مظاہری، سیکریٹری انجمن حسینیہ حاجی سردار حسین، علامہ مزمل حسین، ایم پی اے سید اقبال میاں، ریٹائرڈ کیپٹن علی اکبر، علی زئی قوم کے مشر سابق کونسلر حاجی اصغر حسین اور دیگر نے خطاب کیا۔

علامہ فدا حسین مظاہری کا کہنا تھا کہ طوری بنگش اقوام محب وطن پاکستانی ہیں، پاکستان کے آئین و قانون کا پاس اور لحاظ رکھتے ہیں۔ ہم قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، جبکہ مخالف فریق قانون کی بالادستی کے مخالف ہیں اور حکومت بھی اس حوالے سے خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر اضلاع کی طرح کرم میں بھی اگر حکومت آئین اور قانون پاکستان اور ریونیو ریکارڈ کے مطابق اور بروقت فیصلہ کرتی تو کرم میں کبھی لڑائی جھگڑے کی نوبت نہ آتی، مگر چونکہ حکومت خود ایک فریق بنی بیٹھی ہے۔ لہذا کرم ایسے حادثات سے کبھی بھی چھٹکارا نہیں پائے گا۔

تحریک حسینی کے سربراہ علامہ سید عابد الحسینی نے کہا کہ عرصہ تیس سال سے ہمارے مابین موجود اختلافات کی وجہ سے ہمیں دوسرے درجے کی حیثیت دی جاچکی ہے۔ آج ہمارے اتحاد اور اتفاق کے مظاہرے نے مخالفین پر لرزہ طاری کر دیا ہے۔ چنانچہ اسی طرح متفق اور متحد رہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیواڑ اور کسی بھی مسئلے کے حل کے لئے قوم کا اتحاد ضروری ہے۔ قوم کے کسی فرد، کسی تنظیم اور کسی جرگہ ممبر کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قوم کو اعتماد میں لئے بغیر کسی سے مذاکرات کرے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کے بغیر نہ عابد حسینی کوئی قیمت رکھتا ہے، نہ کوئی اور۔ ہر مشر اور رہنماء کی قدر و قیمت اتنی ہی ہے، جتنی قوم نے اسے دی ہے، جبکہ قوم کے ساتھ خیانت کرنے والے کی یہاں کوئی ارزش نہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں پاراچنار، مدرسہ جعفریہ میں کرم بھر کے علمائے کرام کا اہم اجلاس

حاجی سردار حسین نے کہا کہ کسی کے حق پر قبضہ کرنے کی اجازت ہمارا مذہب اور ہمارے ائمہ اطہار ہمیں نہیں دیتے۔ چنانچہ کسی کا حق چھیننے کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ مگر یاد رکھیں کہ کسی کو اپنے حقوق سے کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مسئلہ کوئی مذہبی نہیں، یہ گیدو اور پیواڑ کا مسئلہ ہے۔ غیر وابستہ قبائل، خواہ شیعہ ہوں یا سنی، ان کو اس میں کودنے کا کوئی حق نہیں۔ تاہم یاد رکھیں کہ اس مسئلے میں کسی نے بھی مداخلت کی، تو ہم بھی گیدو کے بجائے اسی شرپسند کو بھرپور جواب دینگے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ڈرانے کی کوشش نہ کی جائے۔ موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہم نے اپنی کشتیاں جلا دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت اور مخالف فریق کی بہت سن لی، ان کے مطالبات کو تسلیم کیا، مگر حکومت نے کبھی ہمارا ایک بھی مطالبہ مخالفین سے نہیں منوایا۔

کونسلر اصغر حسین کا کہنا تھا کہ ہم نے جیل کاٹی، جیل میں بھی کبھی ہمارا موقف معلوم نہیں کیا گیا، بلکہ حکومت نے ہمیں مخالفین کے ماتحت رکھتے ہوئے، ان کے مطالبات پر ایک جگہ سے دوسری جگہ اور وہاں سے تیسری جگہ منتقل کیا گیا، جبکہ ہمارے ساتھ کسی کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پہاڑ اور جنگل ہمارے ہیں۔ ہم خود کو کسی کی اجازت کے پابند نہیں سمجھتے، امن تیگہ اتنا ہی دینگے، جتنے دن ہم لکڑی کاٹ سکیں گے۔ انہوں نے قومی مشران، انجمن اور تحریک سے اپیل کی کہ پہاڑ ہمارا ہے۔ اس پر ہمارے بندے شہید ہوگئے ہیں۔ لہذا جو بھی بات کرنی ہے، ہمیں اعتماد میں ضرور لیا جائے، ورنہ ہمارے اور آپ کے درمیان بدمزگی اور ناراضگی پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم حیران ہیں کہ ہم نے واضح پیغام دیا کہ ہمارا مسئلہ گیدو کے ساتھ ہے۔ باقی اقوام اور دیہات کے لوگ آزاد ہیں۔ راستہ ان کے لئے محفوظ ہے۔ مگر سمجھ میں نہیں آرہا کہ تری سرسرنگ والے کس بنیاد پر صدہ جا کر ہمارے خلاف جرگے اور پریس کانفرنس کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ لوگ گریبان میں دیکھیں کہ پیواڑ میں غنڈیخیل اور دوپرزئی قومیں بھی رہتی ہیں، جنہوں نے کبھی مدعی کا کردار ادا نہیں کیا۔ یہ لوگ ایک ذاتی دشمنی کو کیوں فرقہ وارانہ رنگ دے رہے ہیں۔ سابق سیکرٹری کیپٹن علی اکبر نے کہا کہ ہم مہذب قوم ہیں۔ کسی صورت میں کسی کا حق نہیں کھاتے، تاہم کسی کو اپنا حق کھانے کی اجازت بھی نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا ہم بطور قوم غنڈی خیل کے ایک ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ لہذا تری وغیرہ کو بھی فریق بننے کی بجائے ثالث کردار ادا کرنا چاہیئے۔ پروگرام کے آخر میں مولانا باقر علی حیدری نے مصائب امام حسین علیہ السلام پڑھ کر پروگرام کا اختتام کیا۔

رپورٹ: ایس این حسینی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button