عوام کا مطالبہ پارلیمنٹ ہے اختیارات نہیں، ہم قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی مانگتے ہیں، شیخ میرزا علی

  • منگل, 05 فروری 2019 18:22

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شیخ میرزا علی معروف عالم دین اور اسلامی تحریک گلگت بلتستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری ہیں، انکا تعلق ضلع نگر سے ہے، شیخ میرزا علی کا شمار گلگت بلتستان آئینی حقوق کی تحریک کے بانیوں میں ہوتا ہے، آج کل آئینی حقوق کی تحریک کے سلسلے میں اسلام آباد آئے ہوئے ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال اور جی بی کے مستقبل کے حوالے سے وفاقی ایوانوں میں بھرپور آواز اٹھانے کیلئے کمربستہ ہیں،شیعہ نیوزنے شیخ میرزا علی سے گلگت بلتستان کے بنیادی مسائل اور آئینی حقوق کی تحریک کے حوالے سے گفتگو کی ہے، جو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

شیعہ نیوز: سنا ہے آپکی علی امین گنڈا پور سے ملاقات میں آئینی حقوق کے حوالے سے بڑی پیشرفت ہوئی ہے، تفصیلات سے آگاہ کیجئے گا۔؟
شیخ میرزا علی: سپریم کورٹ سے عوام کو بہت سی توقعات وابستہ تھیں، اکہتر سال بعد امید پیدا ہوئی تھی کہ عدالت سے عوام کی امنگوں کے مطابق فیصلہ آئے گا۔ لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے سے سب کچھ ڈیلیٹ ہوگیا، ہماری حب الوطنی کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا، سپریم کورٹ بجائے عوام کے سوالوں کا مثبت جواب دے دیتی، اس نے عوام کی خواہشات کے برعکس جواب دیا، جس کے بعد عوام مایوس ہوگئے ہیں اور ان میں بددلی پھیلی ہوئی ہے، ہم نے اپنی پارٹی سطح پر وفاق میں بھرپور آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، اسی حوالے سے اسلامی تحریک کے صوبائی قائدین نے وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور سے ملاقات کی، انہیں تمام تر حقائق اور صورتحال سے آگاہ کیا۔ وفاقی وزیر کا موقف تھا کہ گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے معاملے پر صوبائی حکومت کے ساتھ کچھ معاملات ہیں، جیسے عدالتی اصلاحات، ملازمین کا کوٹہ اور مراعات و شرائط کے حوالے سے کچھ ابہام ہیں، جنہیں دور کیا جا رہا ہے۔

جس پر ہم نے انہیں بتایا کہ یہ حکومتی سطح کے معاملات ہیں، ہمارا مطالبہ اختیارات نہیں، ہم الحاق اور نمائندگی مانگتے ہیں، ہمارے بزرگوں نے الحاق پاکستان کا اعلان کیا تھا، کم از کم اس کی لاج رکھی جائے، تحریک انصاف کم از کم اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے معاملہ پارلیمنٹ میں پیش کرے، اگر پی ٹی آئی پارلیمنٹ کی طرف جاتی ہے تو پارٹی سرخرو ہوگی، عوام میں اس کی قدر بڑھے گی، دوسری جماعتیں مخالفت کرتی ہیں تو عوام خود ان سے نمٹ لیں گے، ہم نے یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ کا راستہ اپنانے پر آپ کامیاب ہو جائیں گے، حقیقی تبدیلی کا نشان بن جائیں گے، ورنہ عوام نالاں ہونگے۔ گنڈا پور نے یقین دلایا ہے کہ آئندہ ایک دو ہفتے کے اندر اندر معاملے کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

شیعہ نیوز: سپریم کورٹ نے بھی پارلیمنٹ کا آپشن کھلا چھوڑا ہے۔ اس آپشن کو کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔؟
شیخ میرزا علی: جی ہاں، اس حوالے سے عدالت کے فیصلے نے ہمارا کام آسان بنا دیا ہے، سپریم کورٹ نے اس حوالے سے ہمارے لیے کھلا راستہ چھوڑا ہے، اسی لیے ہم نے اس آپشن کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، گنڈا پور نے یقین دلایا ہے کہ معاملہ پارلیمنٹ کے سامنے رکھیں گے، جی بی کی تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیئے کہ اب وہ اپنے اپنے مرکزی قائدین کو پارلیمنٹ میں حمایت کیلئے قائل کریں اور ہر صورت کامیابی یقینی بنائیں۔

شیعہ نیوز: پارٹی کا لائحہ عمل اب کیا ہوگا؟ وفاق میں اور کس کیساتھ بات کر رہے ہیں۔؟
شیخ میرزا علی: ہماری کوشش ہے کہ صدر اور وزیراعظم سے ملیں اور انہیں حقائق سے آگاہ کریں۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد عوام میں جو بددلی پھیل گئی ہے، اس کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اب ہم نے بھرپور آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، مزید ملاقاتیں بھی ہونگی، صدر اور وزیراعظم سے بھی ملنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ گلگت بلتستان کے عوام کی آواز ان تک پہنچا سکیں، دیگر متعلقہ سٹیک ہولڈرز سے بھی ملاقاتیں ہونگی، ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں عوام میں جو مایوسی پھیلی ہوئی ہے، اس کے مدنظر ضرورت اس بات کی ہے کہ غیر یقینی کی موجودہ صورتحال کو خوشگوار بنانے پر توجہ دی جائے، زمانہ بدل چکا ہے، گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں لانا پاکستان کی ضرورت ہے، اس کو ہلکا نہ لیا جائے۔ ماضی میں روس کے خطرات کے پیش نظر پاکستان نے گلگت بلتستان کا ایک بڑا رقبہ چین کے حوالے کیا تھا، وہ دور کوئی اور تھا، آج سی پیک اور چین کا دور ہے، 47ء کا زمانہ نہیں رہا، وفاقی حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کی آڑ میں خود کو بری الزمہ قرار نہیں دے سکتی، بہترین طریقہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کی طرف جائیں، بل پیش کریں اور پھر اس طرح اپنی ذمہ داریوں سے بری الزمہ ہو جائیں۔

شیعہ نیوز: آئینی حقوق سے کیا مراد ہے؟ وفاقی حکومت دیگر صوبوں کے برابر اختیارات دینے سے انکاری تو نہیں۔؟
شیخ میرزا علی: ہمارا موقف بالکل واضح ہے ہم نے یہ وفاقی حکومت پر بھی واضح کر دیا ہے کہ ہمارا مطالبہ قومی دھارے میں شامل ہونے کا ہے، اختیارات نہیں ہے۔ ٹھیک ہے، مسئلہ کشمیر بھی ایک اہم فیکٹر ہے، لیکن اس کی آڑ میں آئین سے محروم نہیں رکھا جا سکتا، ہمیں مکمل نمائندگی چاہیئے، مبصر والی کسی بھی نمائندگی کو نہیں مانتے، ہمارا بنیادی مطالبہ پارلیمنٹ میں نمائندگی ہے، باقی اختیارات وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین انتظامی معاملہ ہے، عوام کا بنیادی مطالبہ اختیارات نہیں ہے بلکہ پارلیمنٹ ہے، ہمارے بزرگوں نے ایک قومی اور اسلامی جذبے کے تحت پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا، کم از کم اس کی لاج رکھی جائے، دیکھا جائے تو الحاق پاکستان ہم سے زیادہ ریاست کی ضرورت ہے، ملکی استحکام کیلئے گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل کرنا بہت ضروری ہے۔

شیعہ نیوز: کیا آپ عوامی ایکشن کمیٹی اور دیگر جماعتوں کی احتجاجی تحریک کا ساتھ دینگے۔؟
شیخ میرزا علی: میں گلگت بلتستان کے تمام سیاسی و مذہبی قائدین سے اپیل کرتا ہوں کہ اب ہمیں مسلکی اور سیاسی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، ہمارا مفاد اسی میں ہے کہ ہم ایک ہو جائیں، یہ کسی ایک فرد، پارٹی یا گروہ کا مسئلہ یا مطالبہ نہیں ہے، یہ ہم سب کا بنیادی مسئلہ ہے، ہم نے ہی اس مسئلے کو حل کرنا ہے۔

شیعہ نیوز: صوبائی حکومت کیجانب سے سپریم کورٹ میں نظرثانی اپیل دائر کرنے کے فیصلے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔؟
شیخ میرزا علی: جو لوگ سپریم کورٹ گئے تھے، دیکھنا یہ ہے کہ انہیں کیا ملا؟ بار کونسل اور دوسرے فریقین معاملے کو عدالت لے گئے تھے، اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ گلگت بلتستان کی تمام پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس بلایا جائے اور پھر سوچا جائے کہ ہم نے کیا کرنا ہے، ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ نظرثانی اپیل قوم کے مفاد میں ہے یا نہیں، کیا سپریم کورٹ سے ہی منزل مل سکتی ہے؟ تمام جماعتوں کے اتفاق رائے سے آگے کا لائحہ عمل اپنانا چاہیئے، جہاں تک صوبائی حکومت کا تعلق ہے تو نون لیگ کی صرف کوشش یہی ہے کہ آرڈر 2018ء کو بچایا جائے، حکومتی اپیل کے پیچھے سیاسی مفاد ہے، اجتماعی مفاد نہیں۔ ہمیں یکجہتی کی طرف آنا چاہیئے، باقی سپریم کورٹ کا آپشن ہم نے استعمال کرکے دیکھ لیا ہے۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.