مضامینہفتہ کی اہم خبریں

سانحہ سیالکوٹ، فکری دہشتگردی کا غماز

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سانحہ سیالکوٹ نے پوری پاکستانی قوم کے سر شرم سے جھکا دیئے ہیں۔ اس واقعہ میں صرف سری لنکن شہری پرانتھا کمارا ہی نہیں قتل ہوا، بلکہ پاکستانی ساکھ، عزت اور وقار کا خون ہوا ہے اور ملزمان نے ہماری عزت، وقار اور ساکھ کو نہ صرف قتل کیا بلکہ اسے زندہ نذر آتش بھی کر دیا ہے۔ اس واقعہ کا رخ تحریک لبیک کی جانب موڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کا مقصد ممکن ہے، تحریک لبیک کی ساکھ کو نقصان پہچانا ہو۔ تحریک لبیک کے حالیہ پُرتشد مارچ کے بعد کوئی بھی آسانی سے ٹی ایل پی کی جانب اُنگلی اٹھا سکتا ہے، لیکن زمینی حقائق کو نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ پرانتھا کمارا انتظامی عہدے پر فائز تھا۔ فیکٹریوں میں انتظامی معاملات کیلئے سختی کرنے کے واقعات عام ہیں۔ پرانتھا کمارا سے بھی ممکن ہے، ایسی ہی کوئی غلطی سرزد ہوئی ہو، اس نے ملزمان کو کسی غفلت پر ڈانٹ دیا ہو، جس پر ملزمان نے اس سے بدلہ لینے کیلئے اس راہ عمل کو آسان سمجھتے ہوئے مقتول پر توہین مذمت کا الزام عائد کر دیا۔

ملزمان کی گرفتاری سے قبل میڈیا سے گفتگو کو اگر سنیں تو ملزمان نے اس میں شیعہ اور سنی دونوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ملزمان کا کہنا تھا کہ مقتول پرانتھا کمارا نے لبیک یاحسینؑ اور دوردِ پاک کے پوسٹر پھاڑے اور کوڑے میں پھینک دیئے۔ ملزمان کے اس جملے میں ان کا ’’پلان‘‘ بے نقاب ہوتا ہے۔ کہ امام حسینؑ کے نام سے اہل تشیع مشتعل ہو جائیں گے اور درودِ پاک سے تمام شیعہ سنی طبقوں میں اشتعال آئے گا اور وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب بھی رہے۔ مشتعل ہجوم میں ہی اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، لوگوں نے جلتی لاش کو فریم میں لے کر سیلفیاں بنائیں۔ جیسے انہوں نے کسی ’’گستاخ‘‘ کو قتل نہیں بلکہ اسرائیل فتح کر لیا ہو۔ پھر لبیک یارسول اللہ کے نعرے لگائے گئے۔ معاملے کا رخ مذہب کی جانب موڑا گیا، تاکہ ان نعروں کی آڑ میں انہیں مذہبی پناہ بھی مل جائے۔

دونوں مرکزی ملزمان فرحان ادریس اور عثمان رشید شکل و صورت سے مذہبی نہیں لگتے۔ دونوں کی گفتگو سے بھی لگ رہا تھا کہ ان کا دین سے کتنا تعلق ہے، وہ تو آئمہ اور انبیاء اطہار کے نام بھی درست بیان نہیں کر پا رہے تھے۔ تو ایسے لوگ کیسے کسی مذہبی جماعت کے کارکن ہوسکتے ہیں؟ تحریک لبیک میں بھی ایسے کارکن موجود ہیں، جو اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شدت پسندی کی راہ اپناتے ہیں، مگر تحریک لبیک کی قیادت نے ہمیشہ سے شدت پسندی کی مذمت کی ہے۔ حالیہ واقعہ کے بعد تحریک لبیک کی قیادت کو سامنے آنا چاہیئے اور کھل کر ملزمان کے حوالے سے اپنا موقف دینا چاہیئے۔ یہ ٹی ایل پی کی چھتری تلے پناہ لینے کی کوشش ہے۔ اسلام رواداری کا مذہب ہے، جو برداشت کا سبق دیتا ہے، حالیہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ مولانا طارق جمیل نے بھی اس وقعے کی مذمت کی ہے۔ ٹویٹر پر انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ میں ناموسِ رسالت کی آڑ میں غیر ملکی کو زندہ جلا دینے کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محض الزام کی بنیاد پر قانون کو ہاتھ میں لینا اسلامی تعلیمات کیخلاف ہے، اسلام میں تشدد اور شدت پسندی کی کوئی جگہ نہیں، علمائے کرام انتہاء پسندی کو روکنے میں مثبت کردار ادا کریں۔

یہ خبر بھی پڑھیں عزاداروں پر بلاجواز مقدمات ،شیعہ علماء کونسل کے وفد کی سیکریٹری داخلہ سندھ سے ملاقات

وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی طاہر اشرفی تو پہلے دن سے واقعہ پر آنسو بہا رہے ہیں۔ انہوں نے تو سری لنکن حکومت، سری لنکن عوام اور مقتول پرانتھا کمارا کے لواحقین سے معافی بھی مانگی ہے۔ وزیراعظم اور آرمی چیف نے بھی ملزمان کو نشان عبرت بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ فیکٹری میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزمان کی نشاندہی کرکے اب تک 120 کے قریب ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ فیکٹری میں کام بند ہونے سے بیرونی آرڈر تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں، جس سے پاکستان کی عالمی کاروباری ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔ فیکٹری کی بندش سے دیہاڑی دار ملازمین کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوچکے ہیں۔ ان کی داد رسی کون کرے گا؟ ہمارے معاشرے میں قانون شکنی کے واقعات میں مسلسل اضافہ تشویشناک ہے۔ اس میں بنیادی فیکٹر ہمارا عدالتی نظام بھی ہے، جہاں انصاف ملتے ملتے بندہ قبر میں جا سوتا ہے، لیکن انصاف نہیں ملتا۔ ہمارا عدالتی نظام معذرت کیساتھ مجرم کو سپورٹ کرتا ہے۔ اسے فیور دیتا ہے۔ اس کیلئے فرار کی راہیں فراہم کرتا ہے۔ اگر عدالتی نظام موثر ہو تو لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ عدلیہ کے ذمہ داروں کو اس پر بھی دعوت غور ہے۔

جہاں تک مذہبی شدت پسندی کی بات ہے، تو یہ قائدین اور علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام میں جیو اور جینے دو کے اصول کی ترویج کریں۔ یہ ملک کسی ایک فرقہ کا نہیں، نہ کسی ایک مذہب کا ہے، بلکہ اس میں مسلمانوں کیساتھ ساتھ سکھ، ہندو، عیسائی، پارسی اور دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی برابر کے شہری ہیں۔ یہ پاکستان شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، سب کا مشترکہ ملک ہے۔ منبروں سے یہ آوازیں آنا کہ یہ صرف ہمارا ملک ہے اور ہمارے علاوہ کسی کو جینے کا کوئی حق نہیں، یہ شدت پسندی کے فروغ باعث ہے۔ ایسے افکار کی ترویج کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی۔ اس وقت سب سے زیادہ نفرت سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جا رہی ہے، جس میں ہمارے ہمسایہ ملک کی ایجنسی بہت زیادہ فعال ہے۔ ایف آئی اے متعدد بار انڈیا سے درجنوں پیجز کے ہینڈلرز کو بے نقاب کرچکی ہے۔ اس کے باوجود ’’سافٹ وار‘‘ جاری ہے، جو ہماری نسل کے ذہنوں کو پراگندہ کر رہی ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں سیالکوٹ سانحہ کا مرکزی ملزم گرفتار، دیگر کے خلاف مقدمہ درج

حکومت نے یکساں قومی نصاب کے نام پر جو ڈرامہ ناصبیت کے فروغ کیلئے شروع کیا ہے، اس کے نتائج بھی بھیانک نکلیں گے۔ نسل نوء کی تربیت کیلئے حکومت کیساتھ ساتھ علمائے کرام کو بھی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ علماء اپنے پیروکاروں کو دوسرے مکتب فکر کے مقدسات اور نظریات کا احترام سکھائیں۔ تب ہی جا کر پاکستان امن کا گہوارہ بنے گا۔ وزیراعظم فرما رہے ہیں کہ وہ خود معاملے کو دیکھ رہے ہیں، ذمہ داروں کو عبرتناک انجام سے دو چار ہونا ہوگا۔ جناب عمران خان، کیا ہی اچھا ہوتا کہ ایسی سوچ ہی نہ پنپتی کہ آپ کو یہ مذمتی بیان دینا پڑتا۔ اس کیلئے ہر ادارے اور اختیاراتی شخصیات کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی سوچ کے خاتمے کیلئے کردار ادا کریں۔ آپریشن ضرب عضب، آپریشن ردالفساد سمیت دیگر آپریشنوں سے دہشتگرد تو ختم ہوگئے، مگر دہشتگردی ختم نہیں ہوئی۔ اس وقت ہمارا ملک فکری دہشتگردی کا شکار ہے۔ فکری دہشتگردی کے خاتمے کیلئے حکومت کو آگے آنا ہوگا۔ جب تک فکری طور پر ذہنوں میں وسعت نہیں آئے گی، یہاں قتل بھی ہوتے رہیں گے اور لاشیں بھی جلتی رہیں گی۔

تحریر: تصور حسین شہزاد

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button