مضامین

داعش کے بارے میں شیخ الازہر کا دلیرانہ فتویٰ

تحریر: طاہر یاسین طاہر

 

ہم المیوں کے مارے لوگ ہیں، جذباتیت ہمارے رگ و پے میں ہے۔ جہاں ہمیں فائدہ دِکھتا ہے وہاں ہم دین کا سہارا لیتے ہیں اور جہاں گھاٹے کا سودا نظر آئے وہاں کافروں کی دھلائی کرتے ہیں۔ بار ہا لکھا، ایک بار اور لکھنے میں حرج ہی کیا ہے۔ سادہ لوح افراد مگر آج بھی طالبان کو ہی اسلام کا نمائندہ تصور کرتے ہیں۔ ظواہر پرست لوگ، داعش بارے ایک تفصیلی مقالہ لکھوں گا۔ کافی مطالعہ کر چکا ہوں سرِ دست مگر اس کی بر بریت اور وحشت ناکیوں پر عالمِ اسلام کی طرف سے جو ردعمل آیا اس پر بات کرتے ہیں یہ بات طے ہے کہ داعش اپنی وحشت ناکیوں میں ثانی نہیں رکھتی اور اسے مسلمانوں کا خون بہا کر ہی ’’ثواب‘‘ ملتا ہے۔ داعش کے امیر ابو بکر البغدادی کئی ایک بار کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل کے خلاف جہاد فرض نہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیوں؟ کیا لال مسجد سے اٹھ کر کسی نے پوچھا کہ اسرائیل کے خلاف جہاد فرض کیوں نہیں ہے؟ اڑتی اڑتی خبر تو یہ بھی ہے کہ مفتی اعظم سعودی عرب بھی یہ ارشاد فرما چکے ہیں کہ اسرائیل کے خلاف جہاد فرض نہیں ہے۔ میرا سوال مگر یہ ہے کہ پھر شام میں النصرہ اور القاعدہ کے بگڑے بچے داعش کے ذریعے کس کے خلاف جہاد کرایا جا رہا ہے؟ لاریب ہم جہاد کی اصل اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کو فراموش کرکے عالمی سازشی مگر ’’سیاسی‘‘ اسلام کو ہی اصل اسلام سمجھ بیٹھے ہیں۔ کھیل قطعی سیاسی ہے جس میں اپنی مرضی کے رنگ بھرنے کے لیے عالمی طاقتوں نے کبھی طالبان، کبھی جنداللہ، کبھی ملا عمر، کبھی گل بہادر، کبھی منگل باغ، کبھی حکیم اللہ محسود، کبھی شاہد اللہ شاہد اور کبھی احسان اللہ احسان کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ اسلام کی نمائندگی کریں۔ لاریب گاہے لال مسجد والے مولوی عبدالعزیز بھی عالمی مہرہ گیری کے کسی کونے میں بالکل فٹ آ جاتے ہیں مگر ان کی ’’پھرتیاں‘‘ انھیں چھٹی کا دودھ یاد دلا دیتی ہیں۔

مہذب قومیں طے شدہ باتوں پہ آئیں بائیں شائیں نہیں کیا کرتیں۔ بخدا آج بھی ایسی مذہبی و سیاسی جماعتیں اسمبلی کے اندر اور باہر موجود ہیں جو دل و جان سے چاہتی ہیں کہ پاکستان تحریکِ طالبان کے ساتھ ’’مذاکرات‘‘ کیے جائیں۔ کچھ کی منشاء ہے کہ کم از کم حقانی گروپ کو تو معاف کر دیا جائے۔ عالمی سیاسی منظر نامے پہ نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ افغانستان سے نیٹو کا انخلاء طالبان کی فتح نہیں بلکہ یہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی حکمتِ عملی تھی کہ دس سال تک افغانستان کو بیس کیمپ بنا کر مشرقِ وسطیٰ کے لیے کیا کرنا ہے۔ افغانی طالبان جنھیں عالمی برادری دہشت گرد قرار دے کر ان پر کئی بار حملہ آور ہو چکی ہے ان افغانی طالبان کے نمائندے کئی ایک بار چین کا دورہ کر چکے ہیں۔ قطر اس خطے میں طالبان کے لیے ’’بڑے‘‘ گھر کا کردار ادا کرنے کو بے چین ہے۔ کوئی دو سال ادھر افغانی طالبان، جو ملا عمر کو اپنا امیر المومنین مانتے ہیں انھوں نے امریکہ سے مذاکرات کے لیے قطر میں اپنا دفتر بنایا تھا۔ سادہ بات ہے کہ کوئی بھی دہشت گرد تنظیم یا گروہ کسی بھی ملک میں اس وقت تک اپنا دفتر قائم نہیں کر سکتا جب تک اس ملک کی مرضی و منشاء شامل نہ ہو۔ وہ مذاکرات مگر صرف اس وجہ سے نہ ہوسکے کہ طالبانی دفتر پر ’’جھنڈے‘‘ کا مسئلہ تھا۔ ہٹ دھرم اور دہشت گرد طالبان چاہتے تھے کہ مذاکراتی دفتر پر ان کا جھنڈا لہرائے۔ یہ بات قطر سمیت امریکہ اور دوسرے ’’ذمہ داروں‘‘ کو قبول نہ تھی۔ مذاکرات کا سلسلہ ادھر ہی رہا اور طالبان اپنا جھنڈا اٹھائے واپس چلے آئے۔ افغانی طالبان جھنیں اقوام متحدہ دہشت گرد قرار دے چکی ہے اور جنھوں نے عالمی دہشت گرد اسامہ بن لادن کی میزبانی کی تھی، اب پھر سے قطر کے شہر دوحہ میں مذاکرات پر آمادہ بلکہ بے چین ہیں۔

اپنے تئیں اسلام کی نمائندگی کرنے والے پتا نہیں کیوں امریکہ و نیٹو کے نمائندگان سے مذاکرات کو بے چین ہیں۔ میرا نقطہ نظر مگر واضح ہے، مذاکرات نہیں یہ ’’بھیک‘‘ ہے جو افغانی طالبان امریکہ سے مانگنے جا رہے ہیں کہ کسی طرح انھیں بھی افغان حکومت میں نمائندگی دلوائی جائے تا کہ ملا عمر کے ’’مریدین‘‘ کہہ سکیں کہ امریکہ کو افغانستان میں ’’اسلام کے مجاہدوں‘‘ نے شکستِ فاش سے دوچار کیا۔ بے شک امریکہ طالبان کو شکست دینے نہیں آیا تھا۔ اگر اس کا ارادہ ایسا ہوتا تو کم سے کم چھ ماہ میں وہ افغانستان کے ’’بہادر مجاہدوں‘‘ کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیتا۔ امریکہ ان طالبان کو بہت پہلے سے جانتا ہے۔ کھیل مگر کوئی اور ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے معدنیات پر قبضہ۔ کچھ ’’کملے‘‘ اس بات پہ شاداں ہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی نیٹو ممالک مل کر بھی ’’طالبان‘‘ کو شکست نہیں دے سکے۔ یہ ان کی بھول ہے۔ امریکہ اپنے مہروں کو بڑی فطانت کے ساتھ استعمال میں لاتا ہے۔ اسامہ بن لادن کئی عشروں تک امریکہ کے کام آتا رہا مگر اس کا انجام؟ ایک عبرت ناک موت۔ اب امریکہ نے نئی ضرورت ایجاد کی ہے۔ طالبان سے زیادہ وحشی، خطرناک اور مکمل تکفیری القاعدہ، النصرہ اور داعش کے ’’مجاہدین‘‘ کے ساتھ شام کو پھنسا کر فلسطینی مجاہدین کا دوسرا گھر بھی تباہ کیا جا رہا ہے۔

بے شک مسلم حکمران عالمی سیاسی و معاشی معاملات کو نہ سمجھ سکے۔ ہر ایک نے اپنے خاندان اور مسلک کے تحفظ کی خاطر عالمی بدمعاشیوں سے گٹھ جوڑ کیے رکھا۔ داعش نے عراق میں جو ظلم ڈھائے نھیں رقم کرتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا۔ شام و عراق میں داعش ن
ے انبیاء علی السلام اور ان کے اصحاب کے مزارات کی بے حرمتی کی۔ داعش کے صہیونی ایجنٹ امیر ابوبکر البغدادی تو کئی ماہ پہلے یہ کہہ چکا ہے کہ وہ خانہ کعبہ پر حملہ آور ہوں گے۔ آخر کیوں؟ اسلام کی سربلندی کے لیے؟ یا امریکی و اسرائیلی خوشنودی کے لیے؟ سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز الشیخ نے کہا ہے کہ داعش تنظیم کا اسلام اور اسلامی اقدار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سعودی اخبار کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے نوجوانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مذہب کے نام پر اس تنظیم میں شمولیت اختیار کرنے سے باز رہیں۔ کیونکہ مسلمانوں کا مذہب کے نام پر استحصال کیا جا سکتا ہے۔ سعودی مفتی اعظم نے تنظیم کی طرف سے بہیمانہ و وحشیانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو جلانے جیسے واقعات گناہِ کبیرہ ہیں۔ جبکہ مصر میں عالمِ اسلام کی شہرہ آفاق یونیورسٹی الازہر کے پرنسپل شیخ احمد الطیب کہا کہ ہم مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے خلاف عالمی سازش دیکھ رہے ہیں اور ان ہی سازشوں کے نتیجے میں عالمی دہشت گرد گروہ داعش بھی معرضِ وجود میں آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سازش کا ایک بڑا ہدف علاقے کے ممالک کو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرنا ہے تاکہ صہیونی حکومت کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔ قاہرہ سے جاری ہونے والے اپنے ایک بیان میں شیخ الازہر نے کہا کہ انتہا پسند گروہ جن میں داعش بھی شامل ہے دینی و فکری لحاظ سے منحرف ہو چکے ہیں اور یہ کوشش کر رہے ہیں کہ نوجوان نسل میں بھی اپنے افکار و نظریات رائج کر دیں۔ انھوں نے کہا کہ داعش کا مقصد مسلمان ممالک کی توانائیوں کو ختم کرنا ہے۔ شیخ الازہر کا مزید کہنا تھا کہ انتہا پسند تکفیری گروہ مشرقی اور مغربی ممالک میں جوانوں کے جذبات سے غلط فائدہ اٹھا کر انھیں گمراہ کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ایک منظم سازش کے ذریعے مغربی ممالک کے خفیہ ادارے مسلمان نوجوانون کو داعش میں شمولیت اختیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ داعش مگر ہے کیا؟ ایک دہشت گرد تکفیری مسلح گروہ جو مسلمانوں کے خون کا پیاسا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button