تازہ ترین

یکم صفر المظفرتاریخی تناظر میں

  • جمعرات, 11 اکتوبر 2018 12:38

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) 1.جنگ صفین
جنگ صفین پہلی صفر ۳۷ ہجری کو صفین کے میدان میں شروع ہوئی ۔ یہ جنگ حضرت علی (علیہ السلام) اور معاویہ کے درمیان ہوئی ۔ اس جنگ میں دونوں لشکروں میں سے بہت سے لوگ قتل ہوئے اور جنگ اس مرحلہ پرپہنچ گئی تھی کہ معاویہ شکست کھانے والا تھا، معاویہ کے لشکر نے عمروعاص کی تدبیر سے قرآن کو نیزوں پر بلند کردیا اور علی (علیہ السلام) کے لشکر کے سامنے کھڑے ہوکر کہنے لگے: ہمارے درمیان قرآن فیصلہ کرے گا۔
ان کی اس تدبیر کی وجہ سے حضرت علی (علیہ السلام) کے لشکر سے بہت سے افراد نے جنگ کرنے سے منع کردیا ، اچانک حضرت علی (علیہ السلام) کے لشکر سے اشعث بن قیس بیس ہزار افراد کے ساتھ نکلا اور کہنے لگا: شام والے صحیح کہتے ہیں، امام علی (علیہ السلام) نے فرمایا: چونکہ ان کی شکست اور موت نزدیک تھی اس لئے وہ دھوکہ اور فریب سے کام لے رہے ہیں اگر یہ قرآن پر ایمان رکھتے تو اتنے لوگوں کو قتل نہ کرواتے، لیکن اشعث کے اس لشکر کے بہت سے لوگ جن کی پیشانیوں پر سجدوں کے نشان اور بہت سے حافظ قرآن تھے ، کہنے لگے: یا علی یا تو قرآن کے فیصلہ پر راضی ہوجاؤ ، ورنہ ہم تمہیں قتل کردیں گے۔ امام علی نے فرمایا : ان کی مراد قرآن نہیں ہے انہوں نے قرآن کو بہانہ بنایا ہے، آپ نے ان کو جس قدر بھی نصیحت فرمائی انہوں نے قبول نہیں کیا، آخر آپ نے فرمایا: تمہیں اختیار ہے۔ معاویہ کے لشکر سے عمروعاص ، نمایندہ کے عنوان سے منتخب ہوا اور حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: ہمارے لشکر سے عبداللہ بن عباس اور اگر ان پر راضی نہیں ہو تو مالک اشتر نخعی نمایندہ کے طور جائے، اشعث اور حضرت علی کے لشکر کے قراء و حافظ نے کہا: ہم ان دونوں پر راضی نہیں ہیں اور ابوموسی اشعری نمایندہ کے لئے ٹھیک ہے، حضرت علی (علیہ السلام) ناراض ہوئے اور فرمایا: لا رآی لمن لا یطاع۔
ابو موسی اور عمرو عاص شام اور مدینہ کے درمیان ”دومة الجندل“ نامی قلعہ میں فیصلہ کرنے کے لئے جمع ہوئے ، عمرو بن عاس نے ابوموسی سے کہا : میں معاویہ کو خلافت سے عزل کرتا ہوں اور تم بھی علی کو خلافت سے عزل کردواور اگر مصلحت ہو تو عبداللہ بن عمر کو خلافت کیلئے منصوب کردیں اور اگر مصلحت نہ ہو تو اس کام کو شوری پر چھوڑ پر دیں۔
ابوموسی نے قبول کرلیا اور کہا: کل لوگوں کے درمیان حاضر ہو کر یہ بات ان کو سنا دیں گے۔
جب یہ لوگوں کے سامنے آئے تو ابو موسی اشعری نے عمرو عاص سے کہا : تو معاویہ کو خلافت سے عزل کر۔ عمرو عاص مکار نے کہا: میں کبھی بھی تم پر مقدم نہیں ہوسکتا، تو مجھ سے پہلے ایمان لایا اور ہجرت کی ۔ عبداللہ بن عباس نے کہا: اے ابوموسی ! اس مرد نے تجھے دھوکا دے رہا ہے لیکن ابوموسی نے ان کی بات کو نہیں سنا اور کہا : ائے لوگو! میں نے علی اور معاویہ کو خلافت سے عزل کردیا ، جو شخص خلافت کیلئے بہتر ہو اس کو خلافت کیلئے منصوب کرلو۔ اس نے انگوٹھی کو انگلی سے نکالا اور کہا : میں نے علی کو خلافت سے عزل کردیا۔ عمرو عاص نے کہا: اے لوگو! جو ابوموسی نے کہا تم نے سنا، میں بھی علی کو خلافت سے عزل کرتا ہوں اور معاویہ کو خلافت کے لئے منصوب کرتا ہوں کیونکہ وہ علی سے زیادہ خلافت کا مستحق ہے، پھر اس نے اپنی انگوٹھی کو پہن لیا اور کہا میں معاویہ کو منصوب کرتے وقت انگوٹھی کو پہن رہا ہوں ۔
ابوموسی ، امیر المومنین علیہ السلام کے اصحاب کے ڈر کی وجہ سے ناقہ پر سوار ہو ا اور مکہ چلا گیا اور خانہ کعبہ کے نزدیک رہنے لگا۔ حضرت امیر المومنین (علیہ السلام) کوفہ اور معاویہ ، شام واپس چلا گیا۔
بعض علماء نے کہا ہے: یہ جنگ ۱۱۰ دن تک جاری رہی اور بعض نے کہا ہے کہ ۱۴ مہینہ تک جاری رہی (۱) ۔
۱۔ حوادث الایام، ص ۵۵۔

2.اہل بیت (علیہم السلام) کا شام میں داخل ہونا
ابن زیاد کے حامیوں نے اس کے حکم سے پہلی صفر ۶۱ ہجری کو شہداء کے سروں کو نیزہ پر رکھ کر رسول خدا کے اہل بیت کے سامنے لے گئے اور ان کو شہر شہر اور جگہ جگہ ذلیل و رسوا کرنے کے لئے پھراتے رہے اور جب بھی کوئی عورت یا بچہ روتا تھا تو نیزہ دار اس کو نیزہ سے مارتا تھا یہاں تک کہ پہلی صفر کو شام پہنچے جب کہ شہداء کے سروں کو لوگوں کے سامنے تھے ان کو بارہ گھنٹے تک لوگوں کے درمیان کھڑا رکھا ۔ وہ روز بنی امیہ کے لئے عید اور آل رسول کے لئے غم کا دن اور ان کے شیعوں کے لئے غم و اندوھ کادن تھا (۱) ۔
۱۔ حوادث الایام، ص ۵۵۔

3.جناب زید بن علی بن الحسین کی شہادت
امام زین العابدین (علیہ السلام) کے گیارہ بیٹے تھے جن میں سے ایک زید بن علی تھے جو کہ فضل و کرم میں امام محمد باقر (علیہ السلام) کے بعد اپنے بھائیوں میں سب سے افضل تھے، آپ کی والدہ ”ام ولد“تھیں ، آپ عابد، زاہد، سخی اور بہت شجاع تھے، امام حسین (علیہ السلام) کے خون کا بدلہ لینے کےلئے آپ نے قیام کیا اور کوفہ کی طرف چلے گئے ، قراء قرآن اور اشراف نے آپ کی بیعت کر لی تھی۔
زید بن علی ، ہشام بن عبدالملک کی خلافت کے زمانہ میں اس کی طرف سے عراق میں منصوب یوسف بن عمر ثقفی سے جنگ کرنے کے لئے روانہ ہوئے، جنگ شروع ہونے کے بعد جناب زید کے بہت سے ساتھیوں نے آپ کی بیعت کو توڑ دیا اور فرار کر گئے ، اور زید بہت کم فوج کے ساتھ یوسف بن عمر سے جنگ کرنے لگے یہاں تک کہ رات ہوگئی اور دونوں لشکروں نے جنگ بند کردی۔
زید کا بدن زخمی تھا اور آپ کی پیشانی پر بھی تیر لگا ہوا تھا ۔ ایک طبیب کو بلا کر لائے تاکہ وہ تیر کو ان کی پیشانی سے نکالے ، جیسے ہی آپ کی پیشانی سے تیر نکالا گیا آپ کی روح عالم بقاء کی طرف پرواز کر گئی ، سپاہیوں نے آپ کی لاش کو نہر میں دفن کردیا اور آپ کی قبر کے اوپر گھانس پھونس ڈال کر اس پر پانی جاری کردیا اور طبیب سے کہا کہ کسی سے کچھ نہیں کہنا۔ صبح کو طبیب نے یوسف بن عمر کے پاس جا کر اس کو دفن کی جگہ بتادی۔ یوسف نے تین دن کے بعد قبر کو کھولا اور جنازہ کو باہر نکال کر ان کے سر کو جدا کرکے ہشام کے پاس بھیجا ۔ ہشام نے حکم دیا کہ زید کی لاش کو برہنہ کر کے دیوار پر لٹکا دیں،لہذا ان کو کوفہ میں برہنہ کرکے سولی پر لٹکا دیا۔ کچھ دنوں کے بعد ہشام نے یوسف کو حکم دیا کہ زید کے بدن کو جلا کر اس کی مٹی کو ہوا میں اڑا دو۔
شیخ مفید کے مطابق آپ کی شہادت ۱۲۱ ہجری میں ۴۲ سال کی عمر میں واقع ہوئی۔
قابل ذکر ہے کہ فرقہٴ زیدیہ اپنے آپ کو زید کا پیروکار بتاتے ہیں اور امام زین العابدین کے بعد ان کی امامت کے قائل ہیں اور ان کا یہ عقیدہ ہے کہ اس دنیا میں علوی اور فاطمیوں میں سے جو بھی عالم ،زاہد اور شجاع ہو اور تلوار سے جنگ کرے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دے وہ امام ہے (۱) ۔

۱۔ حوادث الایام، ص ۵۴۔

 

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.